آبنائے ہرمز کی بندش امریکی صدر کو بیک فٹ پر کیسے لائی؟

امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے خود پر حملے کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کر کے ایک ایسا مؤثر کارڈ کھیلا جو صدر ٹرمپ کو بیک فٹ پر لے آیا اور انہیں ایران کے ساتھ مذاکرات پر مجبور کر دیا۔ وہ امریکہ جو ایران پر اس کے نیوکلیئر پروگرام کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا، آبنائے ہرمز کی بندش نے اسے اور پوری دنیا کو ایک نئے بحران میں مبتلا کر دیا۔ نتیجتاً امریکہ کا فوکس ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے خاتمے سے ہٹ کر آبنائے ہرمز کو کھلوانے پر منتقل ہو گیا۔
آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز کھول دی ہے اور ڈونلڈ ٹرمپ ایران کا شکریہ ادا کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کا کارڈ نہایت چالاکی کے ساتھ کھیلتے ہوئے امریکہ کو جنگ بند کرنے اور مذاکرات شروع کرنے پر مجبور کر دیا۔ یاد رہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی سپلائی کی سب سے اہم گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، اس کی بندش نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ تیل بردار جہازوں کی آمدورفت رکنے سے نہ صرف تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا تھا بلکہ عالمی سپلائی چین بھی شدید متاثر ہوئی تھی۔ ایشیا، یورپ اور خلیجی ممالک سمیت سب اس بحران کی لپیٹ میں آ گئے تھے۔ ایران کے ایکشن نے عالمی طاقتوں کو یہ احساس دلایا کہ روایتی عسکری برتری ہمیشہ فیصلہ کن ثابت نہیں ہوتی اور ایک جغرافیائی علاقہ کنٹرول کر کے بھی بڑی طاقتوں کو دباؤ میں لایا جا سکتا ہے۔ یہی وہ نکتہ تھا جس نے امریکی صدر کو اپنی حکمت عملی پر نظرثانی پر مجبور کیا۔
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے متعدد آپشنز موجود تھے، جن میں سفارتی مذاکرات، فوجی کارروائی، یا بحری راستے کو زبردستی کھلوانا شامل تھا۔ تاہم ہر آپشن کے ساتھ سنگین خطرات جڑے ہوئے تھے، خاص طور پر ایک بڑے علاقائی جنگ کے خدشات لازمی موجود تھے۔ابتدائی طور پر امریکہ نے مذاکرات کا راستہ اپنانے کی کوشش کی، مگر اسلام آباد بات چیت ناکام رہی۔ اس کے بعد ایرانی تیل کے بنیادی ڈھانچے تباہ کرنے کا آپشن زیر غور آیا، لیکن اس سے کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو سکتا تھا اور ایرانی جوابی کارروائی کے نتیجے میں خلیج کا خطہ مکمل جنگ کی طرف جا سکتا تھا۔ آبنائے ہرمز کو فوجی طاقت سے کھلوانا بھی آسان نہیں تھا۔ سمندری بارودی سرنگیں، میزائل خطرات، اور تیز رفتار کشتیوں کے حملے امریکی بحریہ کے لیے ایک بڑا چیلنج تھے۔ امریکہ کی جدید بحری ٹیکنالوجی بھی اس پیچیدہ صورت حال کا فوری حل فراہم نہ کر سکی۔ امریکہ کی جانب سے بین الاقوامی اتحاد بنانے کی کوشش بھی ناکام رہی۔ نیٹو کے اتحادی انکے ساتھ کھرے نہ ہوئے، جبکہ ایشیائی ممالک بھی براہِ راست تصادم سے گریزاں رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ٹرمپ کو تنہا اس صورتحال کا سامنا کرنا پڑا۔
ایسے میں ٹرمپ نے پاکستان کی مدد لینے کا فیصلہ کیا جس کے بعد فیلڈ مارشل سے منیر اور وزیراعظم شہباز شریف متحرک ہو گئے۔ پاکستانی کوششوں کے نتیجے میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے آبنائے ہرمز کو عارضی طور پر کھولنے کا اعلان ایک اہم سفارتی پیش رفت ہے۔ اس اعلان نے نہ صرف ایران اور امریکہ کے مابین کشیدگی کم کی بلکہ مذاکرات کے دروازے بھی دوبارہ کھول دیے ہیں۔ پاکستان کی ثالثی نے اس پورے عمل میں اہم کردار ادا کیا۔ سفارتی سطح پر پس پردہ رابطوں اور اعتماد سازی کی کوششوں نے دونوں فریقین کو ایک درمیانی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ اہم پیش رفت ممکن ہوئی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ، جو ابتدا میں دباؤ بڑھانے کی پوزیشن میں تھا، اب ایک ایسے مقام پر آ گیا جہاں اسے ایران کے اقدامات کو سراہنا پڑا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ایران کا شکریہ ادا کرنا اسی بدلتی ہوئی صورتحال کی واضح عکاسی کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے سب سے زیادہ نقصان عالمی معیشت کو ہوا۔ خلیجی ممالک کی برآمدات متاثر ہوئیں، چین اور دیگر ایشیائی ممالک کو توانائی کے بحران کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ یورپی معیشتیں بھی غیر یقینی صورتحال سے دوچار رہیں۔
امریکی اتحادی بھی اس بحران سے محفوظ نہ رہ سکے۔ کئی ممالک نے بغیر جنگ میں شامل ہوئے معاشی نقصان برداشت کیا، جس نے عالمی سطح پر امریکی پالیسیوں پر سوالات کو جنم دیا۔
ایران کے آبنائے ہرمز کھولنے کے اعلان پر صدر ٹرمپ کا خیر مقدم
تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران نے محدود وسائل کے باوجود اپنی جغرافیائی اہمیت کو استعمال کرتے ہوئے عالمی طاقت کے توازن کو وقتی طور پر اپنے حق میں موڑ لیا۔ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایک ایسا قدم ثابت ہوا جس نے نہ صرف امریکہ کی حکمت عملی تبدیل کی بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے استعمال کے نئے پہلو کو بھی اجاگر کیا۔
