ن لیگ کو اقتدار دینے کی ڈیل ندیم انجم اور نواز شریف نے طے کی

سینیئر صحافی جاوید چوہدری نے دعوی کیا ہے کہ 2024 کے الیکشن سے قبل مسلم لیگ (ن) کو اقتدار کی منتقلی کی پوری ڈیل تب کے ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم نے نواز شریف کے ساتھ لندن میں طے کر لی تھی۔ ان کے مطابق 2024 کے الیکشن، اسکے نتیجے میں بننے والی حکومت اور لندن پلان کے آرکیٹیکٹ بھی جنرل ندیم انجم ہی تھے۔

جاوید چوہدری نے اپنے سیاسی تجزیے میں دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف اظہار تشکر کے طور پر چاہتے تھے کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو ریٹائرمنٹ کے بعد نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر بنا دیا جائے، تاہم جنرل عاصم منیر کی اسٹیبلشمنٹ کو ندیم انجم شریف خاندان کے انتہائی قریب ہو جانے کے باعث قابل قبول نہیں رہے تھے، چنانچہ ان کی بجائے لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کو نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر کا اضافی چارج دے دیا گیا۔

جاوید چوہدری کے مطابق پی ٹی آئی کے 25 مئی 2022 کے لانگ مارچ کے موقع پر جنرل قمر باجوہ آرمی چیف تھے۔ باجوہ کی شخصیت میں کئی خوبیاں تھیں لیکن ان میں نرم دلی ہونے کی خامی بھی تھی جسکے باعث وہ سخت فیصلے لینے کے بعد اکثر انہیں ریورس کر دیا کرتے تھے۔ ان کے مطابق جنرل باجوہ نے نواز شریف کی حکومت ختم کرائی، لیکن پھر شریف خاندان کو رعایتیں بھی دیں، انہوں نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو احتساب کے نام پر انتقام کا نشانہ بنایا اور بالآخر دونوں جماعتوں کو دوبارہ اقتدار میں بھی آنے دیا۔ جاوید چوہدری کا کہنا ہے کہ اگر جنرل باجوہ چاہتے تو اپریل 2022 میں عمران حکومت نہ جاتی اور نہ ہی پی ڈی ایم کی حکومت قائم ہوتی، مگر انہوں نے عمران خان کی توقعات کے برخلاف ان کی حکومت نہیں بچائی۔ یہی ناراضی بعد میں عمران کی جانب سے جنرل باجوہ کو میر جعفر اور میر صادق قرار دینے کی صورت میں سامنے آئی۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ باجوہ کے خلاف عمران کی جانب سے پروپیگنڈا دراصل جنرل فیض حمید نے کروایا جن کی حکمتِ عملی یہ تھی کہ عمران کے جلسے، بیانات اور سوشل میڈیا کے ذریعے جنرل باجوہ کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ اسی دباؤ کے ماحول میں جنرل باجوہ نے جنرل ندیم انجم کے ذریعے لندن میں نواز شریف کو جلد الیکشن کا آپشن دے دیا۔ جاوید چوہدری کے مطابق مئی 2022 تک عمران خان کی جگہ وزیراعظم بننے والے شہباز شریف کے استعفے اور نئے الیکشن پر تقریباً مکمل اتفاق ہو چکا تھا، یہاں تک کہ شہباز شریف کی استعفے کی تقریر بھی تیار کر لی گئی تھی۔ عمران خان اور شاہ محمود قریشی بھی اس فارمولے پر راضی ہو چکے تھے، لیکن 22 مئی 2022 کو عمران نے اچانک 25 مئی کے حکومت مخالف لانگ مارچ کا اعلان کر دیا جو اس پوری ڈیل کو لے ڈوبا۔

جاوید چوہدری کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا کہ لانگ مارچ کا فیصلہ بشریٰ بی بی کا تھا جن کا خیال تھا کہ اگر اگست یا ستمبر 2022 میں الیکشن ہوتے ہیں تو پی ٹی آئی زیادہ نشستیں نہیں لے سکے گی، کیونکہ وقت کے ساتھ عمران کی مقبولیت اور بڑھنی تھی۔ جاوید کے مطابق جنرل باجوہ نے ان سے اپنی ملاقاتوں میں اعتراف کیا کہ عمران وزیر اعظم ہونے کے باوجود بشری بی بی کے زیر اثر تھے اور تمام فیصلے ان کی مشاورت سے کرتے تھے۔ جنرل باجوہ کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا جب انہیں لگا کہ شاید بشریٰ بی بی نے ان پر بھی کوئی جادو کیا ہوا ہے، عمران کے دوستوں نے تو ایک عامل تک بلوا لیا تھا جس نے یہ دعویٰ کیا کہ عمران پر واقعی کالا جادو ہو چکا ہے۔

جاوید چوہدری لکھتے ہیں کہ لانگ مارچ روکنے کے لیے آرمی چیف باجوہ نے کور کمانڈر پشاور کی حیثیت سے فیض حمید کو عمران سے بات کرنے کا حکم دیا مگر عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے عمران پر دباؤ ڈالنے کی پوری کوشش نہیں کی۔ نتیجتاً عمران نے لانگ مارچ کی کال واپس لینے سے انکار کر دیا۔ دوسری طرف نواز شریف بھی شہباز شریف کے استعفے سے پیچھے ہٹ گئے اور جلدی الیکشن کروانے کا فیصلہ بھی ریورس کر دیا جس سے بحران مزید سنگین ہو گیا۔ 25 مئی کے لانگ مارچ سے پہلے تمام بڑی جماعتوں کے اہم رہنماؤں کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے جی ایچ کیو لایا گیا جہاں جنرل باجوہ نے انہیں سخت پیغام دیا کہ اگر لانگ مارچ میں کوئی لاش گری تو فوج پورے سسٹم کو لپیٹ کر مارشل لا لگا دے گی۔

اسی وارننگ کے بعد شاہ محمود قریشی نے عمران کو سمجھایا اور لانگ مارچ رات گئے ختم کر دیا گیا۔ جاوید دعویٰ کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ اس نتیجے پر پہنچی کہ جب تک جنرل فیض حمید پشاور میں موجود ہیں، ملک میں استحکام نہیں آ سکے گا، چنانچہ انہیں 8 اگست 2022 کو بہاولپور ٹرانسفر کر دیا گیا۔ تاہم وہاں پہنچ کر بھی فیض نے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے نظام کو یرغمال بنائے رکھا۔ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کے وقت فیض حمید ایک بار پھر مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے، یہاں تک کہ فیض نے نواز شریف سے فون پر رابطہ کر کے ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگ لی، لیکن نواز شریف انہیں سپورٹ کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔

جاوید چوہدری کے مطابق نواز شریف کی نظر میں عاصم منیر سب سے مضبوط امیدوار تھے، کیونکہ انہیں 2019 میں ڈی جی آئی ایس آئی کے عہدے سے ہٹانے کے پیچھے وہی بشریٰ بی بی، فرح گوگی اور عثمان بزدار کا معاملہ تھا۔ اس کے علاوہ فیض حمید نے بھی اس معاملے میں کردار ادا کیا تھا لہذا نواز شریف سمجھتے تھے کہ جنرل عاصم منیر مستقبل میں عمران خان کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔ عاصم منیر کے آرمی چیف بننے کے بعد جنرل فیض حمید نے نومبر 2022 میں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے لی لیکن جاوید چوہدری کا دعویٰ ہے کہ وہ ریٹائرمنٹ کے بعد بھی عمران خان کے چیف ایڈوائزر بن کر متحرک رہے۔

فیض حمید نے عمران خان کو مشورہ دیا کہ جنرل عاصم منیر کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں، مگر عمران خان کی قانونی ٹیم اور صدر عارف علوی اس تجویز کے حق میں نہیں تھے۔ آخرکار بشریٰ بی بی نے بھی اسے مسترد کر دیا اور یہ آپشن ختم ہو گیا۔

جنرل قمر باجوہ کی عمران خان کے خلاف استعفے کی کہانی

جاوید چوہدری کے مطابق عمران کی احتجاجی حکمت عملی، آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالنے کا منصوبہ اور مختلف بزنس مینوں سے پی ٹی آئی کے لیے فنڈنگ حاصل کرنے کے فیصلے جنرل فیض حمید کے مشوروں کا نتیجہ تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ جنرل عاصم منیر کی تعیناتی کے بعد جنرل باجوہ نے دونوں کی صلح کرانے کی کوشش بھی کی۔ اس کے باوجود فیض حمید باز نہ آئے اور سیاسی مداخلت جاری رکھی۔ جاوید چوہدری دعویٰ کرتے ہیں کہ فوج کے ایجوٹینٹ جنرل نے بھی فیض حمید کو بلا کر سمجھایا، مگر انہوں نے اپنی حرکتوں سے باز آنے سے انکار کر دیا۔ پی ٹی آئی کی قیادت آج مانتی ہے کہ 9 مئی کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کے آرکیٹیکٹ فیض حمید تھے۔ انہی کے مشوروں پر مخصوص فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔

Back to top button