پنجاب اسمبلی،اپوزیشن کے 26 معطل ارکان کی رکنیت بحال کردی گئی

پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 معطل اراکین کی رکنیت بحال کر دی گئی۔ قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے حزبِ اختلاف کے اراکین کو ایوان میں واپس آنے کی ہدایت کی۔

ارکان کی معطلی وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے اسمبلی خطاب کے دوران ہنگامہ آرائی اور توڑ پھوڑ کے باعث عمل میں آئی تھی۔ تاہم اب اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے ان اراکین کی بحالی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

نوٹیفکیشن کے بعد جب اپوزیشن ارکان ایوان میں واپس پہنچے تو حکومتی بینچز سے ان کا تالیاں بجا کر استقبال کیا گیا۔ اس موقع پر وزیر خزانہ و پارلیمانی امور میاں مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا کہ اپوزیشن کی واپسی کا خیرمقدم کرتے ہیں، خوشی ہے کہ منتخب نمائندے ایوان میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے واپس آئے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی خواہش اور درخواست بھی یہی تھی کہ عوامی نمائندے اسمبلی کا حصہ بنیں تاکہ اپنے حلقوں کی موثر نمائندگی کر سکیں۔

قائم مقام سپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے بھی اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن اراکین کی واپسی ایک مثبت پیغام دے گی۔

یاد رہے کہ 18 جولائی کو اطلاع سامنے آئی تھی کہ اپوزیشن کے معطل 26 اراکین کی بحالی کے لیے ڈرافٹ تیار کر لیا گیا ہے، جسے منظوری کے لیے سپیکر ملک محمد احمد خان کو بیرون ملک واٹس ایپ کے ذریعے بھجوایا جانا تھا۔ سپیکر کی منظوری کے بعد ڈرافٹ قائم مقام اسپیکر کو ارسال کیا گیا، جس پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل معطل ارکان کے معاملے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے تین دور ہو چکے تھے، جو بالآخر کامیاب ہو گئے۔ مذاکرات کے بعد وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا تھا کہ دونوں فریقین کے درمیان اتفاق ہوا ہے کہ آئندہ نازیبا زبان استعمال نہیں کی جائے گی اور احتجاج آئینی دائرہ کار میں کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ ایوان کی ایتھکس کمیٹی کے فیصلے بالادست ہوں گے، اور نظم و ضبط کو یقینی بنایا جائے گا۔

پچھلے مہینے وزیراعلیٰ مریم نواز کے اسمبلی خطاب کے دوران اپوزیشن ارکان کی شدید ہنگامہ آرائی اور ایوان میں توڑ پھوڑ پر 26 ارکان کو معطل کر دیا گیا تھا اور ان پر مالی جرمانے بھی عائد کیے گئے تھے۔

Back to top button