کیا ٹرمپ اور خامنہ ای دونوں ہی موجودہ بحران کے ذمہ دار ہیں؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ اور ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای جیسے رہنماؤں کی شدت پسندانہ پالیسیوں نے دنیا کو ایک ایسے بحران میں دھکیل دیا ہے جہاں عالمی امن تباہی سے دوچار ہے اور سب سے زیادہ نقصان عام انسانوں کا ہو رہا ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ نے آج کی صورتحال کو ایک علامتی فلم کے انداز میں بیان کیا ہے، جس میں انہوں نے صدر ٹرمپ کو “پاٹے خان” اور مجتبیٰ خامنہ ای کو “علامہ باغی” کے القاب دیے ہیں تاکہ ان کی پالیسیوں اور طرزِ حکمرانی کو زیادہ واضح اور مؤثر انداز میں بیان کیا جا سکے۔ان کا کہنا ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامہ ایک ایسی عالمی فلم کی مانند ہے جس کی نمائش پوری دنیا میں جاری ہے اور ہر فرد کسی نہ کسی صورت اس کا حصہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق صدر ٹرمپ ایک ایسے طاقتور کردار کے طور پر سامنے آتے ہیں جو بین الاقوامی قوانین، اخلاقیات اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو اہمیت دینے کے بجائے طاقت کے زور پر دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے پر یقین رکھتے ہیں۔
دوسری جانب سہیل وڑائچ نے ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کو ایک ایسے رہنما کے طور پر پیش کیا جو ضد، انا اور ردعمل کی سیاست میں الجھے ہوئے ہیں۔ ان کے بقول دونوں رہنماؤں کے درمیان کشمکش دراصل دو ایسے غیر متوازن اور آمرانہ طرزِ فکر کا تصادم ہے جس میں عقل اور تدبر کی گنجائش کم دکھائی دیتی ہے۔ ان کے مطابق اس تصادم کا سب سے بڑا نقصان عام انسانوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے، جہاں بے گناہ افراد کی جانیں جا رہی ہیں جبکہ تیل کی فراہمی متاثر ہونے سے عالمی معیشت دباؤ کا شکار ہے، سٹاک مارکیٹس میں غیر یقینی صورتحال بڑھ رہی ہے اور دنیا بھر میں بے چینی پھیل رہی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ جب عالمی سطح پر اصول، قانون اور اخلاقیات کی پاسداری ختم ہو جائے تو جھوٹ، دھوکہ دہی اور طاقت کی سیاست غالب آ جاتی ہے۔
سہیل وڑائچ نے عالمی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوال اٹھایا اور اسے موجودہ بحران میں غیر مؤثر قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ اقوام متحدہ، جو دنیا میں امن قائم رکھنے کا ذمہ دار ہے، اس وقت بے بسی کی تصویر بنا ہوا ہے اور عالمی تنازعات کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتا ہے، جس کے نتیجے میں غزہ، لبنان، شام، لیبیا اور ایران جیسے خطوں میں انسانی المیے شدت اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ کے بیانات کو تضادات کا مجموی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ کبھی سخت اور جارحانہ مؤقف اپناتے ہیں اور کبھی امن و آتشی کی بات کرتے ہیں، جو ان کی پالیسیوں میں عدم تسلسل کو ظاہر کرتا ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ آخر قومیں ایسے غیر متوازن کرداروں کو اپنا رہنما کیوں منتخب کرتی ہیں، کیا یہ انتقامی جذبات، خوف یا معاشی مجبوریوں کا نتیجہ ہوتا ہے۔
امن ڈیل کے لیے ٹرمپ پاکستان آئے تو اور کون کو سا لیڈر آئے گا؟
سہیل وڑائچ نے کہا کہ اس صورت حال میں عام لوگ، چاہے ان کا تعلق کسی بھی مذہب یا خطے سے ہو، صرف اور صرف امن کے خواہاں ہیں اور جنگوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ انہوں نے ایک علامتی منظر کے ذریعے یہ پیغام دیا کہ دنیا بھر کے عوام، جن میں مسلمان، عیسائی، یہودی اور بدھ مت کے ماننے والے شامل ہیں، بالآخر امن کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس کشیدگی میں ایک غیر جانبدار ثالث کا کردار نبھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم ایسا کرتے ہوئے ہماری کو اپنے معاشی مسائل پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ ان کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے ملنے والی وقتی امداد عارضی سہارا تو فراہم کر سکتی ہے، مگر دیرپا استحکام کے لیے ٹھوس معاشی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ موجودہ عالمی صورتحال بظاہر ایک فلم کی طرح محسوس ہو رہی ہے، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اگر امریکی اور ایرانی قیادت نے دانشمندی کا مظاہرہ نہ کیا تو دنیا ایک بڑی تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔
