انسان بننے کا وعدہ کرنے والے PTI اراکین کی اسمبلی میں دوبارہ ہلڑ بازی

سپیکر پنجاب اسمبلی کے ساتھ ایوان میں ڈسپلن برقرار رکھنے کا معاہدہ کرنے کے بعد بحال ہونے والے پی ٹی آئی کے یوتھیے اراکین اسمبلی نے پہلے ہی ہفتے معاہدہ توڑ دیا۔ معاہدے کے برعکس پی ٹی آئی اراکین نے نہ صرف پنجاب اسمبلی کے ایوان میں عمران خان اور اپوزیشن لیڈر کے پوسٹر لہرا دئیے بلکہ نعرے بازی اور دھکم پیل سے ایک بار پھر ہاؤس کو اکھاڑے میں تبدیل کر دیا۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بدتمیز اراکین، جنہیں ہلڑ بازی اور اسمبلی قواعد کی خلاف ورزی پر معطل کرتے ہوئے  ایوان سے باہر نکالا گیا تھا، تاہم بعد ازاں انھیں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات اور ایک تحریری معاہدے کے تحت ایوان میں واپسی کی اجازت دی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کی جانب سے اس معاہدے میں نظم و ضبط، شائستگی، اور ایوان کے تقدس کو برقرار رکھنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ تاہم جیسے ہی ان اراکین نے اسمبلی میں قدم رکھا، دوبارہ وہی رویہ اپناتے ہوئے نعرے بازی شروع کر دی جس کی بنیاد پر ان پر پابندیاں لگائی گئی تھیں۔ یوتھیے اراکین نے نہ صرف اسمبلی کارروائی کو بارہا سبوتاژ اور سپیکر کی رولنگ کو چیلنج کیا بلکہ حزبِ اقتدار کی جماعتوں کے ساتھ محاذ آرائی کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کر دیا جس کے بعد ایک بار پھر پنجاب اسمبلی کا ایوان مچھلی منڈی بن گیا۔ذرائع کے مطابق پنجاب اسمبلی میں جب پی ٹی آئی اراکین نے سزا یافتہ پارٹی رہنماؤں کے پوسٹر لہرائے تو حکومتی اراکین نے اعتراض اٹھایا کہ کسی سزا یافتہ شخص کی تصویر ایوان میں لانے کی اجازت نہیں۔ جس پر یوتھیے اراکین نے اپنے طرز عمل پر اظہار شرمندگی کی بجائے نعرے بازی شروع کر دی جس سے ایوان کا ماحول مزید گرم ہو گیا۔

یادر ہے کہ پی ٹی آئی کے 26 اراکین اسمبلی کو ایوان میں ہلڑ بازی، آئین و قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر معطل کردیا گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے تمام پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی کے اجلاس میں پی ٹی آئی نے قواعد وضوابط کی پاسداری پر اتفاق اور عہد کیا تھا۔ جس پرتحریک انصاف کے معطل اراکین کو بحال کر دیا گیا تھا۔ اس روز حکومتی رویے کو اپوزیشن کی طرف سے بھی سراہا گیا تھا اور ایوان کے معاملات یکساں طور پر قواعد کے تحت چلانے کیلئے تجدید عہد کیا گیا تھا۔ وہ پہلا دن تھا جب اپوزیشن، بانی پی ٹی آئی کے بینرز و پوسٹرز اور رہائی کے نعروں کے بغیر ایوان میں داخل ہوئی۔ جبکہ اسی روز پنجاب اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان کو انسداد دہشت گردی کی عدالت سے نومئی کے کیس میں سزا سنائی جا چکی تھی۔ اپوزیشن نے اس پر تقاریر میں احتجاج تو کیا تھا لیکن نعرے بازی نہیں کی تھی۔ اجلاس میں تین روز کے وقفے کے دوران ہی نومئی کے واقعات ہی میں سابق وزرا ڈ اکٹر یاسمین راشد، میاں محمود الرشید سمیت دیگر کارکنوں کو سزائیں بھی سنائی گئیں جس پر جمعہ کے روز اسمبلی اجلاس کے دوران پی ٹی آئی کے اراکین ایک بار پھر ایوان میں پوسٹروں کے ساتھ داخل ہوئے اور اپنے ہی عہد کی پاسداری نظر انداز کردی۔ پی ٹی آئی اراکین نے ایوان میں اپنے رہنماؤں اور ساتھیوں کو سنائی جانے والی سزاؤں پر تنقید کی اور ساتھ ہی حکومت کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ بعد ازاں اپوزیشن اراکین قائد حزب اختلاف سمیت کارکنوں کی گرفتاریوں وسزاؤں کیخلاف نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے۔

پنجاب میں مون سون کی نئی لہر تیار، مری اور گلیات میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ

تاہم سیاسی تجزیہ کار اور مبصرین پی ٹی آئی کے اس طرز عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے دکھائی دیتے ہیں ناقدین کے بقول جمہوریت میں اصولوں، ضابطوں اور معاہدات کی پاسداری وہ ستون ہیں جن پر پارلیمانی نظام کی ساکھ کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب منتخب نمائندے ہی ان اصولوں کو پس پشت ڈالنے لگیں، تو سوال صرف ایک جماعت یا ایوان کی کارکردگی کا نہیں رہتا، بلکہ پورے جمہوری نظام کی شفافیت اور سنجیدگی مشکوک ہو جاتی ہے۔سپیکر پنجاب اسمبلی کے ساتھ ایوان میں ڈسپلن برقرار رکھنے کے معاہدے کے بعد بحال کیے جانے والے پی ٹی آئی اراکین اسمبلی نے محض پہلے ہی ہفتے اپنے وعدے کو توڑ دیا ہے، جو تحریک انصاف کی سیاسی عدم سنجیدگی اور ادارہ جاتی بے توقیری کی واضح علامت بن چکا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول پی ٹی آئی اراکین اسمبلی کا "یہ رویہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پی ٹی آئی کے چند حلقے اب بھی سیاسی عمل کو ایک سنجیدہ عمل کے بجائے اسٹیج شو کے طور پر لے رہے ہیں۔ حالانکہ معاہدے کی خلاف ورزی صرف ایک سیاسی غلطی نہیں، بلکہ ایوان کی ساکھ کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔” ان کا مزید کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا "یہ رویہ نہ صرف آئینی اصولوں کے منافی ہے بلکہ پارلیمانی عمل کے مستقبل کے لیے خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ اگر ایک بار معاہدہ توڑنے پر کوئی مؤثر کارروائی نہ کی گئی تو ایوان میں نظم و ضبط کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔” مبصرین کے مطابق ایوانِ بالا یا زیریں کسی بھی جمہوری ملک میں قانون سازی اور پالیسی سازی کا مرکز ہوتے ہیں۔ اگر ان ایوانوں کا ماحول شور شرابے، بدنظمی اور قواعد شکنی سے آلودہ ہو جائے تو نہ صرف قانون سازی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوام کا جمہوری عمل سے اعتماد بھی اٹھنے لگتا ہے۔پی ٹی آئی اراکین کو سمجھنا چاہیے کہ عوامی نمائندگی کا مطلب صرف نعرے بازی نہیں، بلکہ اداروں کا احترام اور آئینی حدود کی پاسداری بھی لازم ہے۔

Back to top button