یوتھیے اور ججز فوج کے خلاف ایک پیج پر اکٹھے کیوں ہو گئے؟

اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے تحریک انصاف کی جانب سے مسلسل مزاحمت جاری ہے جبکہ مفاہمت کا راستہ دور دور تک دکھائی نہیں دیتا ۔ عمران خان کی مقدمات سے بریت ہو یا پی ٹی آئی کے صدر چودھری پرویز الٰہی کی ضمانت پر رہائی، تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات روف حسن پہ حملے کے بعد حماد اظہر کا منظر عام پہ آنا ہو یا پھر پی ٹی آئی کا مولانا کو منا نا، دکھائی یہی دیتا ہے کہ عمران خان کی جارح مزاجی کا ابھی تک پی ٹی ائی کو فائدہ ہی ہوا ہے جس کی وجہ سے ہر گزرت دن کے ساتھ عمرانڈوز کی جارحیت اور ریاستی اداروں پر الزام تراشیاں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی دکھائی دیتی ہیں۔
چینل 24 کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک جانب تحریک انصاف مزاحمتی بیانیہ اختیار کئے ہوئے اور اس بیانئے میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت بڑھا رہی ہے تو دوسری جانب عدالتوں سے ریلیف حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہے۔ جہاں عمران خان توشہ خانہ کیس میں سزا معطلی، ایک سو نوے ملین پاؤنڈ میں ریلیف اور ۹ مئی کے کیسز میں ضمانت حاصل کرنے میں کامیاب ہو چکے ہیں وہیں دوسری جانب ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت نے عمران خان اور بشری بی بی کیخلاف عدت میں نکاح کیس کی اپیلوں پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا ہے جو انتیس مئی کو سنایا جائے گا جبکہ سائفر کیس بھی بانی پی ٹی ائی کی درخواست پر فیصلہ اپنے حتمی مراحل میں داخل ہوچکا ہے۔
دوسری جانب بانی پی ٹی آئی نے روپوش رہنماوں کو روپوشی ختم کرکے عملی سیاست میں متحرک ہونے اور احتجاجی تحریک میں شمولیت کی ہدایات کر دی ہے ہیں شائد یہی وجہ ہے کہ حماد اظہر منظرعامپر آ چکے ہین جبکہ آنے والے دنوں میں اسلم اقبال اور مراد سعید کے سامنے آن کی بھی اطلاعات زیر گردش ہیں۔ تاہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی جارح مزاجی اور مزاحمتی بیانئے سے حاصل کیا کرنا چاہ رہی ہے کیونکہ اسی جارح مزاجی نے پی ٹی ائی کو ۹ مئی سے دوچار کیا جس کے بعد پی ٹی ائی پہ سختیاں بڑھیں اب جبکہ سانس لینے کی گنجایش پیدا ہوئی ہے اور حالات قدرے بہتری کی جانب گامزن ہیں تو کیا پی ٹی ائی ایک اور ۹ مئی چاہتی ہے ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایس آئی ایف سی کا اجلاس،
گزشتہ دنوں پی ٹی آئی رہنمااعظم سواتی کی طرز گفتگو سے تاثر یہی ملا کہ پی ٹی ائی ایک اور ۹ مئی کی جانب گامزن ہے
دوسری جانب مبصرین کے مطابق اقتدار کی رسہ کشی اور طاقت کی جنگ میں ایک ہی کلیہ کارگر ہے۔ مخالف کو پچھاڑو چاہے جس حد سے گزرنا پڑے۔ ملکی سیاسی افق پر یہ پاور پالیٹیکس اب اپنے آخری پاور پلے میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے جہاں ریاست کے طاقتور حلقوں کو ایک سیاسی جماعت اور ایک ریاستی ادارے عدلیہ کی جانب سے مسلسل مزاحمت کا سامنا ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس مزاحمانہ روش میں شدت آتی دکھائی دے رہی ہے ۔ عدالت طاقتور حلقوں کی اداروں میں غیر آئینی مداخلت کو لے کر طبل جنگ بجائے ہوئے ہے اور ماضی کے برعکس طاقتور حلقوں کی منشا کے مطابق چلنے کو تیار نہیں بلکہ وہ عدالتی شخصیات جو ماضی کی اسٹیبلشمنٹ کی غیر قانونی سرگرمیوں پر مصالحانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے تھے آج وہی عناصر اسٹیبلشمنٹ کے سب سے بڑے ناقد بنے ہوئے ہیں اور تاثر یہ ہے کہ عدالتیں مخصوص جماعت کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہیں شائد یہی وجہ ہے کہ اب تک بانی پی ٹی آئی توشہ خانہ ، توڑ پھوڑ اور 190 ملین پاونڈ جیسے مقدمات سمیت انکی جماعت کے متعدد رہنما اور کارکنان نو مئی کیسز میں اس انجام کو نہیں پہنچ پائے جس پر اسٹیبلشمنٹ اور حکومت انھیں دیکھنا چاہتی ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الٰہی کی ضمانت اور اس کے بعد اب سائفر کیس میں شاہد محمود قریشی کی ممکنہ ضمانت اور آنے والے دنوں میں عمران خان اور بشری بی بی سمیت پی ٹی آئے کے گرد کمزور ہوتا ہوا شکنجہ اس وقت طاقتور حلقوں کے لئے بڑا چیلنج ہے جبکہ دوسری جانب خود تحریک انصاف مزاحمانہ روش ترک کرنے کو تیار نہیں بلکہ پی ٹی آئی کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیے میں مزید شدت آتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی اور اسٹیبلمشنٹ میں معاملات فوری طور پر طے ہوتے نظر نہیں آتے۔ پی ٹی آئی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات رؤف حسن پر حملے کے بعد عمران خان نے اپنے ورکرز سے کہا ہے کہ وہ جہاں بھی چھپے ہیں سامنے آ جائیں۔ یہ لوگ باہر آ رہے ہیں اور انہیں ضمانتیں بھی مل رہی ہیں۔ اس کے نتیجے میں ملک میں بہت بڑا سیاسی اودھم مچنے والا ہے۔ تھوڑا بہت جو معاشی استحکام آیا ہے وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ عمران خان کو ضمانتیں مل گئیں تو باہر آ کر وہ احتجاج کی کال دیں گے۔ جس کے بعد ایک اور 9 مئی ہونے کے امکان کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔،
