امریکہ اور ایران مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں یا نہیں؟

 

 

 

پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششیں ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں یا تو دونوں ممالک کی کشیدگی نئے مرحلے میں داخل ہو جائے گی اور یا پھر مذاکرات کامیاب ہو جائیں گے، تاہم ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔

 

یاد رہے پچھلے ہفتے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے حالیہ امریکہ ایران مذاکرات تقریباً بیس گھنٹے تک جاری رہے، تاہم ان میں کوئی حتمی نتیجہ سامنے نہ آ سکا۔ اس کے باوجود دو ہفتوں کی جنگ بندی اب بھی برقرار ہے، جسے ماہرین ایک غیر یقینی اور عارضی وقفے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ مذاکرات کے اختتام کے فوراً بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے بارے میں ایک نئی حکمت عملی سامنے آئی جس میں سخت اقدامات کا امکان بھی شامل تھا، جن میں آبنائے ہرمز کی ممکنہ ناکہ بندی کا ذکر بھی سامنے آیا۔ یہ وہ انتہائی اہم آبی راستہ ہے جو عالمی تیل تجارت کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

اس پیش رفت نے اس سوال کو مزید اہم بنا دیا ہے کہ آیا مذاکرات کی ناکامی کے باوجود سفارت کاری کا راستہ کھلا رہے گا یا خطہ ایک وسیع تر تصادم کی طرف بڑھ رہا ہے۔

 

دفاعی ماہرین کے مطابق آئندہ حالات مختلف سمتیں اختیار کر سکتے ہیں جن میں سب سے پہلے یہ امکان شامل ہے کہ موجودہ جنگ بندی ایک عارضی وقفہ ثابت ہو۔ اس تصور کے مطابق جنگ بندی کے باوجود بنیادی اختلافات جوں کے توں رہتے ہیں اور فریقین اس وقفے کو صرف اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس صورت میں یہ بھی ممکن ہے کہ یہ وقفہ کسی مستقل حل کی طرف پیش رفت کے بجائے محض وقت حاصل کرنے کا ذریعہ ہو۔

 

دوسرے ممکنہ منظرنامے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ سکتی ہے اور محدود نوعیت کی جنگ یا دباؤ کی کارروائیاں سامنے آ سکتی ہیں۔ اس صورت حال میں امریکہ ایران کے اہم انفراسٹرکچر جیسے کہ بجلی گھروں، پلوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات پر غور کر سکتا ہے، ایسے اقدامات وقتی طور پر ایران پر دباؤ بڑھا سکتے ہیں کیو کہ انکے نتیجے میں بہت ذیادہ جانی اور معاشی نقصان ہو سکتا ہے۔ لیکن اسکے ردعمل میں ایران کی جانب سے سخت جوابی کارروائی کا خطرہ بھی موجود رہے گا۔ اسی طرح اسرائیل بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر سکتا ہے اور خفیہ یا محدود نوعیت کی کارروائیوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا رہا۔ ایسے حالات میں ایرانی شخصیات یا مذاکراتی عمل سے وابستہ افراد کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جو کشیدگی کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق تیسرا امکان یہ ہے کہ ایسی صورت حال پیدا ہو جائے جسے “شیڈو وار” بھی کہتے ہیں۔ اس ماڈل میں مکمل جنگ سے گریز کیا جاتا ہے مگر کشیدگی برقرار رہتی ہے اور محدود فوجی کارروائیاں جاری رہتی ہیں۔ اس دوران پراکسی گروہوں کا کردار مزید بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر عراق اور بحیرہ احمر جیسے خطوں میں ایران کے حمایت یافتہ گروہ سرگرم ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکہ ان نیٹ ورکس پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کرے گا۔ اس صورتحال میں تنازع براہ راست جنگ میں تبدیل نہیں ہوتا مگر اس کا دائرہ بتدریج وسیع ہوتا چلا جاتا ہے۔  دفاعی ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا خطرناک مرحلہ ہے جس میں فریقین مکمل جنگ نہیں چاہتے مگر ایک غلط فیصلہ کسی بھی لمحے صورتحال کو بے قابو کر سکتا ہے۔

 

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کی کشیدگی کے حوالے سے چوتھا اور نسبتاً محدود امکان یہ ہے کہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارت کاری کامیابی سے ہمکنار ہو جائے۔ اگرچہ دونوں ممالک کے مابین اسلام آباد میں ہونے والا مذاکرات کا پہلا دور ناکام رہا، تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بات چیت مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔ پاکستان اب بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ کاری کر رہا ہے اور امکان یہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ مذاکرات اسلام آباد میں ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ قطر، عمان، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک بھی ثالثی کے عمل میں کردار ادا کر سکتے ہیں، کیونکہ یہ سب خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کو اپنے مفاد میں نہیں سمجھتے۔ صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ اگر مذاکرات کامیاب ہوئے تو وہ اسلام اباد بھی جا سکتے ہیں۔

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری سے PTI کو تکلیف کیوں ہے؟

اسی دوران آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے متعلق امریکی حکمت عملی نے صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد ایران کی تیل برآمدات کو محدود کرنا اور اس کی معیشت پر دباؤ بڑھانا بتایا جا رہا ہے، جبکہ اس کا اثر ایران کے بڑے تجارتی شراکت دار چین پر بھی پڑ سکتا ہے۔ تاہم دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کے نتیجے میں امریکہ کو بھی بھاری معاشی اور عسکری اخراجات برداشت کرنا پڑ سکتے ہیں، کیونکہ اسے طویل عرصے تک اس خطے میں اپنی بحری موجودگی برقرار رکھنی پڑے گی۔ اس کے علاوہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور بحیرہ احمر میں کشیدگی کے پھیلنے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر باب المندب کے علاقے میں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق صورت حال اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں نہ مکمل جنگ یقینی دکھائی دیتی ہے اور نہ ہی فوری اور جامع امن معاہدہ ممکن نظر آتا ہے۔ یہ ایک ایسا غیر واضح اور پیچیدہ مرحلہ ہے جس میں چھوٹے فیصلے بھی بڑے نتائج پیدا کر سکتے ہیں اور ہر سفارتی یا عسکری قدم پورے خطے کی سمت بدل سکتا ہے۔ یہ وہ دور ہے جہاں جنگ اور مذاکرات ایک ساتھ چل رہے ہیں، اور یہی غیر یقینی کیفیت آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کا رخ متعین کرے گی۔

Back to top button