بریکنگ نیوز دینے پر حامد میر کو ٹرولنگ کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟

جیو نیوز سے وابستہ معروف اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ ماضی میں جب کوئی صحافی بڑی خبر بریک کرتا تھا تو اسے ہر طرف سے سراہا جاتا تھا، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور کسی بھی بریکنگ نیوز کے سامنے آتے ہی سب سے پہلے خود صحافی برادری کے اندر سے اسکی تردید کی کوششیں شروع ہو جاتی ہیں جبکہ سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا سلسلہ بھی شروع ہو جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی پولرائزیشن کے باعث اب کسی بھی قومی یا بین الاقوامی معاملے پر صحافی کا مؤقف اگر کسی کو پسند نہ آئے تو اس پر مختلف الزامات عائد کر دیے جاتے ہیں۔

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے تجزیے میں حامد میر کہتے ہیں کہ بڑی سیاسی جماعتوں اور طاقتور حلقوں نے اپنے اپنے سوشل میڈیا بریگیڈز تشکیل دے رکھے ہیں جو مخصوص بیانیے کو فروغ دیتے ہیں، جبکہ بعض صحافی بھی ان مہمات کا حصہ بن کر غیر جانبدار صحافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انکے بقول اس صورتحال کے باوجود عام آدمی باشعور ہے اور وہ بخوبی جانتا ہے کہ کون سا صحافی آزادانہ مؤقف رکھتا ہے اور کون کسی سیاسی جماعت یا ادارے کے زیر اثر ہے۔ انکے مطابق کسی بھی صحافی کی اصل طاقت اس کی ساکھ ہوتی ہے جو اسے عوام سے ملتی ہے، نہ کہ وقتی ریٹنگ، کیونکہ ریٹنگ میں ردوبدل ممکن ہے مگر عوامی اعتماد ایک طویل المدتی اثاثہ ہے۔

انہوں نے بین الاقوامی مثال دیتے ہوئے امریکی صحافی ٹکر کارلسن کا حوالہ دیا اور کہا کہ اختلاف کے باوجود یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ وہ سچ کہنے کی ہمت رکھتے ہیں۔ انہوں نے CNN اور Fox News جیسے اداروں کے ساتھ کام کیا اور اپنے مؤقف کی وجہ سے تنازعات کا سامنا بھی کیا۔ حامد میر کے مطابق ٹکر کارلسن نے ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ڈی وینس پر بھی تنقید کی، باوجود اس کے کہ ان کے بیٹے کا تعلق نائب صدر کے دفتر سے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صحافیوں کو جھوٹے مقدمات اور قانونی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے اور اگرچہ سوشل میڈیا پر جھوٹے الزامات کے خلاف قوانین موجود ہیں، تاہم ان کا استعمال اکثر طاقتور حلقوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہے۔

حامد میر بتاتے ہیں کہ 12 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد عالمی میڈیا نے انہیں ناکام قرار دیا، تاہم ان کے ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات ناکام نہیں ہوئے تھے بلکہ دوبارہ ہونے والے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ تہران، واشنگٹن اور دیگر ذرائع سے طویل مشاورت کے بعد انہیں یقین ہو گیا تھا کہ مذاکرات کا دوسرا دور ضرور ہوگا اور ممکنہ طور پر پاکستان میں ہی منعقد ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ سرکاری ذرائع اس معاملے پر انتہائی محتاط تھے اور نہیں چاہتے تھے کہ اس خبر کو فوری طور پر نشر کیا جائے، کیونکہ اس سے سفارتی حساسیت پیدا ہو سکتی تھی، تاہم جیو نیوز میں مشاورت کے بعد اس خبر کو بریک کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

جنگ روکنے کے لیے پاکستانی سفارتی مہم حتمی مرحلے میں داخل

حامد میر کے مطابق خبر نشر ہوتے ہی سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا اور خصوصاً بھارتی میڈیا نے اس کا مذاق اڑایا جبکہ بعض حلقوں نے اس کی تردید کی کوشش بھی کی۔ انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی صحافیوں نے بھی ابتدائی طور پر اس خبر پر شکوک کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال تب تبدیل ہوئی جب ٹرمپ نے خود ایک امریکی صحافی کو بتایا کہ ایران کے ساتھ امریکی مذاکرات کا نیا دور جلد ہوگا اور یہ پاکستان میں ہی منعقد ہو گا، یوں ان کی دی گئی خبر کی تصدیق ہو گئی۔ حامد میر نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ صحافت میں سچائی اور ساکھ کتنی اہم ہوتی ہے اور کس طرح ایک درست خبر ابتدائی مخالفت کے باوجود بالآخر اپنی جگہ بنا لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بریکنگ نیوز کی مکمل کہانی ابھی سامنے آنا باقی ہے اور جب امریکہ اور ایران کے مذاکرات کسی حتمی نتیجے پر پہنچیں گے تو مزید تفصیلات بھی منظر عام پر لائی جائیں گی۔

Back to top button