امن ڈیل کے لیے ٹرمپ پاکستان آئے تو اور کون کو سا لیڈر آئے گا؟

 

 

 

 

بالآخر پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان ڈیل کی کوششیں رنگ لاتی دکھائی دے رہی ہیں اور صدر ٹرمپ نے مذاکرات میں نمایاں پیشرفت کا اعتراف کرتے ہوئے یہ امکان بھی ظاہر کر دیا ہے کہ اگر امن معاہدہ طے پاتا ہے تو وہ خود اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس بیان نے واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اب بھی ایک اہم ترین ثالث کے طور پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔

 

واشنگٹن میں گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے پاکستان کے کردار کو کھلے الفاظ میں سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت میں پاکستان نے نہایت مؤثر اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ خود اسلام آباد جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران اب جوہری ہتھیار نہ رکھنے پر آمادہ ہو چکا ہے اور افزودہ یورینیم جیسے حساس معاملے پر بھی پیشرفت ہو رہی ہے، انکا کہنا تھا کہ پاکستانی ثالثی سے ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور امن معاہدہ طے پانے کے قریب ہے۔

 

اس وقت بین الاقوامی میڈیا بھی یہ اعتراف کر رہا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین جو بھی پیشرفت ہو رہی ہے اس میں پاکستان کی متحرک اور مربوط سفارتکاری کارفرما ہے۔ یاد رہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ کیا جہاں انہوں نے ایرانی صدر اور دیگر اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد ان کا واشنگٹن پہنچنا اور وہاں اعلیٰ سطحی روابط قائم کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پاکستان بیک چینل ڈپلومیسی کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان فاصلے کم کرنے میں سرگرم کردار ادا کر رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے بھی اہم سفارتی سرگرمیاں جاری رکھیں۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکیہ کے دورے کیے جہاں علاقائی قیادت کو اعتماد میں لے کر ممکنہ امن معاہدے کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی گئی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان مسلسل روابط کا مقصد ایسا وسیع تر علاقائی اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو ایران اور امریکہ کے مابین ممکنہ معاہدے کو دیرپا اور مؤثر بنا سکے۔

 

اگر امریکی صدر ٹرمپ واقعی پاکستان کا دورہ کرتے ہیں تو یہ تقریباً دو دہائیوں بعد کسی بھی امریکی صدر کا پہلا دورہ ہوگا۔ اس سے قبل جارج بش نے سال 2006 میں پاکستان کا دورہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے سکیورٹی اور علاقائی صورت حال کے باعث کوئی امریکی صدر خبھہ اسلام آباد نہیں آیا۔ اس تناظر میں ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ دورہ نہ صرف علامتی اہمیت کا حامل ہوگا بلکہ اسے پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر بھی دیکھا جائے گا۔

 

اگر ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو عالمی سطح پر نہ صرف پاکستان کی سٹینڈنگ بہتر ہو جائے گی بلکہ اسے ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جائے گا جو صرف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کرنے والا ملک نہیں بلکہ عالمی تنازعات کے حل میں بھی کلیدی کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف اسلام آباد ہر عالمی اعتماد میں اضافہ ہو گا بلکہ پاکستان کے لیے معاشی اور سفارتی مواقع بھی بڑھ جائیں گے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ تنازع کے دوران اسلام اباد کی جانب سے کی جانے والی سفارتکاری کے بعد پاکستان ایک مؤثر عالمی کھلاڑی کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔

جنگ روکنے کے لیے پاکستانی سفارتی مہم حتمی مرحلے میں داخل

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی پاکستان آمد بھارت کے لیے بھی ایک اہم سفارتی چیلنج بن سکتی ہے۔ یاد رہے کہ حال ہی میں بھارت کے سیکرٹری خارجہ جے شنکر نے گھٹیا پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے ایران اور امریکہ کے مابین امن کی کوششوں کو دلالی قرار دیا تھا، تاہم اگر یہ کوششیں ایک عالمی ڈیل کی صورت اختیار کرتی ہیں تو مودی کی ماں مر جائے گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خطے میں پاکستان کی سفارتی اہمیت بڑھنے سے بھارت کو نہ صرف سیاسی بلکہ تزویراتی سطح پر بھی بڑے دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔

سفارتی حلقوں میں یہ اطلاع بھی گردش کر رہی ہے کہ اگر امن معاہدہ اسلام آباد میں طے پاتا ہے تو امریکی اور ایرانی صدر کے علاوہ سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت دیگر خلیجی ممالک کی قیادت بھی پاکستان آ سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو اسلام آباد ایک اہم عالمی سفارتی مرکز کی شکل اختیار کر سکتا ہے جہاں بیک وقت کئی اہم عالمی رہنما موجود ہوں گے۔

Back to top button