اڈیالہ جیل کے باہر PTI کا احتجاج، کیسے بنا عوام کیلئے عذاب؟

 

 

 

پی ٹی آئی ہر منگل کو اڈیالہ جیل کے باہر ہونے والے دنگل سے حکومت پر دباؤ ڈالنے میں تو ناکام دکھائی دیتی ہے تاہم ہر ہفتے اڈیالہ جیل روڈ پر احتجاج اور یکجہتی کے نام پر ہونے والی اس ہنگامہ آرائی اور بدنظمی نے علاقہ مکینوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں۔ مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ ہفتے میں دو مرتبہ منگل اور جمعرات کو پی ٹی آئی اڈیالہ جیل کے باہر میلہ لگا لیتی ہے۔ جس کی وجہ سے پورے علاقے میں غیر معمولی رش اور بے ہنگم صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ کارکنان کی بڑی تعداد کے جمع ہونے سے ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے، سڑکوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ جاتی ہیں اور شور و غل میں نمایاں اضافہ ہو جاتا ہے۔ سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سڑکوں کی بندش اور پولیس کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات نہ صرف روزمرہ آمد و رفت میں رکاوٹ بنتے ہیں بلکہ قریبی آبادی کے رہائشیوں کے لیے بھی مستقل اذیت کا سبب بن رہے ہیں۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کے باعث ان کے معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں اور انہیں بار بار غیر ضروری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

واضح رہے کہ منگل کے روز فیملی ملاقاتوں جبکہ جمعرات کو سیاسی رہنماؤں کی ملاقاتوں کا دن مقرر ہوتا ہے۔ تاہم جب ملاقات کی اجازت نہیں ملتی تو عمران خان کی بہنیں، پارٹی قیادت اور کارکنان اڈیالہ جیل کے قریب جمع ہو کر احتجاج کرتے ہیں۔ اس دوران سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر پولیس اڈیالہ جیل کے اطراف کی سڑکوں اور قریبی مارکیٹوں کو جزوی طور پر بند کر دیتی ہے، جس کے باعث مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

 

علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ اس مسلسل ہنگامہ آرائی کے باعث ان کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ جہاں ایک جانب طلبہ کو تعلیمی اداروں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہیں مریضوں کے لیے ہسپتال جانا بھی دشوار ہو جاتا ہے جبکہ لوگوں کو اپنے آفسز پہنچنے کیلئے بھی لمبے راستے اختیار کرنے پڑتے ہیں جبکہ احتجاج کی وجہ سے عوام کی کاروباری سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ شور شرابے اور بے ہنگم حالات کے باعث علاقہ مکینوں کے ذہنی دباؤ اور بے چینی میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

 

اڈیالہ جیل کے اطراف میں موجود دکانداروں کے مطابق پی ٹی آئی کے دھرنوں کے دوران پولیس اڈیالہ روڈ کو مکمل بند کر دیتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں اپنے گھروں تک پہنچنے کے لیے طویل اور متبادل راستے اختیار کرنا پڑتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف وقت کا ضیاع ہے بلکہ روزمرہ زندگی کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکار سیکیورٹی خدشات کا جواز پیش کرتے ہوئے دکانیں بھی بند کروا دیتے ہیں، جس سے ان کے کاروبار کو شدید نقصان پہنچتا ہے۔ بار بار کی بندش سے مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے اور روزگار متاثر ہو رہا ہے۔

 

علاقہ مکینوں کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کارکنان اور قیادت کی جانب سے ہر منگل اور جمعرات کو یہاں آ کر احتجاج کرنا ایک معمول بن چکا ہے، جس سے علاقے میں غیر یقینی اور بے چینی کی فضا قائم رہتی ہے۔ دکانداروں کے مطابق ان احتجاجوں کا مقصد بھی واضح نہیں ہوتا، کیونکہ جب ملاقات کی اجازت نہیں ملتی تو پھر اس طرح کے اجتماعات کی افادیت سمجھ سے بالاتر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اکثر لوگ یہاں محض سوشل میڈیا کے لیے ویڈیوز بنانے اور اپنی موجودگی ظاہر کرنے آتے ہیں۔ وہ کچھ فاصلے پر کھڑے ہو کر نعرے بازی کرتے ہیں اور پھر واپس چلے جاتے ہیں، جبکہ اس تمام صورتحال کا بوجھ مقامی افراد کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔

بشری بی بی کی اجارہ داری: اپنا ڈرائیور سینیٹ کا امیدوار بنا دیا

دکانداروں کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی جس طرح چاہے اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھے لیکن کم از کم سڑکیں بند کر کے اپنی بدنظمی سے مقامی کاروباری افراد اور رہائشیوں کو مشکلات میں نہ ڈالے۔ تاک ان کی ڈرامے بازیاں بھی چلتی رہیں اور عام شہری بھی روزانہ کی اذیت اور تکلیف سے بچ جائیں۔

 

Back to top button