جنسی درندے ایپسٹین سے عمران خان کا کیا تعلق تھا ؟

 

 

 

 

"ریاستِ مدینہ” بنانے کے دعویدار عمران خان کے جنسی درندے جیفری ایپسٹین کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے انکشاف نے بانی پی ٹی آئی کی پارسائی کا بت پاش پاش کر دیا ہے، حقائق سامنے آنے کے بعد عمران خان کی شرافت اور دیانت کی گواہیاں دینے والے آج منہ چھپاتے پھر رہے ہیں۔ اس حوالے سے سینئر صحافی اور تجزیہ کار شکیل انجم کا اپنے ایک تازہ سیاسی تجزیے میں کہنا ہے کہ اپنی "غیرفطری برائیوں کی تسکین” کے لیے تمام اقدار اور اخلاقیات کو روند کر حیوانیت کو فخریہ شعار بنانے والے جنسی درندے جیفری ایپسٹین کے ساتھ "ریاستِ مدینہ” کے دعویدار بانی پی ٹی آئی عمران خان کے دیرینہ تعلقات کے حوالے سے ٹھوس شواہد سامنے آ گئے ہیں۔ تاہم ایک وقت میں عمران خان کو "صادق و امین” کے القابات دے کر ان کی پارسائی کے دعوے کرنے والے حلقے آج خاموش دکھائی دیتے ہیں اور ایپسٹین فائلز سے جڑے ان انکشافات کی نہ تو کھل کر تردید کر رہے ہیں اور نہ ہی کوئی واضح توجیح پیش کر رہے ہیں، جس سے ایپسٹن فائلز میں کئے جانے والے دعوؤں کی حقانیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔

شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ ایپسٹن فائلز میں کیے جانے والے انکشافات نے دنیا بھر کی عیاش طبع "اشرافیہ” کو بالکل ننگا کر دیا ہے۔ ایپسٹن فائل کے مندرجات کے مطابق بلاواسطہ یا بالواسطہ اس گند کا حصہ رہنے والی شخصیات منہ چھپاتی نظرآتی ہیں۔ تاہم دنیا بھر کا سوشل میڈیا اور گوگل ایسی "اعلیٰ شخصیات” کے ناموں سے بھرا پڑا ہے جنہوں نے اپنی مرضی سے یہ کالک اپنے چہروں پر ملی اور ان کی شناخت ایپسٹین فائل میں موجود ہے۔ شکیل انجم کے بقول انہی مکروہ شخصیات میں "ریاستِ مدینہ” بنانے کے دعویدار عمران خان کا نام بھی کسی حقیقی عالمِ دین کے بجائے، جیفری ایپسٹین کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔ شکیل انجم کے مطابق حیرت کی بات یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک تصویر خوب وائرل ہے جس میں جیفری ایپسٹین اور عمران خان کے ساتھ شاہ محمود قریشی بھی موجود نظر آتے ہیں، جس سے یہ تاثر لیا جا رہا ہے کہ جیفری ایپسٹین سے یہ ملاقات عمران خان کے دورِ اقتدار میں ہوئی۔

شکیل انجم کے مطابق ایپسٹین فائل سے متعلق بعض دعوؤں میں کہا گیا ہے کہ عمران خان اور ایپسٹین کے درمیان متعدد ملاقاتیں ریکارڈ پر ہیں، تاہم ان ملاقاتوں کے موضوعات تاحال واضح نہیں ہو سکے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ آیا عمران خان دیگر کئی عالمی لیڈرز کی طرح عیاشی کرنے ایپسٹین کے بدنامِ زمانہ جزیرے تک گئے یا نہیں، تاہم عمران خان اور ایپسٹن کی دیرینہ تعلقات بارے دعوؤں نے ان کی "پاکیزگی” کے بیانیے پر سوالیہ نشان ضرور کھڑا کر دیا ہے۔ شکیل انجم کا مزید کہنا ہے کہ ایپسٹن سے تعلقات بارے انکشافات کی بنیاد پر بعض حلقے سابق سپرنٹنڈنٹ کاشانۂ دارالامان، افشاں لطیف کے الزامات کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے دکھائی دیتے ہیں، افشاں لطیف کی جانب سے عمران خان پر گندے الزامات کا آغاز 2019 میں اس وقت ہوا جب عمران خان اقتدار کے عروج پر تھے۔ تاہم عمران خان یا خاتونِ اول کی جانب سے ان الزامات پر کوئی واضح اور تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جس نے شکوک و شبہات کو مزید تقویت دی۔

شکیل انجم کے مطابق ناقدین کا ماننا ہے کہ یتیم اور بے آسرا بچیوں کی حفاظت اور تعلیم و تربیت کے لیے قائم کاشانہ دارالامان کی بچیوں کے جنسی استحصال سے متعلق الزامات کے پس منظر میں سامنے آنے والے جیفری ایپسٹین سکینڈل نے سابق سپرنٹنڈنٹ افشاں لطیف کے دعوؤں کو مزید تقویت دی ہے۔ ان دونوں معاملات کو ایک ہی تناظر میں دیکھنے سے سمجھ آتی ہے کہ عمران خان دودھ کے دھلے نہیں انھوں نے یقینا جیفری ایپسٹین کے خفیہ جزیرے میں غوطے ضرور لگائے ہونگے۔ شکیل انیم سوال اٹھاتے ہیں کہ عمران خان کی سامنے آنے والی نام نہاد "خوبیوں” کے باوجود کہاں ہیں وہ "انصاف کے علمبردار” جنہوں نے عمران خان جیسی شخصیت کو "صادق و امین” قرار دیا تھا؟ کیا آج وہ اپنے فیصلوں پر نظرثانی کرنے کو تیار ہونگے؟

شکیل انجم بتاتے ہیں ایپسٹین فائل کی دستاویزات کا ایک اہم حصہ اس تفصیلی ایڈریس بک پر مشتمل ہے جو 2015 میں منظر عام پر آئی تھی، جس میں دنیا کی 1700 سے زائد بااثر شخصیات کے روابط موجود تھے۔ بعد ازاں مختلف قانونی مراحل کے تحت ایپسٹن فائلز کی مزید دستاویزات جاری کی گئیں، جن میں متاثرہ خواتین کی تصاویر، بیانات اور تحقیقی رپورٹس بھی شامل تھیں۔ ان فائلز سے پتا چلتا ہے کہ جیفری ایپسٹین کے تعلقات سیاست دانوں، کاروباری شخصیات اور شاہی خاندانوں تک پھیلے ہوئے تھے۔جن میں عمران خان، بل کلنٹن، ڈونلڈ ٹرمپ اور پرنس اینڈریو جیسے نام بھی شامل ہیں۔

Back to top button