12 گھنٹے یا 16، بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں مزید کتنا اضافہ ہونے والا ہے؟

 

 

 

پاکستان میں سوا دو گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کے حکومتی دعوؤں کے برعکس بجلی کی طویل بندش نے عوام کی چیخیں نکلوا دی ہیں۔ اپریل جیسے نسبتاً معتدل موسم میں بھی جب بجلی کی طلب عموماً کم رہتی ہے، ملک کے مختلف حصوں میں 8 سے 10 گھنٹے بجلی بند رہنے پر صارفین سراپا احتجاج ہیں۔ لوڈشیڈنگ کی اس غیر متوقع صورتحال کے بعد ہر طرف ایک ہی سوال گونج رہا ہے: آخر پاکستان میں بجلی کی قلت کیوں بڑھ رہی ہے؟ بڑھتی ہوئی لوڈ شیڈنگ کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ اور سب سے اہم یہ کہ کیا آنے والے دنوں میں یہ بحران مزید شدت اختیار کرے گا؟ ناقدین کے مطابق گرمی کی شدت میں متوقع اضافے کے پیشِ نظر عوامی خدشات بھی بڑھتے جا رہے ہیں ناقدین سوال اٹھاتے نظر آتے ہیں کہ اپریل میں لوڈشیڈنگ کی یہ صورتحال ہے تو جب جون اور جولائی میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا تو ایسے میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ مزید مزید کتنا بڑھ جائے گا؟ گرمی کی شدت کے دوران عوام کو روزانہ کتنے گھنٹے بجلی سے محرومی کا سامنا کرناپڑے گا؟

انرجی ایکسپرٹس کے مطابق اس وقت پاکستان کو بجلی کی طلب اور رسد کے درمیان ایک واضح خلا کا سامنا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں بجلی کی طلب تقریباً 18 ہزار میگاواٹ ہے جبکہ پیداوار صرف 13 ہزار 500 میگاواٹ کے قریب ہے، یوں اپریل میں ہی تقریباً 4500 میگاواٹ کا شارٹ فال پیدا ہو چکا ہے۔ یہی فرق لوڈ شیڈنگ کی بنیادی وجہ بن رہا ہے، جس کا بوجھ براہ راست عوام پر پڑ رہا ہے اور عوام کو گھنٹوں بجلی کی بندش کا سامنا ہے۔ تاہم دوسری جانب حکومت اس طویل لوڈ شیڈنگ کو ’پیک ریلیف سٹریٹجی‘ کا حصہ قرار دے رہی ہے۔ پاور ڈویژن کے مطابق شام پانچ بجے سے رات ایک بجے تک کے اوقات میں بجلی کی طلب اپنے عروج پر ہوتی ہے، جسے کنٹرول کرنے کے لیے محدود دورانیے کی لوڈ مینجمنٹ کی جا رہی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ اگر یہ اقدامات نہ کیے جائیں تو بجلی کی قیمت میں پانچ سے چھ روپے فی یونٹ تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ گویا حکومت مہنگی بجلی پیدا کرنے کے بجائے لوڈ شیڈنگ کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ صارفین کو مزید مالی بوجھ سے بچایا جا سکے۔

 

تاہم ناقدین کے مطابق زمینی حقائق اس سرکاری مؤقف سے مختلف نظر آتے ہیں۔ ملک کے مختلف شہروں سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق مختلف علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ حکومتی دعوؤں کے برعکس 8 گھنٹے سے بھی تجاوز کر گیا ہے، جس سے صارفین سخت مشکلات سے دوچار ہیں۔ لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی لیسکو بھی اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ طلب و رسد میں فرق کے باعث شہر میں عارضی طور پر لمبے دورانئے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے، جو صورتحال بہتر ہوتے ہی ختم کر دی جائے گی۔

 

دوسری جانب انرجی ایکسپرٹس کا ماننا ہے کہ پاکستان کا توانائی کا نظام بڑی حد تک درآمدی ایندھن پر انحصار کرتا ہے، جہاں تقریباً 54 فیصد بجلی گیس، تیل اور کوئلے جیسے درآمدی ذرائع سے پیدا کی جاتی ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز میں رکاوٹ پیدا ہوئی، جس سے قطر سے آنے والی ایل این جی کی سپلائی متاثر ہوئی۔ چونکہ پاکستان کے کئی پاور پلانٹس ایل این جی پر چلتے ہیں اور تقریباً 4 سے 5 ہزار میگاواٹ بجلی اسی ذریعے سے پیدا ہوتی ہے، اس لیے سپلائی میں خلل نے پیداوار کو شدید متاثر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ چونکہ اپریل کے مہینے میں آبی ذخائر میں کمی کے باعث ہائیڈرو پاور کی پیداوار بھی کم ہو جاتی ہے، جس سے توانائی کے نظام پر اضافی دباؤ پڑتا ہے۔ اگرچہ متبادل ذرائع جیسے ڈیزل یا فرنس آئل استعمال کیے جا سکتے ہیں، مگر ان کی بلند لاگت کے باعث حکومت ان سے گریز کر رہی ہے تاکہ بجلی کی قیمت کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔ بجلی کی پروڈکشن میں کمی کی وجہ سے طلب اور پیدوار میں سامنے آنے والے شارٹ فال کو لوڈ شیڈنگ کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے اور عوام کو طویل لوڈ شیڈنگ کا سامنا ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا آنے والے دنوں میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی کا کوئی امکان ہے؟

 

تجزیہ کاروں کے مطابق عموماً اپریل میں بجلی کی طلب 18000 میگاواٹ کے لگ بھگ ہوتی ہے تاہم حکومت صرف 12 سے 13 ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کر رہی ہے جس کی وجہ سے تقریبا5 ہزار میگاواٹ شارٹ فال کا سامنا ہے۔ آنے والے دنوں میں طلب میں اضافے کے بعد اگر یہ شارٹ فال مزید بڑھا تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیے میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں لوڈ شیڈنگ میں کمی کے بجائے اضافہ یقینی ہے۔ جیسے جیسے گرمی کی شدت بڑھے گی، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر برقی آلات کے استعمال میں اضافہ ہوگا، جس سے بجلی کی طلب مزید بڑھ جائے گی۔ اگر ایل این جی کی سپلائی بحال نہ ہوئی یا متبادل انتظامات نہ کیے گئے تو یہ بحران گرمیوں میں ایک بڑے انرجی کرائسس کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور عوام کو 14 سے 16 گھنٹے تک بھی بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ناقدین کے بقول پاکستان میں حالیہ طویل لوڈ شیڈنگ صرف ایک عارضی تکنیکی مسئلہ نہیں بلکہ ایک پیچیدہ توانائی بحران کی علامت ہے، جس میں عالمی جغرافیائی سیاست، درآمدی انحصار، موسمی عوامل اور پالیسی ترجیحات سب شامل ہیں۔ اگر فوری اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف جاری رہے گا بلکہ آنے والے مہینوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، اور عوام کو ایک بار پھر طویل دورانیے کی لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

 

Back to top button