2 ماہ بعد امپورٹڈ مہنگے موبائل فونز 50فیصد سستے ہونے کا امکان

 

 

 

آئندہ دو ماہ کے دوران پاکستان میں درآمدی موبائل فونز کی قیمتوں میں 50 فیصد تک کمی کا امکان پیدا ہو گیا ہے،  سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کی جانب سے بھی درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کو غیر منصفانہ قرار دےکر ان میں کمی کی سفارش سامنے آنے کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ بجٹ میں موبائل فونز کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق قائمہ کمیٹیوں کی مجوزہ سفارشات پر عمل درآمد کرنے سے عام صارفین کو 50 فیصد تک ریلیف حاصل ہونے کا امکان ہے جس سے مارکیٹ میں امپورٹڈ موبائل فون کئی گنا سستے ہو جائیں گے۔

 

خیال رہے کہ ایک عرصے تک پاکستان میں درآمد شدہ موبائل فونز پر سیلز ٹیکس پر چھوٹ تھی تاہم 2021 میں اس وقت کی وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر یہ استثنیٰ ختم کر دیا تھا جس کے بعد درآمد شدہ موبائل فونز کی قیمتوں میں خاطر خوا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جس کے بعد سے ہی درآمدی موبائل فونز پر عائد بھاری پی ٹی اے ٹیکسز  عوامی تنقید کی زد میں ہیں جہاں ایک طرف موبائل فونز پر عائد ٹیکس کو غیر منصفانہ قرار دیا جاتا ہے وہیں گزشتہ کچھ عرصے سے ان ٹیکسز میں کمی کا مطالبہ بھی زور پکڑتا جا رہا ہے۔ تاہم سینیٹ و قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کی سفارشات کے بعد درآمدی موبائل فونز پر عائد ٹیکسز کی کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں درآمدی موبائل فونز پر مختلف سرکاری ٹیکسز اور ڈیوٹیز ادا کی جاتی ہیں جن میں کسٹمز ڈیوٹی، سیلز ٹیکس، ایڈیشنل سیلز ٹیکس اور بعض صورتوں میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور انکم ٹیکس بھی شامل ہوتے ہیں۔ اگر یہ فون بیرونِ ملک سے درآمد کیا گیا ہو تو یہ تمام ٹیکسز الگ سے لاگو ہوتے ہیں اور مجموعی رقم فون کی قیمت کے تقریباً 40 سے 70 فیصد تک بھی پہنچ جاتی ہے۔ تاہم اب قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے حکومت سے درآمدی موبائل فونز پر ایڈوانس انکم ٹیکس کی بجائے صرف عام سیلز ٹیکس نافذ کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ جس کے بعد اب یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ بجٹ میں حکومت موبائل فون ٹیکس کے حوالے سے صارفین کو 50 فیصد تک ریلیف دے سکتی ہے۔

ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ درآمدی موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کی وجہ کیا ہے؟ کیا موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس ختم کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟

 

ماہرین کے مطابق پاکستان میں مہنگے موبائل فونز پر عائد معروف ’پی ٹی اے ٹیکس‘ دراصل پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے کا ٹیکس نہیں بلکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے عائد کیا گیا ایک درآمدی یا رجسٹریشن ٹیکس ہے۔ ایف بی آر یہ ٹیکس وصول کرنے کے بعد پی ٹی اے کو اس سے متعلق آگاہ کرتا ہے جس کے بعد پی ٹی اے اس موبائل ڈیوائس کو پاکستان میں فعال یعنی ایکٹیو کر دیتا ہے۔ چونکہ اس عمل میں پی ٹی اے کا کردار شامل ہوتا ہے، اس لیے صارفین میں اسے ’پی ٹی اے ٹیکس‘ کے نام سے پکارا جانے لگا ہے۔ ماہرین کے بقول موبائل فونز پر یہ ٹیکس دراصل اس لیے لگایا جاتا ہے تاکہ سمگل شدہ یا غیرقانونی موبائل فونز کا استعمال روکا جا سکے اور صرف وہی ڈیوائسز پاکستان کے نیٹ ورک پر استعمال ہو سکیں جو قانونی طور پر درآمد یا رجسٹر کی گئی ہوں۔

 

اگر کوئی شخص دبئی، سعودی عرب، برطانیہ یا کسی بھی ملک سے نیا یا استعمال شدہ فون لا کر پاکستان میں استعمال کرنا چاہتا ہے تو اس فون پر پی ٹی اے رجسٹریشن ٹیکس لازمی ہوتا ہے۔اسی طرح اگر کوئی موبائل فون پاکستان میں غیر رجسٹرڈ ہے اور اس کا آئی ایم ای آئی پی ٹی اے سسٹم میں ’نان کمپلائنٹ‘ یا ’بلاکڈ‘ آتا ہے تو وہ فون استعمال کے قابل نہیں ہوتا جبکہ اس پر ٹیکس ادا نہ کیا جائے۔ علاوہ ازیں جو موبائل فونز سمگل شدہ یا آن لائن غیر رجسٹرڈ حالت میں فروخت کیے جاتے ہیں، انہیں بھی فعال کرنے کے لیے پی ٹی اے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان میں مہنگے موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس لازمی طور پر ادا کرنا پڑتا ہے کیونکہ پی ٹی اے اور ایف بی آر موبائل فون پر ٹیکس اس کی قیمت کے لحاظ سے عائد کرتے ہیں۔ جتنا فون مہنگا ہو گا، اتنا ہی زیادہ ٹیکس دینا پڑے گا۔ مثال کے طور پر اگر کسی موبائل فون کی مالیت 500 سے 700 امریکی ڈالر کے درمیان ہے تو پاسپورٹ پر تقریباً 36 ہزار روپے اور قومی شناختی کارڈ پر تقریباً 48 ہزار روپے ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس سے زیادہ مالیت والے موبائل فونز پر قیمت کے حساب سے ٹیکس کئی گنا مزید بڑھ جاتا ہے۔

ٹرمپ کا دورہ پاکستان پہلے امریکی صدور کے دوروں سے منفرد کیوں؟

تاہم اب قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹیوں کی جانب سے سابق وزیرِاعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے سید قاسم گیلانی کی جانب سے موبائل فونز پر عائد بھاری ٹیکسز کے خلاف شروع کی گئی تحریک کی حمایت کے بعد مبصرین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر حکومت پر دباؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ قائمہ کیمٹیوں کی تائید کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ وزیرِاعظم کو اس حوالے سے قائل کیا جائے گا، اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں موبائل فونز پر ٹیکس مکمل طور پر ختم نہ بھی کیا گیا تو اس میں نمایاں کمی ضرور کی جا سکتی ہے۔

 

Back to top button