عمران کو رہا کروانےکےلیے PTI کی تحریک شروع ہونے سے پہلے ہی ختم

تحریک انصاف کے صوابی جلسے کی ناکامی نے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کےلیے شروع کی جانے والی تحریک کی قلعی کھول دی ہے۔ مبصرین کے مطابق تحریک انصاف صوبے میں اپنی حکومت ہونے، تمام قسم کے سرکاری وسائل کے استعمال اور بھرپور سوشل میڈیا کمپین چلانے کے باوجود صوابی میں کامیاب جلسہ نہیں کر سکی تو ایسی صورتحال میں وہ عمران خان کی رہائی کےلیے ملک گیر احتجاجی تحریک کیسے چلائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پارٹی رہنماؤں کے باہمی اختلافات اور مفادات کے ٹکراؤ کی وجہ سے پی ٹی آئی اندرونی طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے اور پارٹی میں گروپنگ اور دھڑے بندی اپنے عروج پر ہے۔ ہر گروپ پارٹی پر قبضے کی جنگ میں مصروف ہے۔فیصلہ سازی میں یکسوئی نہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف صوابی جلسہ ناکام ہوا بلکہ بلند بانگ دعووں کے باوجود پی ٹی آئی احتجاجی تحریک شروع کرنے کی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کر سکی۔
روزنامہ امت کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کا صوابی جلسہ بھی ناکام شو ثابت ہوا۔ خالی کرسیوں اور پنڈال نے پی ٹی آئی کی کارکردگی اور عوام میں مقبولیت کا پول کھول دیا۔ صرف چند ہزار ورکرز ہی جلسہ گاہ گئے جنہوں نے پنڈال میں سب سے آگے جمع ہو کر نعرے بازی کی۔
ورکرز کی کمی پورا کرنے کےلیے پشاور سمیت صوبے کے دیگر اضلاع سے آنے والے کارکنوں سے زیادہ تعداد گاڑیوں کی تھی اور بعض گاڑیوں میں صرف ڈرائیور اور ڈرائیور کے ساتھ ایک یا دو ورکرز ہی سوار نظر آئے۔
ذرائع کے مطابق اس دوران تحر یک انصاف کا سوشل میڈیا سرگرم رہا اور پارٹی ترانے چلائے جاتے رہے تاکہ کارکن زیادہ سے زیادہ تعداد میں قافلوں میں شامل ہو کر صوابی پہنچ جائیں۔ لیکن پھر بھی تحریک انصاف مطلوبہ ہدف پورا نہ کر پائی۔ سوشل میڈیا پر بھی بڑے پیمانے پر مہم چلائے جانے کے باوجود بھی پی ٹی آئی بڑا جلسہ کرنے میں ناکام رہی۔
مبصرین کے مطابق یہ بات باعث حیرت ہے کہ مسلسل تیسری مرتبہ صوبے میں تحریک انصاف کو حکومت ملی ہے اور اسلام آباد و لاہور کے جلسوں میں خیبرپختونخوا کے رہنماؤں اور ورکرز کے نہ پہنچ پانے کے باعث یہ امید کی جارہی تھی کہ صوابی میں ایک بڑا جلسہ منعقد ہو گا جس میں ہدف سے زیادہ کارکنان اور عوام شرکت کریں گے۔ تاہم صوبائی حکومت ہونے کے باوجود پی ٹی آئی صوابی میں ایک بڑا جلسہ نہ کر سکی اور کارکنوں نے اس میں عدم دلچسپی کا اظہار کر دیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق صوابی جلسے کی ناکامی کی صورت میں پی ٹی آئی قیادت کو عمران خان کی رہائی کے لئے تحریک کے آغاز کے پہلے ہی مرحلے پر شدید دھچکا لگا ہے کیونکہ اگر پی ٹی آئی صوابی میں ایک بڑا جلسہ کرنے میں کامیاب ہو جاتی اور کارکنوں کا وہ کھویا ہوا اعتماد بحال کر لیتی جو اسلام آباد اور لاہور جلسوں میں کھوگیا تھا، تو امید تھی کہ اسلام آباد کی طرف مارچ اور دھرنے میں خیبرپختونخوا سے بڑی تعداد میں ورکرز شامل ہوتے۔
عمران کی رہائی کے لیے ٹرمپ پاکستان سے پنگا کیوں نہیں ڈالے گا؟
لیکن صوابی جلسے کے بعد یہ کہنا مشکل ہے کہ اسلام آباد مارچ اور دھرنے میں کتنے کارکن شامل ہوں گے اور دھرنا یا مارچ کامیاب ہو گا یا نہیں۔ کارکنان صوابی سے آگے پنجاب کی حدود میں کس طرح رکاوٹوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور اسلام آباد پہنچیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ماضی میں پی ٹی آئی قیادت کارکنوں کو نہ صرف متحرک رکھتی تھی بلکہ ان کو عزت و احترام بھی دیتی تھی۔ لیکن موجودہ تحریک انصاف کی حکومت میں کارکن تحریک انصاف سے بدظن ہوتے جارہے ہیں جس کی ایک بڑی وجہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں میں نااتفاقی ہے۔ جو پلان پارٹی رہنما بناتے ہیں اس پر کارکن تو عمل کرلیتے ہیں لیکن خود رہنما پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔
اس کی واضح مثال گزشتہ اسلام آباد جلسے میں دیکھی گئی جب راستے سے ہی کئی رہنما واپس چلے آئے اور وزیراعلیٰ بھی کارکنوں سے سائیڈ پر ہوگئے۔ اس لیے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کا کارکن پارٹی رہنماؤں کے رویے سے نالاں ہے۔ یہی وجہ ہے وزیر اعلیٰ گنڈاپور کی ورکرز سے کی جانے والی اپیلیں رائیگاں جا رہی ہیں اور یوتھیے پارٹی جلسے جلوسوں میں شرکت سے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔
