بھارتی خفیہ ایجنسی را کی پاکستان میں ایک اور واردات

بھارتی خفیہ ایجنسی را نے لاہور میں ایک اور واردات ڈالتے ہوئے جماعت الدعوہ کے امیر حافظ سعید کے دست راست مولانا امیر حمزہ پر قاتلانہ حملہ کیا جس میں وہ زخمی تو ہوئے لیکن ان کی جان بچ گئی۔ تحقیقاتی اداروں نے اس حوالے سے سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت مختلف شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
خیال رہے کہ 16اپریل کے روز مولانا امیر حمزہ لاہور کے علاقے پیکو روڈ کے قریب نامعلوم موٹر سائیکل سواروں کی فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہو گئے تھے۔ حملہ آوروں نے مولانا امیر حمزہ کی کار پر فائرنگ کی۔ اس دوران امیر حمزہ کے بازو پر گولیاں لگیں لیکن ان کی جان بچ گئی۔ انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔
پولیس نے واقعے کی تحقیق شروع کر دی ہے جبکہ حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ حملے کے بعد سکیورٹی اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی مختلف پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے اور جلد ہی حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ماضی میں مولانا امیر حمزہ کا تعلق جماعت الدعوہ سے رہا ہے جہاں انہیں تنظیم کے اہم رہنماؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ وہ مختلف مواقع پر تنظیمی سرگرمیوں اور اجتماعات میں بھی شریک رہے، امیر جمات الدعوہ حافظ سعید سے خصوصی قربت کی وجہ سے وہ خبروں میں بھی ان رہے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے اپنی علیحدہ شناخت قائم کی اور تحریک حرمتِ رسول پاکستان کے پلیٹ فارم سے سرگرم عمل ہوئے، جہاں انہیں قیادت کے منصب پر بھی دیکھا گیا۔
حالیہ عرصے میں وہ اسی جماعت سے وابستہ ہو کر مذہبی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے۔ مولانا امیر حمزہ پر قاتلانہ حملے میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے ملوث ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق اگرچہ مولانا امیر حمزہ پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں مگر یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جماعت الدعوہ یا لشکرِ طیبہ سے مبینہ طور پر منسلک ہونے والی شخصیات کو نشانہ بنایا گیا ہو۔ ایسے واقعات حالیہ برسوں میں صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی اور پنجاب کے مختلف شہروں میں بھِی پیش آتے رہے ہیں۔ فروری 2023 میں ٹارگٹ کلنگ کے ایک ایسے ہی واقعے میں 55 سالہ خالد رضا بھی قتل ہوئے تھے۔ ان کا تعلق 90 کی دہائی میں البدر مجاہدین نامی تنظیم سے رہا تھا مگر نائن الیون کے حملوں کے بعد بیشتر کشمیری عسکریت پسند تنظیموں پر پابندیوں کے بعد انھوں نے عسکریت پسندی سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی۔
اسی طرح 18 مئی 2025 کو ضلع بدین کی تحصیل ماتلی میں موٹرسائیکل سوار تین نقاب پوشوں نے پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے عہدیدار رضا اللہ نظامانی کو تب فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا جب وہ حجام کی دکان سے بال کٹوا کر باہر نکل رہے تھے۔ واقعے کے فوری بعد انڈین میڈیا نے اس ٹارگٹ کلنگ پر خوشی کا اظہار کیا اور یہ پروپیگنڈا کیا کہ پاکستان میں بھارت دشمن جہادیوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔
مارچ 2022 میں کراچی کے علاقہ اختر کالونی میں ’’جہادی تنظیم‘‘ جیش محمد کے رکن مستری زاہد ابراہیم کا قتل ہوا تھا۔ دو مسلح موٹر سائیکل سواروں نے ان کو فرنیچر سٹور میں نشانہ بنا کر قتل کیا۔ مستری زاہد ابراہیم مبینہ طور پر دسمبر 1999 میں ایک انڈین مسافر جہاز کی ہائی جیکنگ میں ملوث تھے جو قندھار لے جایا گیا تھا۔ ہائی جیکرز نے انڈین جیل میں برسوں سے قید جیش محمد کے بانی سربراہ مولانا مسعود اظہر کو دو دیگر اہم کمانڈروں مشتاق زرگر اور عمر سعید شیخ سمیت رہا کروا لیا تھا۔ اسی طرح جون 2021 میں لاہور میں جوہر ٹاؤن میں حافظ سعید کے گھر کے باہر ایک کار بم دھماکہ ہوا تھا۔ اس دھماکے میں لشکر طیبہ یا جماعت الدعوة کے سربراہ حافظ سعید کو مارنے کی کوشش کی گئی۔ حافظ سعید اور ان کے اہلخانہ محفوظ رہے لیکن چار افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
