امریکہ اور ایران مذاکرات کا دوسرا مرحلہ کب اور کہاں ہوگا؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ پاکستانی عسکری اور سویلین قیادت کی جانب سے ہونے والی سر توڑ کوششوں کے نتیجے میں امریکہ اور ایران کے مابین مذاکرات کا دوسرا مرحلہ 21 اپریل سے پہلے دوبارہ اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے، جس کے نتیجے میں کم از کم جنگ بندی کو مزید طول دینے پر اتفاق کے بعد مذاکرات جاری رکھنے کا اعلان ہو سکتا ہے۔
اپنے سیاسی تجزیے میں نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سطح پر بدلتے ہوئے سیاسی حالات کے تناظر میں پاکستان نے ایک بار پھر اہم سفارتی کردار ادا کیا ہے۔ حالیہ پیش رفت اس امر کی غماز ہے کہ پاکستان نہ صرف خطے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم ہے بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان پل کا کردار بھی ادا کر رہا ہے۔
یاد رہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ شروع کروانے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف مسلسل امریکی قیادت سے رابطے میں ہیں جبکہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے خود تہران پہنچ کر ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت کی ہے۔
نصرت جاوید کے مطابق امریکہ کے صدر ٹرمپ نے اپنی داخلی سیاست میں سفید فام امریکی طبقے کے جذبات کی بھرپور نمائندگی کرتے ہوئے اقتدار حاصل کیا تھا۔ انہوں نے روایتی سیاستدانوں اور ریاستی اداروں سے مایوسی کو کیش کراتے ہوئے نسل پرستانہ رجحانات کو بھی اپنی سیاست کا حصہ بنایا۔ ٹرمپ مسلسل اس مؤقف پر قائم رہے کہ غیر قانونی تارکین وطن، خصوصاً مسلمان، امریکہ کے زوال کا سبب بن رہے ہیں جبکہ سرمایہ کار طبقہ قومی مفادات کے بجائے بیرون ملک سرمایہ کاری میں مصروف ہے۔
ٹرمپ نے خود کو اصل امریکی شہریوں کا نمائندہ بنا کر پیش کیا اور خود کو امن کا پیامبر ثابت کرتے ہوئے دوسری بار صدارت حاصل کی۔ تاہم امریکی آئین کے تحت وہ تیسری بار انتخابات میں حصہ لینے کے اہل نہیں جب تک آئینی ترمیم نہ کی جائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق دوسری مدت صدارت میں امریکی صدور عموماً تاریخ میں اپنا نام زندہ رکھنے کے لیے بڑے اقدامات کرتے ہیں، جسے اپنی لیگیسی Legacy زندہ کی خواہش قرار دیا جاتا ہے۔
اسی تناظر میں صدر ٹرمپ نے عالمی سطح پر امن کے قیام کا دعویٰ کرتے ہوئے متعدد جنگیں رکوانے کا کریڈٹ بھی لیا، جن میں گزشتہ برس مئی میں ہونے والی پاک بھارت کشیدگی بھی شامل ہے۔ اس جنگ کے دوران امریکہ نے دونوں ممالک پر سفارتی دباؤ ڈال کر ممکنہ ایٹمی تصادم کو روکنے میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ پاکستان نے اس کردار کو سراہا، یہاں تک کہ ٹرمپ کے لیے نوبل امن انعام کی سفارش بھی کی گئی، تاہم بھارت نے ٹرمپ کی جانب سے جنگ رکوانے کا دعوے مسترد کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کے بعد خود ہی پیچھے ہٹا تھے۔ اس معاملے پر بھارتی مؤقف نے ٹرمپ کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے بدظن کر دیا، حالانکہ ماضی میں دونوں رہنما قریبی تعلقات رکھتے تھے اور ایک دوسرے کی سیاسی حمایت میں سرگرم رہے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، پاک بھارت کشیدگی کے بعد امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں دراڑ پڑی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے مواقع پیدا ہوئے۔ توقع تھی کہ یہ پیش رفت خطے میں امن و استحکام کا باعث بنے گی، تاہم مارچ 2026 میں صورتحال اس وقت بدل گئی جب امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف کارروائی شروع کی۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واشنگٹن کا دورہ کر کے امریکی قیادت کو ایران کے خلاف سخت کارروائی کے لیے قائل کیا تھا۔ نیتن یاہو نے یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ ایرانی قیادت کو نشانہ بنانے سے ملک میں نظام تبدیل کیا جا سکتا ہے، تاہم یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کیونکہ ایران کا سیاسی اور عسکری نظام 1979 کے انقلاب اور طویل ایران-عراق جنگ کے تجربات سے مضبوط ہو چکا ہے لہذا وہاں ریجن تبدیل کرنے کی کوشش ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے اور اب امریکہ ایران سے مذاکرات پر مجبور ہے۔
ایران سے جنگ بندی میں توسیع زیر غور نہيں : صدر ٹرمپ
نصرت جاوید کے بقول امریکی صدر نے وینزویلا کہ صدر کو اغوا کرنے کے بعد ایرانی قیادت کو جسمانی طور پر مٹانے کی حکمت عملی اپنائی، لیکن ایران ایک مختلف قوم نکلی۔ ایران کی مزاحمتی صلاحیت کا غلط اندازہ لگانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ اور اسرائیل ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس گئے ہیں جس سے نکلنا آسان نہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ اب ایران سے زیادہ امریکہ کو پاکستانی سفارت کاری کی ضرورت پڑ رہی ہے تاکہ وہ جنگ کی دلدل سے نکل سکے۔
دوسری جانب، اس کشیدگی کے اثرات عالمی معیشت اور بالخصوص ترقی پذیر ممالک پر بھی مرتب ہوئے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا، جو پاکستان جیسے ممالک کے لیے شدید معاشی بحران کا پیش خیمہ بن گیا تھا۔ اسی تناظر میں پاکستان کی سویلین اور عسکری قیادت نے اپنی سفارتی کوششیں تیز کرتے ہوئے امریکہ اور ایران کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اسلام اباد مذاکرات کے نتیجے میں ہونے والے سیز فائر کے بعد پاکستان نے امریکہ اور ایران کے مابین خاموش سفارت کاری جاری رکھی جس کے نتیجے میں اب مذاکرات کا دوسرا راؤنڈ بھی 21 اپریل سے پہلے پاکستانی دارالحکومت میں منعقد ہونے جا رہا ہے۔
