جنرل عاصم منیر سفارت کاری کی دوڑ کے چیمپین کیسے بنے؟

مشرق وسطیٰ میں قیام امن کیلئے جاری تاریخی سفارتی دوڑ میں فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کی حالیہ کوششوں کی وجہ سے جہاں عالمی سطح پر پاکستان کا ڈنکا بج رہاہے، وہیں دنیا بھر میں وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بھی طوطی بول رہا ہے کیونکہ انہی تینوں رہنماؤں کی مسلسل کاوشوں، اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مؤثر رابطہ کاری کے نتیجے میں نہ صرف دونوں متحارب ممالک مذاکرات کی میز پر آنے پر آمادہ ہوئے بلکہ امریکہ اور ایران میں آئندہ دنوں میں کسی بڑے معاہدے کی راہ بھی ہموار ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ اس جامع امن مہم کے دوران وزیر اعظم، فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ نے مختلف ممالک کے دورے کیے اور مجموعی طور پر 69,692 کلومیٹر کا طویل سفر طے کیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ پاکستان نے قیامِ امن کے لیے غیر معمولی سنجیدگی کا مظاہرہ کیا۔
تاہم اس حوالے سے سامنے آنے والے حقائق کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس سفارتی دوڑ میں سب سے آگے عاصم منیر رہے۔ تینوں اعلیٰ پاکستانی ذمہ داران میں سب سے زیادہ سفر فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر نے کیاانھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کی کوششوں کے دوران مجموعی طور پر 24,720 کلومیٹر سفر طے کیا اور دیگر دونوں رہنماؤں پر سبقت حاصل کی۔ ان کے بعد شہباز شریف 23,642 کلومیٹر سفر کرنے کی وجہ سے دوسرے نمبر پر رہے، جبکہ اسحاق ڈار نے 21,330 کلومیٹر سفر کر کے تیسری پوزیشن حاصل کی۔ مبصرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کے عکاس ہیں کہ پاکستان نے سیاسی، سفارتی اور عسکری ہر سطح پر بھرپور اور مربوط کوششیں کیں تاکہ خطے میں امن قائم کیا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان کے بعد خطے میں کشیدگی میں کمی کے آثار نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں، اس پیش رفت کے پیچھے پاکستان کی متحرک سفارت کاری کارفرما دکھائی دیتی ہے جس کا اعتراف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بارہافیلڈ مارشل اور وزیر اعظم کا شکریہ اداکرکے بھی کیا ہے۔ مبصرین کے بقول 28 فروری 2026 کو اسرائیل اور امریکا کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد پاکستان نے فوری طور پر اپنی سفارتی کوششوں کو تیز کر دیا تھا، جس میں نہ صرف بیرونِ ملک دورے شامل تھے بلکہ پاکستان میں غیر ملکی وفود کی آمد اور مسلسل ٹیلیفونک رابطے بھی اس کا حصہ رہے۔ انہی کوششوں کے نتیجے میں 7 اور 8 اپریل کی درمیانی شب امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی ممکن ہوئی، جبکہ 12 اپریل کو اسلام آباد میں اعلیٰ سطحی مذاکرات بھی ہوئے، جو ابتدائی طور پر بے نتیجہ رہے مگر اب ان کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کی جانب سے قیام امن کیلئے کوششیں اچانک شروع نہیں ہوئیں بلکہ ان کی بنیاد 7 اکتوبر 2023 کے بعد ہی پڑگئی تھی، جب اسرائیل نے غزہ میں مظالم کے پہاڑ توڑنے شروع کیے اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی۔ پاکستان نے ابتدا ہی سے امن کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا۔ بعد ازاں مئی 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران حاصل ہونے والی سفارتی برتری کو بھی عالمی سطح پر مؤثر انداز میں استعمال کیا۔ اسی سلسلے میں ورلڈ اکنامک فورم 2026 کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غزہ امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا گیا، جس میں پاکستان کی شمولیت نے اس کے عالمی کردار کو مزید مضبوط کیا۔ بعد ازاں واشنگٹن میں ہونے والا اجلاس اور پھر اسلام آباد میں مذاکرات اس عمل کا اہم حصہ بنے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اس دوران ترکیہ، قطر اور سعودی عرب کے دورے کیے جہاں انہوں نے عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں کر کے قیامِ امن کے لیے حمایت حاصل کی۔ ریاض، دوحہ اور استنبول کے تین غیر ملکی دوروں کے دوران انھوں نے 13,568 کلومیٹر سفر کیا گیا، جبکہ اس سے قبل مارچ میں سعودی عرب کے ایک اور دورے میں 10,074 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا گیا، یوں مجموعی طور پر انھوں نے قیام امن کی کوششوں کے دوران 23,642 کلومیٹر سفر کیا۔ اسحاق ڈار نے بھی وزیراعظم کے ہمراہ ان دوروں میں شرکت کی اور اس کے علاوہ انھوں نے 31 مارچ کو بیجنگ کا اہم دورہ کیا، جہاں پاکستان اور چین نے مل کر ایران اسرائیل جنگ بندی کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کیا، اس دورے کی طوالت 7,762 کلومیٹر تھی اور مجموعی طور پر انہوں نے 21,330 کلومیٹر سفر کیا۔
پاکستان نے دنیا کو تیسری خطرناک ترین عالمی جنگ سے کیسے بچایا؟
دوسری جانب فیلڈ مارشل عاصم منیر نے عسکری سطح پر اہم سفارتی رابطے کیے۔ وہ ایران کے دورے پر گئے جہاں امریکا ایران کشیدگی کے تناظر میں براہ راست بات چیت کی، جس کے لیے اسلام آباد اور تہران کے درمیان 6,214 کلومیٹر کا سفر طے کیا گیا۔ اس سے قبل 7 مارچ کو وہ سعودی عرب گئے جہاں انہوں نے سعودی وزیر دفاع سے ملاقات کی، اور اس دورے میں انھوں نے کل 8,432 کلومیٹر کا سفر کیا۔ مزید برآں وہ 12 مارچ کو وزیراعظم کے ہمراہ جدہ بھی گئے، جس کے دوران انھوں نے 10,074 کلومیٹر کا سفر کیا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر ان کا سفر 24,720 کلومیٹر بنتا ہے، جو تینوں میں سب سے زیادہ ہے۔ مبصرین کے مطابق مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کی یہ مسلسل، مربوط اور بھرپور سفارتی کوششیں نہ صرف امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد، غیر جانبدار اور مؤثر ثالث کے طور پر بھی اجاگر کر رہی ہیں۔
