پی ٹی آئی کی قیادت مولانا فضل الرحمان کو ساتھ ملانے میں ناکام

تحریک انصاف کی قیادت کی جانب سے حکومت کیخلاف اپنے احتجاجی دھرنوں کی ناکامی کے بعد اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد بنانے کی کوششیں بھی کامیاب ہوتی دکھائی نہیں دیتی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سٹریٹ پاور رکھنے والے مولانا فضل الرحمن پی ٹی آئی کے قابو میں نہیں آ رہے۔
تحریک انصاف نے پچھلے دنوں حکومت مخالف سیاسی اتحاد بنانے کی کوششوں کے سلسلے میں اسلام آباد میں ایک کانفرنس بھی منعقد کی جسے "قومی کانفرنس’ کا نام دیا گیا۔ کانفرنس کے دوران ملک میں جاری سیاسی، معاشی اور سماجی بحران کا ذمہ دار 2024 کے متنازع انتخابات کو قرار دیتے ہوئے آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ کیا گیا ۔ دو روزہ کانفرنس کی میزبانی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کی۔
یاد رہے کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات میں مشکلات کے بعد تحریک انصاف نے دیگر سیاسی جماعتوں اور شخصیات کے ساتھ مل کرنیا اتحاد بنانے کی کوششیں تیز کر دی تھیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو ایجنڈے پر اتفاق اور متفقہ حکمت عملی کی تشکیل میں وقت لگے گا۔ لیکن قومی کانفرنس اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ تجزیہ نگار سلمان غنی کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی کو یہ احساس ہوا ہے کہ وہ تنہا اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کو مجبور نہیں کرسکتی ۔لہٰذا و ہ اب ایک سیاسی اتحاد کی طرف بڑھنا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی کانفرنس کے نتیجے میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے کچھ نکات پر اتفاق کیا ہے تاہم اس سے پی ٹی آئی کا مقصد پورا نہیں ہوتا ہے۔
سلمان غنی کے بقول حزب اختلاف کے بعض رہنماؤں نے عمران خان کی جانب سے آرمی چیف کو لکھے گئےخطوط پر تحفظات ظاہر کیے اور شاہد خاقان عباسی تو اعلانیہ کہہ چکے ہیں کہ وہ حکومت کے خلاف کوئی تحریک چلانے نہیں جارہے ہیں۔ سلمان کہتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان بھی ابھی تک پی ٹی آئی کی جانب سے کی گئی تمام تر کوششوں کے باوجود ایک فاصلہ رکھے ہوئے ہیں، انہوں نے تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے عوض کچھ مطالبات کر رکھے ہیں جنہیں تسلیم کرنا عمران خان کے لیے کافی مشکل نظر اتا ہے۔ ایسے میں مستقبل قریب میں حزب اختلاف کا اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔
اس حوالے سے سیاسی تجزیہ کار پروفیسر حسن عسکری کہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں ایک متفقہ ایجنڈے کی تلاش میں ہیں تاکہ کم سے کم نکات پر اتفاق کر کے سیاسی طور ر آگے بڑھا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایجنڈا اور حکمتِ عملی پر اتفاق رائے کے لیے حزبِ اختلاف کی جماعتوں کو مزید وقت چاہیے ہو گا تاکہ وہ ایسی نشستوں کے ذریعے آپسی ہم آہنگی لا سکیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حزب اختلاف کا گرینڈ الائنس ابھی دور دکھائی دیتا ہے کیوں کہ مولانا فضل الرحمان نے اپنے آپشنز کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ حسن عسکری کے بقول مولانا فضل الرحمان کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ اس وقت تک حزب اختلاف کے اتحاد سے فاصلہ رکھیں جب تک ان کے تمام تحفظات دور نہیں ہو جاتے اور انہیں یقین نہیں ہو جاتا کہ یہ اتحاد ان کے سیاسی مطالبات کو پورا کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے حال ہی میں حکومت سے 26 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے مدارس سے متعلق قانون منظور کروایا ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ صوبائی اسمبلیاں بھی اسے منظور کریں جو کہ حکومت کی مدد سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔ اپنی ‘قومی کانفرنس’ سے متعلق اپوزیشن کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے اسے روکنے کی کوششیں بھی کی گئیں۔ شاہد خاقان عباسی کے بقول حکومتی رکاوٹوں کی وجہ سے کانفرنس کے مقام کو تین مرتبہ تبدیل کرنا پڑا۔ کانفرنس کے دوسرے دن عاصمہ جہانگیر آڈیٹوریم کو بند کر دیا گیا تھا جس کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے احتجاجاً ہوٹل کی لابی میں کانفرنس کا انعقاد کیا۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ انہیں مستقبل قریب میں کوئی بڑا حکومت مخالف سیاسی اتحاد بنتا دکھائی نہیں دیتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں اپوزیشن اتحاد کسی اشارے پر ہی بنا کرتے تھے لیکن موجودہ حالات میں ایسا کوئی اشارہ آتا دکھائی نہیں دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کے درمیان سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ ہے کہ باقی جماعتیں حکومت کو ہدف تنقید بنانا چاہتی ہیں جب کہ عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی فوج اور اس کی قیادت کو اپنے نشانے پر رکھے ہوئے ہے۔ ان کے بقول پی ٹی آئی اپنے آپشنز آزما چکی ہے اور اب اس کے پاس زیادہ کچھ کرنے کو نہیں، سوائے اس کے کہ مولانا فضل الرحمان تحریک انصاف کے ساتھ ہاتھ ملا کر اسے سڑکوں پر عوامی طاقت فراہم کریں۔ لیکن انکا کہنا تھا کہ عوام میں حکومتی ساکھ حوصلہ افزا نہ ہونے کے باوجود موجودہ حکومت کو مستقبل قریب میں کوئی خطرہ نظر نہیں آتا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ اصل فیصلہ ساز یعنی اسٹیبلشمنٹ اور شہباز شریف کی حکومت ایک ہی پیج پر ہیں۔
