قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اپوزیشن لیڈرز کو ہٹانے کا امکان

تحریک انصاف کے خیبر پختون خواہ دھڑے نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز محمود خان اور علامہ عباس ناصر کو عمران خان کی رہائی میں ناکامی کا ذمہ دار قرار دے کر انہیں ان کے عہدوں سے ہٹانے کا منصوبہ تیار کر لیا ہے، اس کے علاوہ پی ٹی آئی کا یہ دھڑا قومی اسمبلی اور سینیٹ سے استعفوں کا مطالبہ بھی کر رہا ہے۔
پارٹی کے اندرونی ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس کو فارغ کرنے کی تجویز حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ اسمبلیوں سے استعفے دینے کے آپشن پر بھی سنجیدگی سے غور جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ پیش رفت دونوں اپوزیشن لیڈرز کے غیر متحرک کردار پر بڑھتی ہوئی ناراضی کا نتیجہ ہے۔ پارٹی کے بعض رہنما، خصوصاً خیبر پختون خواہ سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کا موقف ہے کہ اپوزیشن قیادت عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر کردار ادا کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث نہ پارلیمان کے اندر کوئی مضبوط آواز اٹھائی جا سکی اور نہ ہی سڑکوں پر ایسی تحریک چلائی گئی جو حکومت پر دباؤ ڈالتی۔
اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے پس منظر اہم ہے۔ رواں برس تحریک انصاف کے کئی اراکین قومی اسمبلی کو نو مئی کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام پر سزائیں ملیں اور عمر ایوب خان اور شبلی فراز قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈرز کے عہدوں سے محروم ہوئے تو عمران خان نے اپنی جماعت کے رہنماؤں کے بجائے اتحادی جماعتوں کے قائدین کو اپوزیشن لیڈر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد ایک وسیع اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنا اور مختلف سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد رکھنا تھا، تاکہ اتحادی حکومت کے خلاف مشترکہ اور مؤثر سیاسی دباؤ ڈالا جا سکے۔
تاہم اس فیصلے نے پارٹی کے اندر اختلافات کو جنم دیا۔ پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں اور اراکین نے اس بات پر تحفظات کا اظہار کیا کہ قومی اسمبلی میں عددی اکثریت رکھنے کے باوجود اپنی جماعت کے کسی سینئر رہنما کو یہ اہم عہدہ نہیں دیا گیا۔ اسکے علاوہ ماضی میں عمران خان کی جانب سے محمود اچکزئی پر کی جانے والی سخت تنقید کے باعث بھی یہ تقرری متنازع قرار دی گئی۔ ادھر عمران خان کو یہ توقع تھی کہ اتحادی قیادت نہ صرف پارلیمان کے اندر بھرپور کردار ادا کرے گی بلکہ سڑکوں پر بھی ایک مؤثر تحریک چلا کر ان کی رہائی کے لیے سیاسی دباؤ بڑھائے گی۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ پی ٹی آئی کے اندر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ یہ توقعات پوری نہیں ہو سکیں، جس کے باعث موجودہ حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی ناگزیر ہو گئی ہے۔
اب پارٹی کے اندر دو ممکنہ راستوں پر غور کیا جا رہا ہے۔ ایک، قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اجتماعی استعفے دے کر سیاسی دباؤ میں اضافہ کیا جائے اور دوسرا، حکومت کے خلاف ایک بھرپور مزاحمتی تحریک شروع کی جائے۔ ذرائع کے مطابق اسی تناظر میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں دوسری جماعتوں سے تعلق رکھنے والے اپوزیشن قائدین کو فارغ کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا جا چکا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق اگر پی ٹی آئی ان فیصلوں پر عمل درآمد کرتی ہے تو اس کے نہ صرف اپوزیشن اتحاد بلکہ ملکی پارلیمانی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے، اور سیاسی درجہ حرارت میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
