کیا پاکستانی عوام چوتھے فوجی مارشل لا سے بچ پائیں گے؟

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا یے کہ بد ترین حالات کے باوجود ابھی تک پاکستان میں چوتھا مارشل نافذ نہیں ہوا، لیکن انکا کہنا یے کہ اگر حالات سدھارنے کی کوشش نہ کی گئی تو جمہوری ستونوں کی بڑھتی ہوئی آپسی لڑائی ہماری امیدوں پر پانی پھیر سکتی ہے۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائج کہتے ہیں ایک طرف منتخب ایوانوں اور عدلیہ کے می لارڈز میں لفظی اور قانونی جنگ جاری ہے، دوسری طرف ہتک عزت کے قانون میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کو خوامخواہ شامل کرکے میڈیا اور نون لیگ کے مابین کشمکش شروع کردی گئی ہے، ایک طرف حکومت اور تحریک انصاف میں بڑی سیاسی جنگ جاری ہے تو دوسری جانب سویلین بالادستی کا ملاکھڑہ ہو رہا رہا ہے جس میں آج کل اسٹیبلشمنٹ کی اپنی پیدا کردہ تحریک انصاف سب سے آگے ہے۔
سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ جس ملک میں ایک ہی وقت میں اتنی ڈھیروں لڑائیاں جاری ہوں، اس کی معاشی حالت بھی خراب ہوں، اسکی ایک پڑوسی ملک انڈیا سے مقابلے بازی ہو اور دوسرے پڑوسی ملک افغانستان سے دہشت گرد آکر تباہی مچا رہے ہوں، وہاں ایسی لڑائیاں جاری رکھنے کی کیا تُک ہے۔
شاہین شاہ آفریدی نے نائب کپتانی کی آفر ٹھکرادی
اب سب لڑائیوں کو جاری رکھنے والے یا تو ہوش مند نہیں یا انہیں مستقبل کی فکر ہی نہیں یا پھر وہ اس قابل ہی نہیں کہ ان لڑائیوں کی آگ پر پانی ڈال سکیں۔ جمہوریت ایک کامیاب اور بھرپور نظام ہے، آئین پاکستان جمہوریت کے اصولوں کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا رھق۔ منتخب ایوان جو عام لوگوں کی مرضی اور پسند سے منتخب ہوکر آتے ہیں انہیں قانون سازی کا اختیار ہے، پارلیمان کو ملک کے سب اداروں پر فوقیت حاصل ہے کیونکہ قانون کے سوتے اسی سے پھوٹتے ہیں، اس کا درجہ ماں کا ہے۔ عدلیہ، پارلیمان کے بنائے قوانین اور آئین کی تشریح کرتی ہے۔ دونوں اداروں کی اساس جمہوری ہے لیکن اگر وہ سر پھٹول پر اتر آئیں تو دونوں اداروں کا پہلے اور پھر جمہوریت کا نقصان ہوگا۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ اس وقت صورتحال یہی ہے کہ منتخب ایوانوں میں ہمارے محبوب می لارڈز کو ہدف ِتنقید بنایا جا رہا ہے اور دوسری طرف ہمارے می لارڈز، جسٹس کھوسہ نے جب نواز شریف کو سسلین مافیا کہا تھا اس وقت وہ خود کسی کی پراکسی تھے، یہ نہ ہو کہ کل کو منتخب نمائندوں اور می لارڈز کو جمہوریت کے کھونے کے بعد احساس ہو کہ وہ دونوں ہی کسی خاص مفاد کی پراکسی بن گئے تھے۔ ایسے میں جمہوریت کے ایک ادنیٰ چاہنے والے کی حیثیت سے دونوں فریقوں سے گزارش ہے کہ دور رس جمہوری اور آئینی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے جذبات کو ٹھنڈا رکھیں اپنی موجودہ پوزیشن سے دونوں پیچھے ہٹیں اور درمیانی راستہ اختیار کریں۔ سینیئر تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ہم ماضی میں دیکھ چکے ہیں کہ نہ تو منتخب نمائندوں کی ججوں کی طرف سے کی گئی نااہلیوں کو عوامی پذیرائی ملی اور نہ ہی حکومتوں کی طرف سے انصاف پسند می لارڈز کے خلاف لگائے گئے الزامات اور ریفرنسوں کو عوامی طور پر تسلیم کیا گیا، یہ دونوں رویے غلط ہیں، دونوں طرف کے انتہا پسند آگ لگا رہے ہیں اور فاختائیں پتہ نہیں اپنا کردار کیوں ادا نہیں کر رہیں۔ یاد رکھیں کہ ملک عقابوں کی انتہا پسندی اور غیظ و غضب سے نہیں چلتے بلکہ فاختاؤں کی امن پسندی اور مفاہمت سے چلتے ہیں جمہوریت تو ہے ہی ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کا نام۔ فاضل جج صاحبان اور محترم قانون سازاِن دونوں اپنے گھوڑوں کو روکیں، امن کی سرائے میں پناہ لیں اور جمہوریت کو چلنے دیں، کسی ایک کی عاقبت نا اندیشی کی سزا پورے ملک کو ملے گی۔
سہیل وڑائج کہتے ہیں کہ ہمارا مین سٹریم میڈیا تو پہلے ہی جا بجا پابندیوں کے سبب سوشل میڈیا سے مقابلے میں ہارتا جا رہا ہے، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں سنسر شپ، یعنی خبروں اور تجزیوں کو احتساب کی چھلنی میں گزارنے کا موثر نظام پہلے ہی موجود ہے، پیمرا کی ہر وقت نگرانی ہے، حکومتی اداروں کی ہر وقت کی سرزنش ہے اور پھر عوامی اور عدالتی احتساب اسکے علاوہ ہے، ایسے میں مین سٹریم میڈیا کو ہتک عزت کے نئے قانون کا شکار بنانا اس کی آوازبند کرنے کے مترادف ہے۔ مین سٹریم میڈیا کیلئے کافی قوانین موجود ہیں سوشل میڈیا کیلئے نئے قوانین ضرور بنائے جائیں لیکن اس کیلئے بھی اسٹیک ہولڈرز سے مشورہ ضرور کیا جائے۔
سہیل وڑائج کے بقول جمہوریت ہر شخص اور ادارے کو اپنے حقوق و اختیار کیلئے جدوجہد کی اجازت تو دیتی ہے۔ لیکن کسی بھی فرد یا ادارے کو آئینی حدود سے تجاوز کی اجازت نہیں دیتی ۔ میری ادنیٰ اور عاجزانہ رائے میں آج کل ہر ادارے اور معزز افراد کی طرف سے ان کی آئینی حدود سے تجاوز ہو رہا ہے یہی وجہ ہے کہ بحران بڑھ رہے ہیں اگر ہر ادارہ اور فرد اپنا احتساب کرے ایک قدم پیچھے ہٹے تو سارے ملکی مسائل ایک ایک کر کے حل ہو سکتے ہیں؟ اگر بعض جج پارلیمان کا ہی مذاق اڑائیں گے اور کروڑوں کے منتخب کردہ وزیراعظم کو 3 متعصب جج گھر بھیج دیں گے تو یہ حدود سے تجاوز ہے، اسی طرح کوئی می لارڈ چاہے وہ جتنا بھی بڑا ہو، ثاقب نثار کی طرح لوگوں کی بے عزتی کرے گا یا مذاق اڑائے یا آج کے ایک قابل احترام جج کی طرح لوگوں کو پراکسی کہے گا تو یہ اس کے منصب کے شایان شان نہیں۔ پھر توہین عدالت کے نوٹس دے کر اپنی طاقت ثابت کرنا اور دوسروں کو ذلیل و رسوا کرنے کی پرانی روایت آگے برھانے کا سلسلہ بھی اب ختم ہونا چاہیے۔ براہ کرام ہر کوئی اپنی حد میں رہے اپنے جمہوری اور آئینی اختیار سے بڑھنا سراسر غلط ہے، چاہے کوئی ’تارڑ ہو یا واوڈا ، من اللّٰہ ہو یا پھر ستار‘‘۔ سب لڑنے والے بہرحال غلط ہیں….!
