سہیل وڑائچ کے بقول سیاست پر عسکری جھاڑو کیسے پھر گیا؟

 

 

 

معروف اینکر پرسن اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہ موجودہ عالمی بحران کی وجہ سے پاکستانی سیاست پر مکمل طور پر عسکری جھاڑو پھر گیا ہے اور فی الحال ملکی سیاست مکمل طور پر غیر متعلق ہوگئی ہے۔

 

روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ موجودہ بحران کے دوران یہ بنیادی سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستانی سیاست میں کون ہیرو بنا اور کون زیرو بنا؟ ان کے مطابق اہلِ سیاست کی صورت حال کا جائزہ لیا جائے تو کہیں بھی جرات یا امید کی کوئی نوید نظر نہیں آ رہی۔ ملک کے تمام بڑے سیاسی کردار حالات بہتر ہونے کا انتظار کرتے ہوئے خاموشی اختیار کیے بیٹھے ہیں۔

 

انکے مطابق نواز شریف اس وقت صرف محدود سطح پر رہنمائی کر رہے ہیں، وہ عملی سیاست سے کافی حد تک الگ ہو چکے ہیں اور انہوں نے پارٹی قیادت سے ملاقاتیں بھی کم کر دی ہیں۔ دوسری جانب آصف زرداری اگرچہ صدرِ مملکت کے منصب پر فائز ہیں مگر سیاسی سنٹر سٹیج ان کے پاس نہیں، اور نہ ہی بلاول بھٹو زرداری کو وہ مرکزی حیثیت حاصل ہو سکی ہے جو ایک فعال قومی رہنما کو ہونی چاہیے۔ شہباز شریف انتظامی طور پر کامیاب ضرور دکھائی دیتے ہیں مگر ریاستی قیادت اور حکومتی کمانڈ ان کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق اڈیالہ جیل میں بیٹھا ماضی کا بڑا سیاسی ہیرو عمران خان اب زیرو بنتا دکھائی دیتا ہے، وہ جو بھی سوچ رہا ہو، حقیقت یہ ہے کہ دنیا کے حالات جس تیزی سے بدلے ہیں اس کی گرفتاری اب عوام کا مسئلہ نہیں رہی اور موصوف ملکی سیاست میں غیر متعلق ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول حکومت ہو یا اپوزیشن، سب ایسی کیفیت کا شکار ہیں جہاں سیاست پر مکمل طور پر جھاڑو پھر چکا ہے۔ انہوں نے یہ سوال دہرایا کہ موجودہ بحران میں کون ہیرو بنا اور کون زیرو، اور کہا کہ اس وقت ہمارا پورا سیاسی منظرنامہ غیر یقینی اور مایوسی کا شکار ہے، اور کوئی واضح قیادت یا امید نظر نہیں آتی۔

 

سہیل وڑائچ نے ماضی کے معروف روحانی و سیاسی رہنما پیر پگاڑا عرف سید مردان علی شاہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ اکثر سیاست دانوں کو خبردار کرتے تھے کہ ایک وقت آئے گا جب سیاست پر جھاڑو پھر جائے گا۔ پیر پگاڑا خود کو جی ایچ کیو کا نمائندہ بھی کہا کرتے تھے اور ان کے بیانات مزاح، طنز اور تلخ سچائی کا امتزاج ہوتے تھے۔ آج کی صورتحال میں ان کا یہ فقرہ شدت سے یاد آتا ہے کیونکہ بظاہر واقعی سیاست اپنی معنویت کھو چکی ہے۔

انکے بقول ماضی میں پیر پگاڑا مارشل لا کے نفاذ، اور حکومت کی برطرفی کا ایڈوانس اشارہ دے کر سیاستدانوں کو خبردار کر دیا کرتے تھے، مگر موجودہ صورتحال اس سے مختلف ہے۔ آج کے پاکستان میں کسی بڑے آئینی یا غیر آئینی اقدام کے بغیر ہی سیاست غیر متعلق کر دی گئی ہے۔ ان کے بقول “سو سنار کی، ایک لوہار کی” کے مصداق ایک ہی فیصلہ کن قدم نے سفارت، سیاست، بیانیہ اور خدمت کی طویل کہانیوں کو پس منظر میں دھکیل دیا ہے۔ یہ کسی کرشمے، ستاروں کی چال، دعا یا تاریخ کے نئے موڑ کا نتیجہ بھی ہو سکتا ہے۔

 

سہیل وڑائچ نے اپنے تجزیے میں بہادری کے عنصر کو غیر معمولی اہمیت دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہادری عقل و فہم سے کہیں آگے کی شے ہے، اور ایک جرات مندانہ قدم بسا اوقات سو عقلی دلائل پر بھاری پڑ جاتا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں بھی ایک حیران کن جرات نے حکومت اور اپوزیشن کی سیاست کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے دنیا بہادروں کی بنائی ہوئی ہے جبکہ بزدل محض اس میں رہنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

 

انہوں نے حالیہ علاقائی صورتحال اور پاک بھارت کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کامیابی کے پیچھے غیر معمولی جرات کارفرما تھی۔ اسی تناظر میں انہوں نے جنرل عاصم منیر کے ایران کے دورے کا ذکر کیا اور کہا کہ جنگ زدہ ماحول میں ان کا بے خوفی سے تہران پہنچ کر جہاز سے اترنا ایک ایسا منظر تھا جس نے عقل کو حیران کر دیا۔ ان کے مطابق عسکری قیادت کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں، امریکہ، چین اور ایران جیسے ممالک کے درمیان توازن قائم رکھنا اور پھر جنگی حالات کے دوران ایران کا دورہ کرنا، ہماری تاریخ میں جرات اور دانش کے ایک نئے باب کا اضافہ ہے۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس نے ہمارے تمام سیاسی کرداروں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس بحران سے ایک ہی کردار فاتح کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جبکہ دیگر سب پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے انہوں نے حضرت علیؓ، خالد بن ولیدؓ، صلاح الدین ایوبی، طارق بن زیاد اور دیگر عظیم شخصیات کا ذکر کیا جنہوں نے اپنی بے مثال جرات سے تاریخ کا رخ موڑا۔ انکے مطابق ذوالفقار علی بھٹو کا سلامتی کونسل میں بھارت کے حق میں پیش کردہ قرارداد پھاڑنا اور پھر جرات کے ساتھ پھانسی کا سامنا کرنا بھی تاریخ کا ایک ناقابلِ فراموش باب ہے، اسی طرح جنگ کے دوران تہران میں بے خوفی سے جہاز کی سیڑھیاں اترنے کا منظر بھی ایک تاریخی موڑ کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے مطابق مسلم معاشروں میں بہادری کو ہمیشہ عقل پر فوقیت حاصل رہی ہے، جہاں ہاری ہوئی جنگ کی ذمہ داری سپہ سالار پر ڈالی جاتی ہے جبکہ جیتی ہوئی جنگ کا کریڈٹ بہادر سپاہی کو دیا جاتا ہے۔ انہوں نے سقوط ڈھاکہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ داغ آج تک قومی حافظے پر موجود ہے۔

تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ معاشروں کی رہنمائی عموماً سیاستدان اور مفکرین کرتے ہیں۔ ونسن چرچل اور چارلس ڈیگال نے اپنی دانش سے اپنے ممالک کو عالمی مقام دلایا جبکہ محمد علی جناح نے عقل و تدبر سے پاکستان قائم کیا۔ اسی طرح بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری، نواز شریف، شہباز شریف اور عمران خان نے اپنے اپنے ادوار میں ملک کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کیا۔

پاکستان نے دنیا کو تیسری خطرناک ترین عالمی جنگ سے کیسے بچایا؟

لیکن سہیل وڑائج کے بقول موجودہ بحران میں کسی سیاست دان کی بجائے ایک عسکری کردار اپنی فہم و فراست اور بہادری کی وجہ سے ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس کردار نے نئی سمت، نئی منزل اور نئے راستے متعین کیے ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کے مسائل بنیادی طور پر سیاسی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال اہم ہے کہ ایک غیر سیاسی ہیرو کے ہوتے ہوئے ملک کا سیاسی نظام کیسے چلے گا؟ ایسے میں ان کا کہنا ہے کہ فوجی قیادت، حکومت اور اپوزیشن کو اپنی انا اور ضد چھوڑ کر اس تاریخی موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیے اور مل جل کر اگے بڑھنا چاہیے۔ ان خے مطابق حالیہ حالات نے بہت سے بیانیوں کو بے نقاب کر دیا ہے اور یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ کون ریاست کے استحکام کے لیے کام کر رہا ہے اور کون اسے کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت، امریکہ اور ایران جیسے حریف ممالک کا پاکستان کے حوالے سے مثبت رویہ، اور حالیہ سفارتی کامیابیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایک نئی تاریخ رقم ہو رہی ہے۔

 

سہیل وڑائچ کے بقول تہران میں جہاز کی سیڑھیوں سے اترنے کا منظر صرف ایک لمحہ نہیں بلکہ ایک علامت بن چکا ہے جس نے نہ صرف ملکی سیاست بلکہ مستقبل کے سیاسی رویوں کو بھی بدل کر رکھ دیا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اگر یہی رجحان برقرار رہا تو اقتدار، سیاست، اور حکومت سب ایک نئے محور کے گرد گھومتے دکھائی دیں گے۔

Back to top button