پاکستان نے دنیا کو تیسری خطرناک ترین عالمی جنگ سے کیسے بچایا؟

 

 

 

سینئر صحافی اور تجزیہ کار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا اصل مقصد ایرانی تہذیب کا مکمل خاتمہ تھا تاہم پاکستانی سول وعسکری قیادت نے غیر معمولی ہم آہنگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا مؤثر سفارتی پل قائم کیا جس نے چار دہائیوں بعد امریکہ اور ایران کی صورت میں دو سخت ترین حریفوں کو جنگ بندی سے مذاکرات کی میز تک لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اس پیش رفت نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں امن کی ایک نئی امید کو جنم دیا بلکہ پوری دنیا پر منڈلانے والے ممکنہ تیسری عالمی جنگ کے خطرے کے بادل بھی چھٹ گئے۔ اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ جدید جنگیں صرف سرحدوں پر نہیں، بلکہ زندگی کے تمام محاذوں پر لڑی جا رہی ہیں۔

 

مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ اس تمام جنگی صورتحال میں حیرت کی بات یہ ہے کہ ایران امریکہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب ایران جوہری پروگرام پر مذاکرات کے آخری مراحل میں تھا۔ عالمی میڈیا میں پیش رفت کی خبریں گردش کر رہی تھیں، مگر اچانک جنگ چھڑ گئی۔ جس کے بعدجب مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے تو امریکی مؤقف سامنے آیا کہ ایران سمجھوتے پر آمادہ نہیں، جو بظاہر زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتا ہے۔ مظہر عباس کے مطابق اصل مسئلہ “فیس سیونگ” کا تھا، کیونکہ بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا تھا اور بات وہیں سے آگے بڑھنی تھی جہاں جنگ سے پہلے ختم ہوئی تھی۔ تاہم امریکہ فوری ایران سے معاہدہ کرنے سے پیچھے ہٹ گیا۔

 

مظہر عباس کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان چھ ہفتوں پر محیط اس تنازعے نے جنگ، جنگ بندی اور مذاکرات کے ایک ایسے تسلسل کو جنم دیا ہے جس نے روایتی جنگی تصورات کو ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ مظہر عباس کے بقول ایران امریکہ اور اسرائیل جنگ کی نوعیت غیر معمولی تھی کیونکہ اس کا آغاز کسی فوجی اڈے یا سرحدی جھڑپ سے نہیں بلکہ تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے سے ہوا۔ امریکہ اور اسرائیل کے ایرانی سکولوں اور جامعات پر حملے، طلبہ و طالبات کی شہادتیں، اور علمی مراکز کی تباہی اس بات کا اشارہ تھیں کہ ان کا ہدف صرف عسکری قوت نہیں بلکہ پوری ایرانی تہذیب تھی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں کے جواب میں ایرانی ردعمل بھی محض عسکری نہیں بلکہ سماجی اور ثقافتی سطح پر سامنے آیا۔ جہاں فنکاروں نے امریکہ کی جانب سے حملوں کی دھمکیوں کے جواب میں پاور پلانٹس کے باہر کنسرٹس کیے اور عوام نے پلوں اور اہم تنصیبات کے گرد انسانی حصار قائم کیے۔

مظہر عباس کے بقول جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی ثقافت کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکیاں سامنے آئیں تو یہ دراصل اس امر کا اعتراف تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کا اصل مقصد کیا ہے، مظہر عباس کے نزدیک یہی وہ لمحہ تھا جب “بلی تھیلے سے باہر آ گئی” اور امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے اصل مقاصد واضح ہو گئے۔

امریکہ اور ایران مذاکرات کامیاب ہونے والے ہیں یا نہیں؟

مظہر عباس کے بقول مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال میں ایک اور اہم پہلو اسرائیل کا کردار ہے، جو ایرانی انقلاب کے بعد سے ہی ایران کو اپنے لیے خطرہ تصور کرتا آیا ہے۔ مظہر عباس  کا مزید کہنا ہے کہ اسرائیل کی ایران میں“رجیم چینج” کی خواہش کوئی نئی بات نہیں، بلکہ یہ سوچ دہائیوں سے امریکی اور اسرائیلی پالیسی حلقوں میں زیر بحث رہی ہے۔ تاہم ایران نے اس بار نہ صرف مزاحمت کی بلکہ اپنے سیاسی اور عسکری ڈھانچے کو برقرار رکھا۔ مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدہ صورتحال میں پاکستان کا کردار غیر معمولی رہا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور عسکری قیادت نے مل کر ایک ایسا سفارتی پل بنایا جس نے دو سخت ترین حریفوں کو جنگ بندی سے مذاکرات کی میز تک لانے میں مدد دی۔ یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان نے اپنی سرزمین پر ایسے فریقین کو آمنے سامنے بٹھایا جو دنیا کو ممکنہ طور پر ایک بڑی عالمی جنگ کی طرف دھکیلنے والے تھے۔

 

مظہر عباس کے مطابق پاکستان کی امریکہ اور ایران کے مابین ثالثی محض سفارتی کامیابی نہیں بلکہ ایک سٹریٹجک ضرورت بھی تھی، کیونکہ پاکستان جانتا ہے کہ ایران امریکہ جنگ کے طول پکڑنے کی صورت میں پاکستان کو داخلی و خارجی سطح پر بڑے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مظہر عباس کے مطابق مشرق وسطی میں کشیدہ صورتحال اور جنگ بندی کے دوران داخلی سطح پر بھی ایک غیر معمولی اتفاق رائے دیکھنے میں آیا، جہاں اپوزیشن اور مذہبی جماعتیں ریاست کے ساتھ کھڑی نظر آئیں۔ اگرچہ پہلی نشست میں مذاکرات مکمل کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوئے، مگر متعدد نکات پر اتفاق اور بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق کو بھی ایم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے، مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ موجودہ حالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں ایک نیا مشرقِ وسطیٰ آرڈر ابھر کر سامنےآ سکتا ہے، جہاں “گریٹر اسرائیل” اور عسکری برتری جیسے پرانے تصورات اب خواب ہی رہیں گے جو اب کبھی بھی حقیقت سے ہم آہنگ نہیں ہو سکیں گے۔

Back to top button