عمران کا لاڈلہ سہیل آفریدی یوتھیوں کی نشانے پر کیوں آ گیا؟

 

 

 

اپنے سخت بیانیے، جارحانہ مؤقف اور مقتدر حلقوں سے فاصلہ رکھنے کی وجہ سے یوتھیوں کے منظور نظر قرار پانے والے سہیل آفریدی آج اپنے لہجے کی نرمی، رویے میں لچک اور فیصلوں میں ہم آہنگی کی وجہ سے عمرانڈوز کے نشانے پر ہیں۔ ناقدین کے مطابق بڑھتے ہوئے اندرونی اختلافات کی وجہ سے پاکستان تحریک انصاف خیبرپختونخوا میں بھی ٹوٹ پھوٹ اور انتشار کا شکار ہوتی نظر آتی ہے، پی ٹی آئی میں اختلافات کا معاملہ صرف قیادت تک محدود نہیں رہا بلکہ سوشل میڈیا، کارکنوں اور مختلف گروپس کے درمیان کھلی محاذ آرائی میں تبدیل ہو چکا ہے۔ 19 اپریل کو مردان میں ہونے والے جلسے سے پہلے ہی جماعت کے اندر اختلافات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ سہیل آفریدی براہِ راست سوشل میڈیا انقلابیوں کے نشانے پر آ گئے ہیں، جبکہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے واضح لائحہ عمل نہ دینے پر انہیں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

 

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات کی وجہ سے صورتحال اس قدر کشیدہ ہو چکی ہے کہ پارٹی کے اندر مختلف دھڑے ایک دوسرے کے خلاف صف آراء دکھائی دیتے ہیں، سوشل میڈیا پر جاری ہتک آمیر کمپینز، قیادت پر عدم اعتماد، اور رہنماؤں کی بیان بازی اس بات کی غماز ہے کہ پی ٹی آئی صرف بیرونی نہیں بلکہ اندرونی محاذ پر بھی ایک بڑی جنگ لڑ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے پارٹی مکمل ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی نظر آتی ہے۔

 

ذرائع کے مطابق مردان میں 19 اپریل کو پی ٹی آئی کا ہونے والے جلسہ باہمی اختلافات کا شکار ہو گیا ہے۔ جلسے کے حوالے سے سوشل میڈیا پر یوتھیوں کی جانب سے وزیر اعلی سہیل آفریدی کو کھلی دھمکی دی جارہی ہے کہ اگر انہوں نے 19 اپریل کو ہونے والےجلسے میں عمران خان کی رہائی کے حوالے سے کوئی لائحہ عمل طے نہ کیا تو ان کے خلاف بھی اسی طرح کی مہم چلائی جائے گی، جس طرح علی امین گنڈا پور کے خلاف چلائی گئی تھی۔ پی ٹی آئی کے اندرونی حلقوں کے مطابق سہیل آفریدی کے خلاف مزاحمت صرف سوشل میڈیا تک محدود نہیں رہی بلکہ پارٹی کے اندر موجود مختلف بااثر گروپس بھی کھل کر وزیر اعلیٰ خیبرپختوںخوا کی مخالفت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ سہیل آفریدی مخالف دھڑوں میں عاطف خان، علی امین گنڈاپور، اسد قیصر اور تیمور جھگڑا جیسے رہنماؤں کے حلقے بھی شامل ہیں، جو اپنی سیاسی حیثیت اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے مسلسل سہیل آفریدی مخالف سازشوں میں مصروف ہیں۔ جس کی وجہ سے جہاں سہیل آفریدی سرکار دباؤ کا شکار ہے وہیں ان کے اقتدار کی کشتی مسلسل ہچکولے کھاتی نظر آ رہی ہے۔

 

خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی ایک ایسے نازک مرحلے پر اپنی ہی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے اندر بڑھتی ہوئی گروپ بندی اور اختلافات کا سامنا کر رہے ہیں، جب وہ بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے ملک گیر سٹریٹ مہم شروع کرنے جا رہے ہیں۔ بظاہر یہ صورتحال سیاسی یکجہتی کی متقاضی ہے، تاہم اندرونی سطح پر کھینچا تانی، گروپ بندی اور باہمی اختلافات نے سہیل آفریدی کے لئے چیلنجز کو کئی گنا بڑھا دیا نے ۔اگرچہ پاکستان تحریک انصاف مسلسل اس تاثر کو مسترد کرتی آئی ہے کہ پارٹی کے اندر کوئی سنجیدہ گروپنگ موجود ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ خاص طور پر بانی پی ٹی آئی عمران خان کی گرفتاری کے بعد پارٹی کے مختلف دھڑوں کے درمیان بڑھتے فاصلے اور کھلے عام سامنے آنے والے اختلافات اس بات کے غماز ہیں کہ پی ٹی آئی میں سب اچھا نہیں ہے جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے۔

 

پارٹی کے ایک مرکزی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خیبرپختونخوا میں اس وقت طاقت اور اقتدار کی جنگ جاری ہے۔ صوبے میں پارٹی کئی گروپس میں تقسیم ہو چکی ہے، جن میں عاطف خان، اسد قیصر، علی امین گنڈاپور اور تیمور جھگڑا کے دھڑے پہلے سے موجود تھے، جبکہ اب کئی نئے گروپس بھی ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔  سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو ہٹانے کے بعد پارٹی کے کئی اراکین خود کو اس منصب کے لیے موزوں سمجھنے لگے ہیں، جس کے باعث اندرونی اختلافات اور گروپنگ میں مزید تیز نظر آ رہی ہے۔ ذرائع کے بقول پارٹی کے اندر کئی گروپس سہیل آفریدی کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سرگرم ہو چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے عمران خان تک منفی اطلاعات پہنچانے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف سیاسی ماحول کو کشیدہ کیا ہے بلکہ پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کیلئے بھی مشکلات کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اپوزیشن لیڈرز کو ہٹانے کا امکان

دوسری جانب پی ٹی آئی قیادت ان تمام دعوؤں کو یکسر مسترد کرتی دکھائی دیتی ہے۔ پارٹی رہنماؤں کے مطابق تحریک انصاف میں نہ تو کوئی گروپنگ موجود ہے اور نہ ہی وزیراعلیٰ کے خلاف کوئی سازش ہو رہی ہے۔ سہیل آفریدی کو پارٹی قیادت کا مکمل اعتماد حاصل ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سہیل آفریدی کے خلاف چلائی جانے والی کمپینز حقیقت میں شکست خوردہ عناصر چلا رہے ہیں جنہیں پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا میں کامیابیاں ہضم نہیں ہو رہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ تمام پی ٹی آئی رہنما عمران خان کی قیادت پر متحد ہیں اور اختلافات کی خبریں محض افواہیں ہیں، جن کا مقصد پارٹی کی جاری سیاسی مہم کو نقصان پہنچانا ہے۔

 

Back to top button