پاک فضائیہ افغانستان میں کون کون سے ٹارگٹ حاصل کر چکی؟

 

 

 

معروف امریکی جریدے دی واشنگٹن ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کی جانب سے افغانستان میں طالبان دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے جاری آپریشن غضبِ للحق میں اب تک 200 کے قریب دہشت گرد پناہ گاہیں اور اسلحہ بارود کے درجنوں ذخائر تباہ کیے جا چکے ہیں، تاہم بڑے پیمانے پر اپنے مقاصد حاصل کرنے کے باوجود پاکستان افغانستان میں رجیم چینج کا خواہاں نہیں بلکہ صرف سرحد پار دہشت گردی کا موثر خاتمہ چاہتا ہے۔

 

دی واشنگٹن ٹائمز نے اپنے تفصیلی تجزیے میں آپریشن “غضبِ للحق” کو ایک ایسی منظم اور مربوط حکمت عملی قرار دیا ہے جس کے ذریعے پاکستان نے افغانستان میں موجود شدت پسند عناصر کے خلاف نہایت ہدفی کارروائیاں کی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں محض روایتی عسکری اقدامات تک محدود نہیں بلکہ ان کے پیچھے ایک جامع سوچ کارفرما ہے جس میں معلوماتی نگرانی، درست نشاندہی اور محدود دائرہ کار میں کارروائی کو بنیادی اہمیت دی گئی ہے۔ جریدے کے مطابق اس آپریشن کے دوران اب تک تقریباً 200 دہشت گرد پناہ گاہیں مکمل طور پر تباہ کی جا چکی ہیں جبکہ تیس سے زیادہ ایسے مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا جہاں شدت پسند عناصر کی منصوبہ بندی اور اجتماع ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف علاقوں میں اسلحہ اور بارود کے درجنوں ذخائر کو بھی ختم کیا گیا جس سے افغان اور پاکستانی طالبان کی جنگی صلاحیت کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔

 

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف طالبان شدت پسندوں کی نقل و حرکت محدود ہوئی ہے بلکہ ان کے رابطہ نظام اور تنظیمی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ پاک فضائیہ کی ان کامیابیوں کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب پاکستان میں سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کی کاروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے ایک ماہ کے دوران پاکستان میں دہشت گرد اور خودکش حملوں میں بھی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔

دی واشنگٹن ٹائمز کے مطابق پاکستان کی جانب سے طالبان دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خاتمے کے لیے فضائی کارروائی کو اس انداز میں انجام دیا گیا ہے کہ عام شہریوں کو کم سے کم نقصان پہنچ رہا ہے۔ جریدے کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنے اہداف کے تعین میں غیر معمولی احتیاط کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف تصدیق شدہ ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

رپورٹ میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے نہایت مربوط انداز میں اس آپریشن کو آگے بڑھایا۔

 

امریکی جریدے کے مطابق پاکستانی عسکری قیادت نے کافی عرصہ برداشت کا مظاہرہ کیا اور بار بار افغان طالبان حکومت کو اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ اپنے ملک میں موجود پاکستان مخالف دہشت گرد ٹھکانوں کا خاتمہ کرے اور مطلوب دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرے۔ تاہم ایسا نہیں ہو پایا جس کے بعد مجبور ہو کر پاکستان کو افغانستان میں کاروائیوں کا آغاز کرنا پڑا۔

جریدے نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ پاکستان کی حکمت عملی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں بلکہ اس میں سفارتی اور سیاسی پہلو بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان ایک طرف جہاں اپنی سرحدوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے وہیں دوسری طرف خطے میں استحکام کے لیے سفارتی سطح پر بھی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس ضمن میں یہ مؤقف واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان میں کسی قسم کی حکومتی تبدیلی پاکستان کی پالیسی کا حصہ نہیں اور نہ ہی وہ اس کا خواہاں ہے، بلکہ پاکستان کا اصل مقصد صرف اپنی سرحدوں کو محفوظ بنانا اور دہشت گردی کے خطرے کو ختم کرنا ہے۔

عمران کا لاڈلہ سہیل آفریدی یوتھیوں کی نشانے پر کیوں آ گیا؟

دی واشنگٹن ٹائمز کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان داخلی سطح پر بھی انسداد دہشت گردی کے نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ چنانچہ 2014 میں تشکیل دیے گئے نیشنل ایکشن پلان کے تحت مختلف اداروں کی صلاحیت میں اضافہ کیا جا رہا ہے تاکہ دہشت گردی کے خلاف حاصل ہونے والی عسکری کامیابی کو دیرپا امن میں تبدیل کیا جا سکے۔ جریدے کے مطابق اگر یہ اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو نہ صرف پاکستان کے اندر امن و استحکام کو فروغ ملے گا بلکہ پورے خطے میں بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ امریکی جریدے نے اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ پاکستان نے فوجی کارروائی، سفارتی کوششوں اور سماجی حکمت عملی کو یکجا کر کے ایک متوازن پالیسی اختیار کی ہے، جو دنیا میں رائج سخت گیر طریقوں کے مقابلے میں ایک مؤثر متبادل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔

Back to top button