واٹس ایپ کے ذریعے ریکارڈ کی فراہمی کی ہدایت، پراسیکیوٹر جنرل پنجاب عدالت طلب

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد امجد رفیق نے فوجداری مقدمات میں استغاثہ اور پولیس کے درمیان رابطے کو مؤثر اور جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پراسیکیوشن کے نظام میں موجود خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
یہ مشاہدہ انہوں نے بعد از گرفتاری ضمانت کی ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیا، جب ایک خاتون ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کو عدالت میں عجلت میں ریکارڈ اکٹھا کرتے دیکھا گیا۔ عدالت کے استفسار پر پراسیکیوٹر نے بتایا کہ مقدمے کا ریکارڈ انہیں سماعت کے وقت ہی فراہم کیا گیا ہے۔
اس صورتحال پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جسٹس امجد رفیق نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو فوری طور پر عدالت میں طلب کیا اور کہا کہ مقدمات کے ریکارڈ کی تاخیر سے فراہمی عدالتی وقت کے ضیاع کا سبب بنتی ہے۔
انہوں نے کاغذی ریکارڈ پر انحصار کرنے کے بجائے دستاویزات کو واٹس ایپ یا کسی دیگر منظور شدہ الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے شیئر کرنے کی تجویز دی تاکہ پراسیکیوشن کو مقدمات کی تیاری کے لیے مناسب وقت مل سکے۔
عدالت نے پراسیکیوٹر جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ وہ پولیس افسران کو پابند کریں کہ وہ ہر مقدمے کی رپورٹ اور پیش رفت سے متعلق تفصیلات سماعت سے کم از کم ایک دن پہلے الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے پراسیکیوٹرز کو فراہم کریں۔ اس ضمن میں پولیس افسران کے واٹس ایپ نمبرز کے حصول کا باقاعدہ طریقہ کار بھی مرتب کرنے کی ہدایت کی گئی، تاکہ استغاثہ کے ساتھ فوری اور مؤثر رابطہ ممکن ہو سکے۔
جسٹس امجد رفیق نے کہا کہ اس عمل سے نہ صرف عدالتی وقت کی بچت ہوگی بلکہ استغاثہ کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پراسیکیوٹرز کو پنجاب کریمنل پراسیکیوشن سروس ایکٹ 2006 کے تحت، عوامی مفاد میں آزادانہ طور پر اپنے اختیارات کا استعمال کرنا چاہیے۔
عدالت نے متنبہ کیا کہ اگر ان ہدایات پر عملدرآمد میں غفلت برتی گئی تو ذمہ داران کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
