پاکستان کی کامیاب سفارت کاری سے PTI کو تکلیف کیوں ہے؟

 

 

 

جہاں پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے وہیں تحریک انصاف اس معاملے پر حسد اور بے چینی کا شکار ہے۔

 

پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے ایران اور امریکہ کے درمیان جس طرح ایک کامیاب ثالث کا کردار ادا کیا ہے وہ نہ صرف خارجہ پالیسی کے لیے ایک اہم سنگ میل ہے بلکہ اس سے ملک کا عالمی تشخص بھی بہتر ہوا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کامیابی نے حکمران اتحاد کے سیاسی گراف کو بلند کیا ہے، جس کا براہ راست اثر پی ٹی آئی کی سیاست پر پڑا ہے۔ انکے مطابق پی ٹی آئی کا حکومت مخالف بیانیہ اس پیش رفت کے بعد کمزور پڑ گیا ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعظم شہباز شریف کی سفارتی سرگرمیوں کے بعد پی ٹی آئی قیادت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ایک سینئر پارٹی رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہماری سیاسی مہم حکومتی سفارتی کاری کے نیچے دبتی جا رہی ہے اور پارٹی کارکنوں کو حکومت کے خلاف متحرک رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کے کئی رہنما کھلے عام ایران اور امریکہ کے مابین سفارت کاری کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

 

ادھر وزیراعلٰی سہیل آفریدی کی جانب سے لیاقت باغ میں اعلان کردہ جلسے کا ملتوی ہونا بھی پارٹی کے اندر تنقید کا باعث بن رہا ہے۔ یہ جلسہ اب مردان میں منعقد کیا جا رہا ہے، تاہم کارکنان اس فیصلے سے مطمئن نظر نہیں آتے۔ پی ٹی آئی کارکنان سوشل میڈیا پر کھل کر قیادت پر تنقید کر رہے ہیں۔ کئی کارکنان کا کہنا ہے کہ پارٹی “سب سے پہلے پاکستان” کا نعرہ لگانے کے باوجود عملی طور پر قومی مفاد کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دے رہی ہے۔ ایک کارکن کے مطابق، “اگر حکومت کوئی اچھا کام کرتی ہے تو ہمیں اس کی مخالفت کے بجائے حمایت کرنی چاہیے، مگر یہاں الٹا ہو رہا ہے۔”

 

اسکے علاوہ کارکنان کی ایک بڑی شکایت عمران خان کی رہائی مہم کی سست روی بھی ہے، جو بظاہر پارٹی قیادت کی ترجیحات میں شامل نہیں رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پی ٹی آئی اس وقت ایک مشکل صورتحال میں ہے۔ ایک طرف وہ حکومتی اقدام کی کھل کر مخالفت نہیں کر سکتی کیونکہ اسے عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو رہی ہے، جبکہ دوسری جانب کھل کر حمایت کرنے سے اس کا اپنا سیاسی بیانیہ متاثر ہوتا ہے۔

 

سینئر صحافی مظہر عباس کے مطابق موجودہ حکومت کی سفارتی محاذ پر کامیابیوں نے پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔ ان کے مطابق پارٹی قیادت اس صورتحال سے واضح طور پر پریشان ہے۔ پارٹی کے لیے فنڈز کی کمی ہے اور اسکی تنظیم کمزوری کا شکار ہے۔ سونے پر سہاگہ یہ کہ پارٹی قیادت کے درمیان اختلافات بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ ایک طرف پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور عمران خان کی بہنوں کے مابین میچ پڑا ہوا ہے تو دوسری طرف سہیل آفریدی کو اسلام آباد میں اعلان کردہ جلسہ ملتوی کرنے پر سخت تنقید کا سامنا ہے۔ پارٹی کارکنان کا کہنا ہے کہ جلسوں کی مسلسل ناکامی اور عوامی رابطہ مہم کی کمزوری کی بڑی وجہ نا اہل قیادت ہے۔

عمران کا لاڈلہ سہیل آفریدی یوتھیوں کی نشانے پر کیوں آ گیا؟

تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال نے یہ واضح کر دیا ہے کہ پی ٹی آئی کو نہ صرف بیرونی سیاسی چیلنجز کا سامنا ہے بلکہ اندرونی سطح پر بھی اسے سنجیدہ مسائل درپیش ہیں۔ ایران-امریکہ ثالثی میں پاکستان کے کردار نے جہاں عالمی سطح پر ملک کا وقار بلند کیا، وہیں اس نے ملکی سیاست میں طاقت کا توازن بھی تبدیل کر دیا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر پی ٹی آئی نے اپنی حکمت عملی اور ترجیحات پر نظرثانی نہ کی تو اسے مستقبل میں اور بھی پیچیدہ سیاسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

Back to top button