نیوزی لینڈ میں خالصتان کی آزادی کیلئے ریفرنڈم

نیوزی لینڈکےشہر آکلینڈ میں خالصتان کی آزادی کیلئے منعقد ریفرنڈم میں ووٹنگ کا عمل مکمل ہوگیا۔

ووٹنگ کاعمل شروع ہونےسےپہلے ہی لوگوں کی طویل قطاریں لگ گئیں تھی جس کےسبب  ریفرنڈم کےمقررہ وقت میں ایک گھنٹے ااضافہ کرناپڑا،خالصتان ریفرنڈم میں شرکت کیلئے دیگر شہروں سے بھی سکھ کمیونٹی کی بڑی تعدادآکلینڈپہنچی تھی۔

 غیر ملکی میڈیا کےمطابق ووٹ ڈالنےکیلئے آئےافراد نےبھارت کیخلاف نعرے بازی بھی کی جبکہ ووٹنگ کیلئےلوگ پرجوش نظر آئے۔

انڈی پینڈنٹ پنجاب ریفرنڈم کمیشن کی جانب سے بتایا گیا ہےکہ ریفرنڈم میں37ہزار سے زائد افراد نے حق رائےدہی استعمال کیا۔ووٹ ڈالنےکیلئے آئےافراد کوچارچارگھنٹےانتظار کرنا پڑا۔

شرکا سےسکھ فارجسٹس کے کونسل جنرل گرپتونت سنگھ پنوں نےویڈیو لنک سےخطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے مظالم کےباوجود سکھوں نےتشددکے بجائے ووٹ کاراستہ اپنایا، ریفرنڈم کا اگلا مرحلہ آئندہ برس مارچ کو امریکا کے شہر لاس اینجلس میں ہوگا۔

دوسری جانب مبصرین کا ماننا ہےکہ ریفرنڈم سےبھارت اورنیوزی لینڈکےتعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

Back to top button