9 مئی کے ملزمان کو سزائیں: PTI کا شیرازہ مزید تیزی سے بکھرنے لگا

انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی جانب سے پی ٹی آئی کے درجن بھر مرکزی رہنماؤں کو 9 مئی کے حملوں کے الزام میں دس، دس برس قید کی سزاؤں کے بعد عمران کی جماعت کا شیرازہ مزید تیزی سے بکھرنے لگا ہے اور انکی اعلان کردہ احتجاجی تحریک کی ناکامی اب نوشتہ دیوار دکھائی دیتی ہے۔

9 مئی 2023 کو ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملوں میں ملوث تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کو سزائیں ملنے کے بعد پارٹی ورکرز کا مورال تیزی سے گرنے لگا ہے اور عمران خان کی رہائی کی امیدیں بھی معدوم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔ نو مئی کے حملوں میں ملوث پی ٹی ائی رہنماؤں میں سے شاہ محمود قریشی اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے انکا یہ موقف تسلیم کر لیا کہ وہ اس روز کراچی میں تھے اور کسی حملے میں شریک نہیں تھے لہذا انہیں باعزت بری کر دیا گیا ہے۔ لیکن اس بریت نے ان کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے اور یہ الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے ڈیل کے نتیجے میں بری ہوئے ہیں۔

تحریک انصاف کا مؤقف ہے کہ ان کے مرکزی رہنماؤں کو دی جانے والی سزائیں سراسر ناانصافی اور ظلم ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ 9 مئی کے واقعات میں ملوث مجرموں کو بہت پہلے سزا مل جانی چاہیے تھی۔ یاد رہے کہ ابھی 9 مئی کے درجنوں کیسز ابھی زیر سماعت ہیں، جن میں عمران خان سمیت تحریک انصاف کے سینکڑوں کارکنوں اور لیڈران کو نامزد کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے چند ماہ قبل تحریک انصاف کی جانب سے دائر کردہ ایک پٹیشن پر تمام متعلقہ عدالتوں کو 9 مئی کے مقدمات کے فیصلے چار ماہ کے اندر کرنے کی ڈیڈ لائن دی تھی، جو 8 اگست کو پوری ہو رہی ہے۔ اس لیے توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران 9 مئی کہ حملوں کے زیادہ تر کیسز کے فیصلے سامنے آ جائیں گے۔

تحریک انصاف کے رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ ان میں اکثریت کو سزائیں سنائی جائیں گی، جس کے نتیجے میں نہ صرف عمران خان کو طویل عرصے کے لیے جیل میں رکھا جا سکے گا بلکہ پارٹی کو سیاسی طور پر بھی شدید نقصان پہنچے گا، کیونکہ اس کے کئی ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی ان مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یاد رہے تحریک انصاف کے منتخب اراکین اسمبلی کو سزاؤں کے نتیجے میں نااہلی کا سامنا بھی کرنا پڑے گا اور ان کی پارلیمنٹ کی رکنیت بھی ختم ہو جائے گی۔

پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے قائدِ حزبِ اختلاف ملک احمد خان بھچر ایک عدالتی فیصلے کے بعد سزا یافتہ قرار دیے گئے اور اُنہیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر شبلی فراز کو بھی 9 مئی کے مقدمات کا سامنا ہے جن کے فیصلے جلد ہونے والے ہیں۔ سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ، سابق وزیر صحت پنجاب یاسمین راشد، سینٹر اعجاز چوہری اور سابق صوبائی وزیر پنجاب میاں محمود الرشید کو بھی دس دس برس قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں جس کے بعد ان کی پارلیمنٹ سے نااہلی یقینی ہے۔

عمران کی کون سی خواہش انہیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے لے گئی؟

 

انکے علاوہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ علی امین گنڈاپور کو بھی مقدمات کا سامنا ہے، اگر اُنہیں سزا ہوئی تو صوبے میں تحریک انصاف کی حکومت کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔  تحریک انصاف کے بیشتر رہنماؤں اور پارلیمانی ارکان کو ان خطرات کا بخوبی اندازہ تھا۔ اسی لیے اُن کا خیال تھا کہ احتجاج کی بجائے حکومت سے مذاکرات کیے جائیں۔ ان رہنماؤں کا خیال تھا کہ عمران کے احکامات پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف چلائی جانے والی مہم کا فائدہ ہونے کی بجائے الٹا نقصان ہوا ہے۔ لیکن خان صاحب نے اس رائے کو بار بات مسترد کیا۔ پہلے تو اُنہوں نے کہا کہ مذاکرات صرف فوج سے ہوں گے، اور جب فوج کی طرف سے کسی دلچسپی کا اظہار نہ ہوا تو اُنہوں نے اعلان کر دیا کہ اب کسی سے بھی مذاکرات نہیں ہوں گے، انہوں نے اعلان کیا کہ اب چونکہ پانی سر سے گزر چکا ہے اس لیے صرف اور صرف احتجاج ہوگا اور حکومت مخالف تحریک چلائی جائے گی۔

عمران خان نے اپنی جماعت کے کسی رہنما کی ایڈوانس نہ سنی اور واضح طور پر کہا کہ احتجاج اور تحریک کا نقطۂ عروج 5 اگست کو ہو گا۔ ان کے اس اعلان کے بعد پارٹی رہنماؤں کو سزائیں سنانے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ لیخن آج صورت حال یہ ہے کہ نہ تو کہیں کوئی احتجاج ہوتا نظر آ رہا ہے اور نہ ہی کہیں کسی حکومت مخالف تحریک کا کوئی وجود دکھائی دے رہا ہے، ایسے میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ 5 اگست کو کہاں سے اور کیسے انقلاب لایا جائے گا۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مسئلہ یہ ہے کہ عمران خان مسلسل غلطیوں پر غلطیاں کر رہے ہیں، جن کے نتیجے میں نہ تو انہیں کچھ حاصل ہو رہا ہے اور نہ ہی ان کی مشکلات میں کوئی کمی آ رہی ہے۔ صورتِ حال یہ ہے کہ تحریک انصاف بتدریج غیر متعلقہ اور بے اثر ہوتی جا رہی ہے۔ ایسے میں یہ کہا جائے تو بے جانا ہوگا کہ تحریک انصاف نہ تو گھر کی رہی ہے اور نہ ہی گھاٹ کی۔

Back to top button