سعودیہ کی مدد نے پاکستان کو IMF کا قرض کیسے دلوایا

سعودی عرب نے پاکستان کو تین ارب ڈالرز کا قرض فراہم کرنے کا فیصلہ ایک ایسے نازک مرحلے پر کیا ہے جب متحدہ عرب امارات اسلام آباد سے اپنے تین ارب ڈالرز کے مالیاتی ڈپازٹس واپس لے کر پاکستانی معیشت کو مشکل میں ڈال چکا تھا، اس فیصلے کے نتیجے میں پاکستان کے غیر ملکی زرِمبادلہ کے ذخائر کو ایک بڑا دھچکا پہنچا تھا۔ اگر سعودی عرب کی جانب سے یہ معاونت نہ ملتی تو پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی اگلی قسط نہ ملتی۔
دوسری جانب پاکستان نے بھی اس مشکل وقت میں اپنے قریبی اتحادی سعودی عرب کا ساتھ دیتے ہوئے دفاعی معاہدے کے تحت اپنے فوجی دستے اور جنگی طیارے سعودی سرزمین پر تعینات کر دیے ہیں تاکہ اس کا دفاع کیا جا سکے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی اور عسکری حکمتِ عملی اس وقت خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے، کیونکہ اسلام آباد بیک وقت ایران، امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان توازن قائم رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ایک جانب پاکستان نے ایران اور امریکہ کے مابین امن مذاکرات کی میزبانی کر کے خود کو ایک اہم ثالث کے طور پر پیش کیا، تو دوسری جانب اس نے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اور مالی تعاون کو بھی مضبوط رکھا ہے، جو حالیہ کشیدگی کے باعث ایران سے نالاں تھا۔
مبصرین کہتے ہیں کہ اسلام آباد نے نہایت محتاط سفارت کاری کے ذریعے نہ صرف ایران اور امریکہ دونوں کا اعتماد برقرار رکھا بلکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو بھی کسی قسم کی کشیدگی سے بچایا۔ پاکستان مسلسل بیک ڈور ڈپلومیسی کے ذریعے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ایران کی جانب سے امریکی حملوں کے ردعمل میں سعودی عرب پر جوابی کارروائیاں کی گئیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پاکستان نے دفاعی معاہدوں کے تحت سعودی عرب کی مدد کے لیے اپنے فوجی دستے اور فضائیہ کے جنگی طیارے روانہ کیے۔ سعودی وزارت دفاع کے مطابق پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیارے مشرقی علاقے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچ چکے ہیں، جس کا مقصد سعودی سرزمین کا دفاع یقینی بنانا ہے۔ اسی دوران مالی سطح پر بھی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اورنگزیب نے واشنگٹن میں تصدیق کی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو مزید تین ارب ڈالر کے ڈپازٹس فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے، جو آئندہ ہفتے تک موصول ہونے کی توقع ہے۔ یہ اعلان عالمی بینک اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے 2026 کے سپرنگ اجلاس کے موقع پر کیا گیا، جہاں پاکستان کی معاشی صورتحال اور بیرونی مالیاتی حکمت عملی پر بھی بات ہوئی۔
سعودی عرب کی جانب سے یہ تین ارب ڈالر ایک ایسے وقت میں فراہم کیے جا رہے ہیں جب متحدہ عرب امارات نے پاکستان سے اپنے تقریباً تین ارب ڈالر کے مالیاتی ڈپازٹس واپس لے لیے ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک خلا پیدا ہو گیا تھا، جسے سعودی معاونت سے پُر کیا جا رہا ہے۔
اسکے علاوہ سعودی عرب کے پہلے سے موجود پانچ ارب ڈالر کے ڈپازٹس کو بھی ایک سالہ بنیاد پر رول اوور کرنے کے بجائے 2028 تک توسیع دے دی گئی ہے، جو پاکستان کے لیے ایک بڑی مالی سہولت ہے۔
وزیر خزانہ کے مطابق یہ مالی معاونت پاکستان کے بیرونی کھاتے کو مستحکم بنانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دینے میں کلیدی کردار ادا کرے گی، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ مالی سال کے اختتام تک ذخائر کو 18 ارب ڈالر تک برقرار رکھا جائے۔ مبصرین کے مطابق اگر سعودی عرب کی جانب سے یہ مالی معاونت نہ ملتی تو پاکستان کو آئی ایم ایف پروگرام کی اگلی قسط کے حصول میں مشکلات پیش آ سکتی تھیں، جبکہ روپے کی قدر میں کمی کا خدشہ بھی موجود تھا۔
خیال رہے پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو مشرق وسطیٰ کی کشیدگی سے براہ راست متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ ملک اپنی تقریباً 90 فیصد توانائی درآمدات اسی خطے سے حاصل کرتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس صورتحال کے باعث پاکستان کی معاشی شرح نمو متاثر ہو سکتی ہے، جسے کم کر کے 3.5 فیصد تک کر دیا گیا ہے جبکہ افراط زر میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
