KPKسرکاری ملازمین کی شادیاں سیکیورٹی کلئیرنس سے مشروط کیوں؟

 

 

 

 

پی ٹی آئی کی خیبرپختونخوا حکومت نے سرکاری ملازمین کی غیر ملکی شہریوں سے شادی کو باقاعدہ سکیورٹی کلیئرنس سے مشروط کرتے ہوئے بغیر پیشگی اجازت رشتہ ازدوج میں منسلک ہونے پر سخت پابندی عائد کر دی ہے۔ نئے قواعد کے تحت کسی بھی سرکاری ملازم کے لیے غیر ملکی سے شادی اُس وقت تک ممکن نہیں ہوگی جب تک متعلقہ سکیورٹی اور حکومتی اداروں سے پیشگی اجازت حاصل نہ کر لی جائے۔

 

نئے قواعد کے تحت حکومت نے سرکاری ملازمین کو اجازت اور سیکیورٹی کلئرنس کے بغیر غیر ملکیوں سے شادیاں کرنے سے روک دیا ہے جبکہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں سخت کارروائی کا انتباہ بھی جاری کر دیا ہے۔ شادی جیسے ذاتی اور اہم معاملے کو باقاعدہ سرکاری ضابطوں کے دائرے میں لانے کے اس اقدام نے سرکاری حلقوں میں بے چینی اور بحث کو جنم دے دیا ہے، جہاں اسے ایک غیر معمولی اور سخت پالیسی قرار دیا جا رہا ہے اور حکومت سے فی الفور اس حکمنامے کو واپس لینے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

 

خیال رہے کہ غیر ملکیوں سے شادی پر پابندی کے حوالے سے صوبائی حکومت کی جانب سے منظور کیے گئے خیبر پختونخوا سول سرونٹس رولز 2026 میں واضح کہا گیا ہے کہ کہ اب کسی بھی سرکاری ملازم کے لیے غیر ملکی شہری سے شادی صرف ذاتی معاملہ نہیں رہے گا بلکہ اس کے لیے باقاعدہ حکومتی اجازت لازمی ہوگی۔ یہ قواعد منظوری کے فوراً بعد نافذ العمل ہو چکے ہیں، اور ان کے تحت خیبر پختونخوا کے تمام سرکاری ملازمین پر یہ پابندی عائد کر دی گئی ہے کہ وہ پیشگی اجازت کے بغیر کسی غیر ملکی شہری سے شادی نہیں کر سکتے۔ اگر کوئی ملازم اس قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اسے ’مس کنڈکٹ‘ تصور کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں سخت سزائیں دی جا سکتی ہیں، جن میں ملازمت سے برطرفی، جبری ریٹائرمنٹ، معطلی یا عہدے میں تنزلی شامل ہیں۔

 

تاہم اس قانون کے تحت غیر ملکیوں سے شادیوں پر مکمل پابندی کی بجائے فارنرز سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے کیلئے ایک باقاعدہ طریقہ کار بھی دیا گیا ہے۔ نئے قواعد کے مطابق اگر کوئی سرکاری ملازم غیر ملکی شہری سے شادی کرنا چاہتا ہے تو اسے پہلے حکومت کو درخواست دینا ہوگی۔ اس مقصد کے لیے ایک مخصوص پرفارما جاری کیا گیا ہے، جو محکمہ داخلہ و قبائلی امور میں جمع کروایا جائے گا۔ اس درخواست کی بنیاد پر متعلقہ غیر ملکی شہری کی شہریت، اس کے ملک کے پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات، اور ممکنہ سکیورٹی خدشات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ انٹیلی جنس اداروں کی کلیئرنس بھی اس عمل کا لازمی حصہ ہوگی۔ مکمل کلئیرنس کے بعد ہی کسی سرکاری ملازم کو غیر ملکی سے شادی کی اجازت دی جائے گی۔ نئے قواعد کے تحت پرفارمے کے ساتھ سرکاری ملازم کو ایک اقرار نامہ بھی جمع کروانا ہوگا جس میں وہ یقین دہانی کروائے گا کہ اس کا شریکِ حیات کسی ریاست مخالف سرگرمی یا جرم میں ملوث نہیں ہوگا۔ اس قانون کی ایک اہم شق یہ بھی ہے کہ وہ سرکاری ملازمین جو پہلے ہی غیر ملکی شہریوں سے شادی کر چکے ہیں، ان کے کیسز کا بھی ازسرِ نو جائزہ لیا جائے گا۔

قومی اسمبلی اور سینیٹ سے اپوزیشن لیڈرز کو ہٹانے کا امکان

مبصرین کے مطابق اگر اس قانون کو وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کوئی بالکل نیا تصور نہیں ہے۔ پاکستان میں وفاقی سطح پر 1963 سے اس نوعیت کے قواعد موجود ہیں، جن میں وقتاً فوقتاً ترامیم بھی کی گئی ہیں۔ ماضی میں یہ پابندیاں زیادہ سخت تھیں، تاہم بعد ازاں 2019 کی ترامیم میں پیشگی اجازت کے ساتھ غیر ملکی سے شادی کی گنجائش پیدا کی گئی۔ فرق صرف یہ ہے کہ وفاقی قوانین براہ راست صوبائی ملازمین پر لاگو نہیں ہوتے، اسی لیے خیبر پختونخوا حکومت نے اب اسے صوبائی سطح پر باقاعدہ قانون کی شکل دے دی ہے تاکہ صوبے میں سکیورٹی، قومی مفادات اور سرکاری اداروں کی حساسیت کو برقرار رکھا جا سکے، تاہم ناقدین اس حکومتی پابندی کو عوام کی ذاتی آزادیوں میں مداخلت بھی قرار دے رہے ہیں۔ اس قانون نے ایک بار پھر اس بحث کو زندہ کر دیا ہے کہ ریاستی مفادات اور فرد کی نجی زندگی کے درمیان حد کہاں مقرر ہونی چاہیے۔

 

Back to top button