جنگ روکنے کے لیے پاکستانی سفارتی مہم حتمی مرحلے میں داخل

 

 

 

ایران اور امریکہ کی جنگ روکنے کے لیے پاکستانی سفارتی مہم فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اب صرف اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ کی حتمی تاریخ طے ہونا باقی ہے۔ باخبر سفارتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد اس وقت خطے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، اور توقع کی جا رہی ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جاری مذاکرات کا اگلا اور ممکنہ طور پر حتمی مرحلہ آئندہ دنوں میں مکمل ہو سکتا ہے، اگرچہ اس کی حتمی تاریخ تاحال طے نہیں ہو سکی۔

 

اس سفارتی عمل میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کلیدی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ چیف آف ڈیفنس فورسز، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ ہنگامی دورۂ تہران اس پیش رفت میں انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس نے معاہدے کے لیے ماحول کو سازگار بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ تنازعے کے تمام فریقین کے لیے قابلِ قبول شخصیت بن کر ابھرے ہیں اور انہیں نہ صرف عسکری کامیابیوں بلکہ امن کے قیام کی کوششوں میں بھی مرکزی حیثیت حاصل ہو گئی ہے۔

 

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکیہ پر مشتمل سہ ملکی دورہ بھی اسی سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد علاقائی حمایت کو یقینی بنانا اور اسلام آباد پراسیس کو مضبوط بنانا ہے۔ توقع ہے کہ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا متوقع اجلاس بھی ان کوششوں کی توثیق کرے گا اور امن عمل کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ ادھر امریکی انتظامیہ نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کرے گا۔

 

تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات “چند دنوں میں” ہونے کے بیان کے باوجود موجودہ حالات میں ان کا فوری انعقاد ممکن نظر نہیں آتا، خاص طور پر جب پاکستانی قیادت بیرون ملک اہم سفارتی مصروفیات میں مصروف ہے۔ یاد رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا، جو تقریباً 21 گھنٹے جاری رہنے کے باوجود کسی بڑی پیش رفت کے بغیر ختم ہوا۔ امریکا نے اسے جزوی پیش رفت قرار دیتے ہوئے ایران کے جوہری پروگرام پر اپنی حتمی پیشکش برقرار رکھنے کا عندیہ دیا، جبکہ ایران نے مذاکرات جاری رکھنے کی خواہش ظاہر کی اور واضح کیا کہ ابتدائی مرحلے میں کسی بڑے معاہدے کی توقع نہیں تھی۔

 

یاد رہے کہ موجودہ جنگ بندی فروری کے آخر میں ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد پاکستان کی ثالثی میں طے پائی تھی، جو کہ 21 اپریل کو ختم ہونے والی ہے۔ چنانچہ پاکستان کی یہ کوشش ہے کہ مذاکرات کا دوسرا دور جنگ بندی کے خاتمے سے قبل مکمل ہو جائے تاکہ ایک دیرپا امن معاہدے کی راہ ہموار کی جا سکے۔ تاہم اگر یہ ممکن نہ ہو سکا تو پاکستان کی جانب سے دونوں فریقین سے جنگ بندی میں توسیع کی باضابطہ درخواست کیے جانے کا امکان ہے۔ حکام کے مطابق جنگ بندی میں توسیع نہ صرف مذاکراتی عمل کو جاری رکھنے کے لیے ضروری ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کو دوبارہ بھڑکنے سے روکنے کے لیے بھی ناگزیر ہوگی۔

مذاکرات: ٹرمپ نے پاکستان آنے کے لیے کیا شرط عائد کر دی؟

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد ایک پائیدار اور جامع حل کے لیے سنجیدہ ہے اور اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ کو ایک نئے تنازعے سے بچایا جا سکے اور عالمی امن کو فروغ دیا جا سکے۔

Back to top button