چینی اسکینڈل میں شوگر ملز کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری کالعدم قرار

چینی بحران اسکینڈل میں شوگر ملز کے خلاف ایف آئی اے انکوائری کالعدم قرار دی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ نے شریف فیملی کی العربیہ شوگر ملز اور جہانگیر ترین کی جے ڈی ڈبلیو شوگر ملز کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری کالعدم قرار دے دی گئی ہے، جسٹس شاہد کریم اور جسٹس ساجد محمود سیٹھی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ہے جس میں درخواست گزاروں کے خلاف ایف آئی اے کی انکوائری کو بدنیتی پر مبنی اور کالعدم قرار دے دیا گیا۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ درخواست گزار ان کے خلاف ایف آئی اے نے سیاسی بنیادوں پر انکوائری شروع کی۔ ایف آئی اے نے قانونی تقاضے پورے کرنے کی بجائے درخواست گزاروں کو ناجائز تنگ اور ہراساں کرنا شروع کر دیا۔ لہٰذا عدالت ایف آئی اے کے اس غیر قانونی اقدام کو کالعدم قرار دیتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے چینی اچانک مہنگی ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کےلیے ایک تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا تھا۔ اپریل میں چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور مونس الٰہی کی کمپنیوں کو ہوا ہے، جس کے بعد اس انکوائری کمیٹی کی تفصیلات لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ شوگر کمیشن کی رپورٹ کے بعد اس پر عدالتی کارروائی چل رہی ہے۔ گزشتہ روز شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کے جرم میں ایف آئی اے کے افسر کو برطرف کردیا گیا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد باجوہ پر شوگر کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کا الزام تھا۔ سجاد باجوہ چینی بحران اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ کرنے والی ٹیم میں شامل تھے۔ ان پر شوگر مل مالکان کو رپورٹ لیک کرکے انہیں فائدہ دینے کا الزام تھا جس پر انہیں معطل کیا گیا تھا۔ ان پر محکمانہ انکوائری بٹھائی گئی تھی جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سجاد باجوہ نے شوگر مل مالکان سے بھاری رقم لے کر انہیں شوگر انکوائری کی تفصیلات فراہم کیں۔