کیا پی ٹی آئی میں کھلی بغاوت ہونے والی ہے؟

عمران خان نے سانحہ 9 مئی کے بعد زیر عتاب اپنی جماعت تحریک انصاف عملا وکلاء کے حوالے کر دی ہے۔ پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات میں مائنس عمران خان کے بعد وکلا پارٹی میں فرنٹ لائن پر آگئے ہیں۔ جس کے بعد جہاں ایک طرف عمرانڈوز کو پارٹی کے خلاف غیر اعلانیہ پابندیوں میں نرمی کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ وہیں دوسری طرف پارٹی کے دیرینہ کارکنان اور قائدین نظر انداز ہونے کا شکوہ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں۔بیرسٹر گوہر علی خان کے پارٹی چیئرمین بننے کے بعد ان خبروں کی تصدیق ہو رہی ہے کہ عام انتخابات میں ٹکٹوں کی تقسیم میں وکلا کو ترجیح دی جارہی ہے۔ جس پر پہلے سے ہی ٹکٹ کی آس لگا کر بیٹھے قربانی دینے والے رہنما مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ٹکٹوں کی تقسیم میں پارٹی کارکنان کو نظر انداز کرنے پر تحریک انصاف میں کھلی بغاوت ہو سکتی ہے جس کے بعد بچی کھچی پارٹی بھی تیتر بیتر ہو جائے گی۔
پی ٹی آئی حلقوں کے مطابق اس وقت ان کی ترجیح پارٹی کو مشکل حالات سے نکالنا ہے اور وکلا کو فرنٹ لائن پر لانا بھی پارٹی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے۔تحریک انصاف پر کافی مشکل وقت ہے لیکن دباؤ اور سختیوں کے باوجود بھی پارٹی رہنما ڈٹے ہوئے ہیں اور قربانی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سیاست دان آسان ہدف ہیں اور انہیں کرپشن، توڑ پھوڑ اور قانون کی خلاف ورزی کے نام پر ایف آئی آر درج کرکے گرفتار کیا جا رہا ہے جبکہ ہمدردیاں تبدیل کرنے کے لیے بھی دباؤ ڈالا جا رہا ہے‘۔سیاسی قائدین اور سابق اراکین روپوش ہیں جس کی وجہ سے وکلا کو اوپن اسپیس مل گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وکلا کو آسانی سے کیسز میں پھنسایا نہیں جا سکتا ہے اور اس وقت تحریک انصاف کو بھی ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو پارٹی کو آگے لے کر جائیں۔
اس حوالے سے انہوں نے کچھ تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے دیرینہ اور قربانی دینے والے رہنما اور کارکنان منظر عام سے غائب ہیں جبکہ پارٹی چیئرمین ایک وکیل ہیں۔ خان صاحب نے بھی وکلا کو ترجیح دی ہے لہٰذا ٹکٹوں کی تقسیم میں بھی وکلا آگے ہوں گے اب ان حالات میں ورکرزکو کون پوچھتا ہے۔ سب کو پتا ہے کہ تحریک انصاف میں الیکٹبلز بہت کم ہیں اور اصل ووٹ عمران خان کا ہی ہے۔ انہوں نے مزید کہاکہ اگر خان کھمبے کو بھی کھڑا کر دیں تو اسے بھی ووٹ مل جائے گا اب اگر کوئی وکیل ہوا تو وہ بھی جیت جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ دیکھا جائے تو یہ ناانصافی ہے کہ ٹکٹ وکلا کو دیا جائے یا انہیں ترجیح دی جائے کیونکہ پارٹی کا اصل اثاثہ ورکرز ہیں جو مشکل وقت میں ڈٹ کر کھڑے ہیں۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ نئے چیئرمین آنے کے بعد تحریک انصاف کے لیے حالات کچھ حد تک سازگار ہوجائیں گے۔ ’اگر دیکھا جائے تحریک انصاف پر جو غیر اعلانیہ پابندیاں تھیں ان میں نرمی آرہی ہے۔ ان پابندیوں میں 20 فیصد تک کمی آچکی ہے‘۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تحریک انصاف میں اس وقت وکلا کو حفاظتی شیلڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور وہ اس وقت پارٹی کی مجبوری ہیں۔
بعض دیگر تجزیہ کاروں کے مطابق وکیل سیاست دان نہیں ہوتے۔ اسی لئے عمران خان کی اس اس حکمت عملی سے دیرینہ کارکن بھی ناخوش ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ٹکٹ سیاسی لوگوں کا حق ہے جو قربانی دیتے ہیں اور سخت و مشکل حالات میں پارٹی کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں لیکن ٹکٹ کسی غیر سیاسی امیدوار کو دیا گیا تو اختلافات ہوں گے۔تجزیہ کاروں کے مطابق عام تاثر ہے کہ وکیل ڈرتے نہیں اور ان کے سامنے حکومت بھی بے بس ہوتی ہے لیکن اس وقت حالات مختلف ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ جب اجتماعی مسئلہ ہو تو وکلا متحد ہوتے ہیں لیکن یہ تو صرف ایک پارٹی کی بات ہے لہٰذا چند وکلا کو جمع کرکے مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ افتخار چوہدری بحالی تحریک اور موجودہ حالات کو ایک نظر سے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ اس وقت وکلا تحریک کے ساتھ تمام بڑی سیاسی جماعتیں تھیں اور سیاسی قائدین بھی فرنٹ پر تھے۔ وکلا کو فرنٹ پر لانے سے مشکلات کم ہو یا نہ ہو لیکن اندورنی اختلافات ضرور پیدا ہوجائیں گے جو ان حالات میں پارٹی کے لیے اچھی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر گوہر چیئرمین تو بن گئے ہیں لیکن ان کے لیے پارٹی کو لیڈ کرنا اتنا آسان نہیں ہوگا۔ تاہم اب ایسا لگ رہا ہے کہ تحریک انصاف کو الیکشن میں حصہ لینے دیا جا رہا ہے اور نئے چئیرمین کے بعد حالات بہتر ہوں گے۔
تاہم تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا ووٹ بینک اور مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سابق اراکین مشکل حالات کے باوجود بھی ڈٹ کر پارٹی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ان کی نظریں پارٹی ٹکٹ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق اراکین ٹکٹوں کے حوالے سے پریشان ہیں کہ ٹکٹ کون اور کسے دے گا اور یہ سوالات ان کے ذہنوں میں ہیں اور پرویز خٹک بھی ان کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ لگتا یہی ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں نظر انداز ہونے والے رہنما الیکشن
کیا عدالت باجوہ اور امریکی سفارتکار کو طلب کر سکتی ہے؟
سے پہلے پی ٹی آئی سے اپنی راہیں جدا کر لیں گے۔
