اسلام آباد مذاکرات کے دوسرے راؤنڈ میں کیا ہونے والا ہے؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار عامر خاکوانی نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اب ایک نہایت حساس اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جہاں ہر گزرتا دن کسی بڑے بریک تھرو یا خطرناک تصادم کی طرف اشارہ دے رہا ہے۔ ان کے مطابق بظاہر امریکی اور ایرانی قیادت کی جانب سے متضاد بیانات کے باوجود پسِ پردہ ایک بڑی ڈیل کی تیاری جاری ہے جس کے نتیجے میں اگلے تین چار روز میں اسلام آباد میں مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ منعقد ہو سکتا ہے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں عامر خاکوانی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان ایک بڑا سفارتی اشارہ ہے، جسے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس فیصلے کا مقصد مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانا اور عالمی طاقتوں کو اعتماد میں لینا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس اعلان کو خوش آئند قرار دیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ واضح کر دیا کہ امریکی بحری ناکہ بندی اس وقت تک برقرار رہے گی جب تک ایک حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ ٹرمپ کے اس دو ٹوک مؤقف کو دوغلی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔

 

عامر خاکوانی کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ ایران اپنی افزودہ یورینیم امریکا کے حوالے کرنے پر آمادہ ہو چکا ہے، دراصل ایک بڑی سفارتی چال ہے تاکہ مذاکراتی فضا کو اپنے حق میں ہموار کیا جا سکے۔ تاہم یہ بیان فوری طور پر متنازع بن گیا۔ ایرانی قیادت نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔ تہران سے جاری ہونے والے تردیدی بیانات میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کسی بھی صورت اپنی جوہری خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں کرے گا اور افزودہ یورینیم کی منتقلی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

 

عامر خاکوانی کے مطابق دونوں فریق عوامی سطح پر سخت بیانات دے رہے ہیں، مگر پسِ پردہ لچک دکھا رہے ہیں۔ یہ سفارتی کھیل کا وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں بیانیہ اور حقیقت میں واضح فرق ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکی مطالبات اب بھی تین بنیادی نکات کے گرد گھومتے ہیں۔ پہلا مطالبہ یہ یے کہ ایرانی نیوکلئیر پروگرام پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں، دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ مستقبل میں آبنائے ہرمز کسی بھی صورت بند نہیں کی جائے گی، اور تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ خطے میں ایرانی اثر و رسوخ میں کمی لائے جائے گی۔ تاہم حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ نکات پر خاموش مفاہمت ہو چکی ہے۔

 

تجزیہ کار کے مطابق ایران کی ترجیحات بھی واضح ہیں، جن میں سب سے اہم نقطہ اس پر عائد عالمی اقتصادی پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی کا ہے۔ ایران چاہتا ہے کہ کم از کم ابتدائی مرحلے میں اسے فوری طور پر مالی ریلیف دیا جائے اور اس کے اربوں ڈالرز مالیت کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں تاکہ داخلی اس پر موجود دباؤ کم ہو سکے۔

عامر خاکوانی کے بقول پیر تک ایک اہم پیش رفت متوقع ہے، اور یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ امریکی اور ایرانی قیادت ایک بار پھر پاکستان کا رخ کرے گی تاکہ مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ ہو سکے۔

 

انکے مطابق اسلام آباد اس وقت اس پورے عمل میں مرکزی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً مشرق وسطیٰ اور مغربی ذرائع، تصدیق کر رہے ہیں کہ پاکستان میں ایک ممکنہ امن معاہدے پر دستخط کی تیاریاں جاری ہیں۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست کے لیے ایک بڑا موڑ ہوگا۔ خاکوانی کے بقول پاکستان کا کردار محض سہولت کار سے بڑھ کر ایک فعال ثالث کا ہو چکا ہے۔ امریکا اور ایران دونوں نے اسلام آباد پر اعتماد کا اظہار کیا ہے، جو پاکستان کی سفارتی کامیابی کا واضح ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ معاہدے کا خاکہ کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ ایران محدود مدت کے لیے افزودگی کو معطل کرے گا، آبنائے ہرمز کھلی رہے گی، اور امریکا بتدریج پابندیاں نرم کرے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اعتماد سازی کے مزید اقدامات بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش امریکی صدر کو بیک فٹ پر کیسے لائی؟

خطے کی وسیع تر صورتحال پر بات کرتے ہوئے خاکوانی نے کہا کہ ایک “پرو امن بلاک” واضح طور پر سامنے آ رہا ہے، جبکہ کچھ قوتیں اب بھی اس عمل سے خائف ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل اس ڈیل کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور پسِ پردہ اس کی مخالفت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تمام صورتحال میں بھارت کا کردار نہایت محدود ہو چکا ہے، جو کبھی ایران کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتا تھا، مگر اب اس سفارتی عمل سے تقریباً باہر ہو چکا ہے۔ یہ بھی جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاست کی ایک اہم علامت ہے۔

 

عامر خاکوانی کہتے ہیں کہ آنے والے چند دن فیصلہ کن ہیں۔ اگر امریکہ اور ایران کے مابین پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں معاہدہ ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف ایک بڑی جنگ کو روک دے گا بلکہ مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن کو بھی نئی شکل دے گا۔ ان کے مطابق یہ محض ایک ڈیل نہیں بلکہ ایک نئی جیو پولیٹیکل حقیقت کا آغاز ہو گا، جس میں پاکستان کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

Back to top button