علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ دوبارہ آمنے سامنے کیوں آ گئے؟

 

 

 

تحریک انصاف میں سب سے مضبوط سمجھے جانے والے علیمہ خان گروپ میں بھی پھوٹ پڑ گئی۔ پی ٹی آئی میں اختلافات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ پارٹی رہنماؤں نے ایک دوسرے کو بیچ چوراہے ننگا کرنا شروع کر دیا ہے۔ عمران خان کی بہن علیمہ خان کی جانب سے موجودہ پارٹی قیادت پر سنگین الزامات اور پارٹی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے منہ توڑ جواب نے پی ٹی آئی کی رہی سہی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق علیمہ خان گروپ میں باہمی چپقلش کا معاملہ صرف اختلافِ رائے تک محدود نہیں رہا بلکہ اب یہ کھلے عام الزامات، جوابی بیانات اور اندرونی کہانیوں کے انکشافات تک جا پہنچا ہے۔ جس نے پی ٹی آئی کی قیادت، حکمت عملی اور مستقبل پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

 

خیال رہے کہ دو روز قبل اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو میں علیمہ خان نے پارٹی قیادت پر نہایت سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کی موجودہ قیادت حکومت کی “سہولت کار” بن چکی ہے اور وہ خود عمران خان کی رہائی نہیں چاہتی، اسی لئے وہ اس حوالے سے کوئی بھی جارحانہ حکمت عملی اختیار کرنے سے انکاری ہے۔ علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے ملک بھر میں ہزاروں عہدیداران ہونے کے باوجود جیل کے باہر صرف چند افراد کی موجودگی پارٹی کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، پارٹی میں کئی رہنما عہدوں سے جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی رہنما عوام کو عمران خان کے لیے سڑکوں پر نہیں نکال سکتے تو پارٹی کے تمام عہدے ختم کر دینے چاہئیں۔ علیمہ خان کے الزامات پر پی ٹی آئی میں آگ لگ گئی۔ جس پر علیمہ خان گروپ کے مرکزی رہنما سمجھے جانے والے سلمان اکرم راجہ پھٹ پڑے۔ انھوں نے نہ صرف علیمہ خان کے الزامات کو مسترد کیا بلکہ پارٹی عہدہ چھوڑنے کا بھی اعلان کر دیا، سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ علیمہ خان نے جو باتیں کیں ، مجھے ان سے شدید اختلاف ہے۔ حکومت کے لیے سہولت کاری کا الزام بے بنیاد ہے۔ نو اپریل کے جلسے کی منسوخی ایک اجتماعی فیصلہ تھا، جس کی تائید خود عمران خان نے بھی کی تھی۔ اگر ان کی پارٹی سے وفاداری پر کسی کو شک ہے تو وہ پارٹی عہدہ چھوڑنے کیلئے تیار ہیں۔

 

یاد رہے کہ سلمان اکرم راجہ علیمہ خان کے دیرینہ وکیل رہے ہیں۔ جب علیمہ خان کے خلاف بیرون ملک میں موجود بے نامی جائیدادوں کا کیس سامنے آیا تو سلمان اکرم راجہ ہی ان کے وکیل تھے۔ اس وقت سے ہی سلمان اکرم راجہ علیمہ خان کے بہت قریب ہو گئے تھے۔ خود علیمہ خان متعدد بار یہ کہہ چکی ہیں کہ سلمان اکرم راجہ نہ صرف ان کے وکیل ہیں، بلکہ وہ ان کی فیملی کی طرح ہیں اور ان کا خاندان سلمان اکرم راجہ پر پچھلے 14 برس سے اعتماد کرتا آرہا ہے۔ لیکن اب یہ سانجھے کی ہانڈی چورا ہے پر پھوٹ گئی ہے۔

 

واضح رہے کہ اگرچہ اس وقت پی ٹی آئی مختلف دھڑوں میں تقسیم ہے۔ تاہم پارٹی میں دو گروپ سب سے زیادہ طاقتور سمجھے جاتے ہیں۔ ان میں سے ایک علیمہ خان گروپ اور دوسرا عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کا گروپ ہے۔ بشریٰ بی بی کے جیل جانے کے بعد سے ان کا گروپ قدرے کمزور ہوا ہے۔ جبکہ اس دوران علیمہ خان کا گروپ انتہائی طاقتور ہو چکا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ علیمہ خان کو پارٹی کے انتشار پسند سوشل میڈیا نیٹ ورک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ دوسری جانب پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے جیل میں ہونے کے باعث علیمہ خان نے پارٹی پر قابض ہو چکی ہیں۔ یہاں تک کہ بعض رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ علیمہ خان پارٹی کو ایک سخت گیر ڈکٹیٹر کے انداز میں چلا رہی ہیں، پارٹی کے سینئر ترین رہنما بھی ان کی بدزبانی سے محفوظ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بظاہر معتدل مزاج اور خود ان کے گروپ سے تعلق رکھنے والے سلمان اکرم راجہ کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو گیا ہے اور علیمہ خان کے سلمان اکرم راجہ کے ساتھ بھی تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ تاہم بعض دیگر ذرائع کے مطابق علیمہ خان اور سلمان اکرم راجہ کے درمیان اختلافات کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں بھی ان کے درمیان تلخی کی خبریں سامنے آتی رہی ہیں، مگر ہر بار انہیں وقتی طور پر حل کر لیا گیا۔ تاہم حالیہ بیانات نے اس دراڑ کو مزید گہرا کر دیا ہے اور اب یہ اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ علیمہ خان کی پارٹی میں بڑھتی مداخلت پر عمران خان بھی سخت نالاں ہیں اسی لئے وہ اپنی بہن سے ملنے سے انکاری ہیں۔ علیمہ خان اور عمران خان کے درمیان ملاقاتوں میں رکاوٹ حکومت کی جانب سے نہیں بلکہ خود عمران خان کی ہدایت پر ڈالی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق علیمہ خان کی عمران خان سے ایک ملاقات کے دوران سیاسی فیصلوں پر اختلاف اس حد تک بڑھ گیا تھا کہ عمران خان نے جیل حکام کو ہدایت دی کہ آئندہ انہیں علیمہ خان سے نہ ملوایا جائے۔ پی ٹی آئی کے ایک عہدیدار کے مطابق جن دنوں محمود خان اچکزئی کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کا اپوزیشن لیڈر مقرر کیا گیا، تب عمران خان سے ایک ملاقات کے دوران علیمہ خان نے اس پر سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ تم نے محمود اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنادیا ہے۔ کیا پی ٹی آئی میں ایک بھی ایسا بندہ نہیں تھا، جسے یہ عہدہ دیا جاتا ؟ عمران خان کا جواب تھا کہ اچکزئی بہت زبر دست بندہ ہے۔ جس پر علیمہ خان نے اسد قیصر اور بیرسٹر گو ہر سمیت دس سے بارہ پارٹی رہنماؤں کے نام گنوائے۔ لیکن عمران خان نے ان تمام رہنماؤں پر سنگین الزامات لگائے اور انہیں برے القاب سے نوازا۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ سب اتنے ہی گندے ہیں تو انہیں پارٹی میں کیوں رکھا ہوا ہے؟ عمران خان اس پر سخت ناراض ہو گئے اور انہوں نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو کہا کہ آئندہ مجھے علیمہ خان سے نہ ملوایا جائے۔ جس کے بعد سے علیمہ خان کی جیل میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر پابندی عائد ہے۔

پاکستان کی کامیاب سفارت کاری سے PTI کو تکلیف کیوں ہے؟

مبصرین کے مطابق پارٹی میں ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتے اختلافات نے تحریک انصاف کے اندر موجود طاقت کے توازن کو برباد کر دیا ہے۔ ایک طرف علیمہ خان کا مضبوط ہوتا ہوا دھڑا ہے، جبکہ دوسری جانب مرکزی قیادت اپنی ساکھ اور اختیار برقرار رکھنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا پارٹی اس داخلی بحران سے نکل پائے گی یا یہ اختلافات اسے مزید تقسیم کر دیں گے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کے بقول پی ٹی آئی کی حالیہ صورتحال اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تحریک انصاف اس وقت اپنے مشکل ترین دور سے گزر رہی ہے، جہاں بیرونی دباؤ کے ساتھ ساتھ اندرونی اختلافات بھی اس کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں۔تاہم آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی اہم ہوگا کہ آیا قیادت ان اختلافات کو ختم کر کے ایک متحد بیانیہ تشکیل دے پاتی ہے یا پھر یہ دراڑیں مزید گہری ہو کر پارٹی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔

Back to top button