بشری بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

بشری بی بی کی قیادت میں پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے۔

قبل ازیں پی ٹی آئی کے قافلہ جی 11 اور جی 9 سے گزرا جہاں پولیس اور پی ٹی آئی کارکنان میں تصادم ہوا جب کہ اس وقت بھی دونوں جانب سےایک دوسرے پر آنسو گیس کی شیلنگ جاری ہےاور پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ بھی کیا جا رہا ہے۔

 عمران خان کے احتجاج کےلیے متبادل جگہ کی حامی بھرنے کے باوجود بشریٰ بی بی نے ماننےسے انکار کر دیا تھا۔

 بشریٰ بی بی کاکہنا تھاکہ چند سازشی عناصر ڈی چوک کے بجائے دوسرے مقام پر ہمیں روکنا چاہتے ہیں، عمران خان نے مجھے ہرصورت ڈی چوک جانے کا کہاہے، ڈی چوک سے کم کسی بھی مذاکراتی فیصلےپر کارکنان راضی نہیں ہیں۔

ذرائع کابتانا ہےکہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے مذاکراتی معاملات پر مکمل خاموشی اختیار کیےرکھی ہے جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر بھی کوئی فیصلہ نہیں کر سکے۔

پی ٹی آئی کے ذرائع کےمطابق پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت دھرنے کےلیے حتمی مقام کا تعین کرنے میں نا کام نظر آتی ہے،مرکزی قیادت میں کوئی بھی ذمہ داری لینےکو تیار نہیں۔

پی ٹی آئی کےذرائع کےمطابق علی امین گنڈاپور نے کہاکہ کارکنان کو اسلام آباد حتمی مقام تک لے جانے کےلیے رابطہ کاری میں مشکل ہو رہی ہے۔

اس سے قبل بیرسٹر گوہر کی سربراہی میں پی ٹی آئی وفد کی بانی پی ٹی آئی عمران خان سے دوسری ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور سے ملاقات کےلیے روانہ ہوئ تھے۔

ذرائع کےمطابق بیرسٹر گوہر کی قیادت میں پی ٹی آئی وفد کی عمران خان کیساتھ 40 منٹ تک جاری رہنے والی بات چیت میں بیرسٹر گوہر نے احتجاج اور حکومت کی طرف سے آپشنز سےبانی پی ٹی آئی کو آگاہ کیا۔

اس دوسری اہم ملاقات میں عمران خان نے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈاپور اور کارکنوں کےلیے اہم پیغام ریکارڈ کروایاتھا۔

عمران خان کےویڈیو پیغام ریکارڈ کروانے کےبعد بیرسٹر گوہر بشریٰ بی بی اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کو  ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام دکھانے کےلیے روانہ ہوئےتھے۔

ذرائع کےمطابق عمران خان کے ویڈیو پیغام سننےکے بعد بشریٰ بی بی،علی امین گنڈاپور اور پی ٹی آئی قیادت کی جانب سے آئندہ کے لائحہ عمل کےاعلان کا امکان تھا۔

ذرائع کےمطابق عمران خان کے ویڈیو پیغام میں حکومتی تجاویز میں سےایک پر اتفاق کیاگیا ہے۔

اس س قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نےکہا تھاکہ ہم نے مظاہرین سے کہا تھا ڈی چوک پر جس نے بھی جلسہ کیا کبھی اجازت نہیں ملی، درخواست دیں اور سنجانی چلے جائیں۔

وزیر داخلہ کاکہنا تھاکہ پی ٹی آئی قیادت ملاقات کےلیے دو مرتبہ اڈیالہ گئی،انہیں وہاں سے بھی اپروول مل گئی ہے، چاہے دفعہ 144 نافذ کرنی ہو یا ہمیں انتہائی اقدام تک جانا پڑے،پہلے ہی بتارہے ہیں، نقصان ہوا تو ہم ذمےدار نہیں ہوں گے۔

Back to top button