پاکستانی ثالثی نے چائے والے مودی کا رگڑا کیسے نکالا ؟

 

 

 

پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے ایران امریکہ مذاکرات کے دوران سوشل میڈیا پر چائے والے مودی کے خوب چرچے ہو رہے ہیں۔ ایران امریکا مذاکرات کے دوران پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار نے جہاں عالمی سطح پر ایک بار پھر اس کی اہمیت کو اجاگر کر دیا ہے وہیں اسلام آباد میں ہونے والی سفارتی سرگرمیوں اور پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو دنیا بھر میں خوب سراہا جا رہا ہے۔ ایسے میں سوشل میڈیا پر ایک طرف پاکستان کے کردار کو مثبت انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تو دوسری جانب بھارتی حکومت بالخصوص انڈین وزیر اعظم نریندر مودی کو خوب رگڑا لگایا جا رہا ہے۔ اسی دوران بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی سے متعلق دلچسپ اور طنزیہ نوعیت کی اے آئی سے تیار کردہ میمز بھی خوب وائرل ہو رہی ہیں، جن میں انہیں مزاحیہ انداز میں ’چائے والے‘ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔

 

اسی تناظر میں امریکی اخبار  دی نیویارک ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک اے آئی سے تیار کردہ میم نے خاصی توجہ حاصل کی۔ اس تصویر میں نریندر مودی کو پس منظر میں چائے بناتے ہوئے دکھایا گیا، جبکہ سامنے ایک اہم سفارتی منظر دکھایا گیا ہے جس میں وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی موجود ہیں۔ یہ تصویر دراصل اس تاثر کو اجاگر کرتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں پاکستان سفارتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے جبکہ بھارت بالکل پس منظر میں چلا گیا ہے۔

 

اس میم پر سوشل میڈیا پر دلچسپ ردعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بھارتی صارفین کی جانب سے جہاں اس پر تنقید کی جا رہی ہے، وہیں کچھ افراد طنزیہ انداز میں یہ بھی کہتے دکھائی دئیے کہ اب کچھ حلقے شاید امریکی اخبار کو بھی ’ہندو مخالف‘ قرار دینے لگیں گے۔دوسری جانب پاکستانی صارفین نے اس صورتحال کو ایک مختلف زاویے سے دیکھا۔ کئی صارفین کا کہنا تھا کہ یہ میمز اس بات کی علامت ہیں کہ پاکستان کا بیانیہ اور کردار اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔ کچھ صارفین نے اسے مزاحیہ انداز میں لیا جبکہ کچھ نے اس بات پر زور دیا کہ یہ سب کچھ اسلام آباد میں آئندہ چند روز میں ہونے والے متوقع مذاکرات کے اگلے مراحل کی اہمیت کو مزید بڑھا رہا ہے۔

 

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ واقعہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ جدید دور میں سفارت کاری صرف بند کمروں تک محدود نہیں رہی بلکہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز بھی اس کا اہم حصہ بن چکے ہیں۔ ایک طرف سنجیدہ مذاکرات جاری ہیں تو دوسری جانب میمز اور عوامی ردعمل اس پورے عمل کو ایک نئی جہت دے رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے  تاثر، بیانیہ اور عوامی رائے بھی روایتی سفارت کاری جتنی ہی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ مبصرین کے مطابق پاکستان کی ثالثی میں امریکا ایران جنگ بندی کی کوششوں کو نہ صرف دنیا بھر میں پذیرائی مل رہی ہے بلکہ اس پیشرفت نے سوشل میڈیا پر بھی ایک دلچسپ اور غیر روایتی ردعمل کو جنم دیا۔  اس اہم سفارتی کامیابی کے بعد جہاں عالمی تجزیہ کار پاکستان کے کردار کی ستائش کرتے نظر آرہے ہیں وہیں سوشل میڈیا پر طنز و مزاح سے بھرپور میمز کا ایک طوفان بھی دکھائی دے رہا ہے۔جہاں ایک طرف سوشل میڈیا صارفین وزیر اعظم شہباز شریف اور عاصم منیر کے گن گاتے دکھائی دے رہے ہیں وہیں دوسری جانب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیلی وزیر اعظم پر تنقید کی نشتر چلاتے نظر آ رہے ہیں، تاہم سوشل میڈیا پر وائرل زیادہ تر میمز میں مودی کو چائے بناتے یا پیش کرتے ہی دکھایا گیا ہے۔

 

سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی میمز وہ رہیں جن میں نریندر مودی کو اسلام آباد میں ایک ویٹر کے روپ میں پیش کیا گیا۔ اس حوالے سے ایک وائرل ویڈیو میں انہیں شہباز شریف، عاصم منیر، ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو چائے پیش کرتے دکھایا گیا، جبکہ پس منظر میں طنزیہ جملے اس منظر کو مزید دلچسپ بنا دیتے ہیں۔ اس ویڈیو کے ساتھ لکھا گیا کیپشن“بھارت کی نئی خارجہ پالیسی: ایک قوم، ایک ویٹر”—سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے اور صارفین کیلئے بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔

ٹرمپ کا دورہ پاکستان پہلے امریکی صدور کے دوروں سے منفرد کیوں؟

سیاسی مبصرین اس رجحان کو محض تفریح نہیں بلکہ ایک اہم سماجی اظہار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ میمز دراصل عوامی نفسیات، قومی بیانیے اور علاقائی سیاست کی عکاسی کرتی ہیں کیونکہ جب کوئی ملک عالمی سطح پر خود کو مؤثر انداز میں منواتا ہے تو اس کا عکس عوامی گفتگو اور مزاح میں بھی نظر آتا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی کے بعد پیدا ہونے والا یہ ’’میم کلچر‘‘ دراصل جدید دور کی ڈیجیٹل سفارتکاری کا ایک غیر رسمی پہلو ہے۔ مبصرین کے بقول ایشیائی ممالک میں فیصلے تو اقتدار کے ایوانوں میں ہوتے ہیں، مگر ان کی تشریح اور تعبیر عوام اپنے انداز میں کرتے ہیں کبھی سنجیدگی سے، اور کبھی ہنسی مذاق کے ساتھ۔

Back to top button