بلوچستان حکومت کا کام چور سرکاری افسران پر شکنجہ کسنے کا فیصلہ

 

 

 

 

بلوچستان حکومت نے کام چور اور فراڈیے سرکاری افسران پر شکنجہ کستے ہوئے تمام گورنمنٹ آفیسرز کی لائیو لوکیشن کے ذریعے ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا ہے۔تاکہ صوبے میں بدعنوانی اور حرام خوری پر قابو پاتے ہوئے گورننس کی بہتر کر کے سرکاری مشینری کو مکمل فعال بنایا جا سکے۔ صوبائی حکومت کے تاریخ ساز فیصلے کے بعد اب سرکاری ملازمین کی کارکردگی صرف کاغذی رپورٹس تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ان کی فیلڈ میں حقیقی موجودگی اور عوامی خدمت کو بھی چیک کیا جائے گا۔

حکام کے مطابق نئے نظام کے تحت تمام متعلقہ افسران کو اپنی لائیو لوکیشن شیئر کرنے کا پابند بنایا گیا ہے تاکہ یہ تصدیق کی جا سکے کہ وہ واقعی اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر موجود ہیں یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حکومتی اقدام کا اصل مقصد ان افسران کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو مختلف دوردراز گاؤں اور دیہاتوں میں تعیناتی کے باوجود فیلڈ میں جانے سے گریز کرتے ہیں اور شہری علاقوں، خصوصاً کوئٹہ، میں رہ کر تنخواہیں وصول کرتے ہیں۔

 

خیال رہے کہ رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ بلوچستان ہمیشہ انتظامی لحاظ سے ہمیشہ چیلنجز کا شکار رہا ہے۔ دور دراز علاقوں تک رسائی، بنیادی سہولیات کی کمی، اور سرکاری افسران کی فیلڈ میں عدم موجودگی جیسے مسائل بارہا سامنے آتے رہے ہیں۔اسی وجہ سے اب حکومت اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ سرکاری افسران کی روایتی نگرانی کے طریقے اب مؤثر نہیں رہے، اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس لئے صوبائی حکومت نے افسران کی لائیو لوکیشن کے ساتھ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا آغاز کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے تحت سرکاری افسران کی حاضری کو لائیو لوکیشن کے ذریعے چیک کیا جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب افسران کو فیلڈ میں اپنی موجودگی حقیقی وقت میں ظاہر کرنا ہوگی، جس سے نہ صرف ان کی فیلڈ میں موجودگی کی تصدیق ممکن ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کو بھی براہِ راست مانیٹر کیا جا سکے گا۔ حکومت کے مطابق اس اقدام سے نگرانی کا عمل شفاف ہوگا اور عوامی وسائل کے استعمال میں جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

 

مبصرین کے مطابق یہ حکومتی فیصلہ دراصل ان مسلسل شکایات کا نتیجہ ہے جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ صوبے کے کئی افسران اپنی تعیناتی کے علاقوں میں رہنے کے بجائے زیادہ وقت کوئٹہ میں گزارتے ہیں۔ اس طرز عمل کی وجہ سے نہ صرف ترقیاتی منصوبے متاثر ہوتے ہیں بلکہ عوامی مسائل بھی بروقت حل نہیں ہو پاتے۔ ماضی میں تو کئی معاملات بھی سامنے آئے ہیں جن میں سرکاری ملازمین بغیر ڈیوٹی کیے تنخواہیں وصول کرتے رہے ہیں۔ بلوچستان میں ماضی قریب میں میں تعلیم کے شعبے میں ہزاروں اساتذہ کے بیرونِ ملک رہ کر تنخواہیں لینے کا انکشاف اس نظام کی کمزوری کی واضح مثال ہے۔

 

تاہم اب بلوچستان حکومت نے اس بار سخت اقدامات اٹھاتے ہوئے سرکاری افسران کو واضح ہدایات جاری کر دی ہیں کہ جو افسران دس دن سے زائد عرصے تک فیلڈ سے غیر حاضر پائے گئے، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام ترقیاتی منصوبوں کو جون سے قبل مکمل کرنے کی ڈیڈ لائن بھی دی گئی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اب صرف منصوبہ بندی نہیں بلکہ عملی نتائج پر توجہ دے رہی ہے۔

 

ناقدین کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے متعارف کروایا جانے والا ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا یہ نظام بظاہر ایک مؤثر حل نظر آتا ہے، مگر اس کی کامیابی کا انحصار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کے درست نفاذ پر بھی ہے۔ اگر اس نظام کو شفاف انداز میں چلایا گیا اور اس کے نتائج کی بنیاد پر حقیقی احتساب کیا گیا، تو یہ بلوچستان میں گورننس کے معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، یہ بھی ماضی کی کئی اصلاحات کی طرح صرف کاغذی کارروائی بن کر رہ جائے گا۔مبصرین کے مطابق اگر افسران واقعی فیلڈ میں موجود رہیں اور ترقیاتی منصوبوں کی مؤثر نگرانی کریں، تو اس کے براہِ راست اثرات عام شہریوں کی زندگی پر پڑیں گے۔ سڑکوں، تعلیم، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کے منصوبے بروقت مکمل ہوں گے اور عوامی مسائل کے حل میں تیزی آئے گی۔

 

Back to top button