ملزم کے فنگرپرنٹس سے سیف علی خان کیس نیارخ اختیار کرگیا

اداکار سیف علی خان حملہ کیس نے نیا موڑ اختیار کرگیا۔فنگر پرنٹس کے نمونے مبینہ طور پر حملے میں ملوث محمد شریف الاسلام شہزاد کے فنگر پرنٹس سے میل نہیں کھاتے۔
رپورٹ کے مطابق ملزم شریف الاسلام بنگلہ دیشی شہری ہے،جو غیر قانونی طور پر بھارت میں داخل ہوا، اس نےپولیس کو اداکار کے گھر میں چوری کی غرض سے گھسنے کی وجہ بتاتے ہوئے بیان دیا ہے کہ کسی نے پیسوں کےعوض اس سے جعلی شہریت کے دستاویز بنوانے کا وعدہ کیا تھا، یہی وجہ تھی کہ اس نے خان کے گھر میں چوری کی کوشش کی۔
پولیس نے چاقو حملہ کیس کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اب اس شخص کی تلاش بھی شروع کردی ہے، جس نے شریف الاسلام سے جعلی دستاویزات بنوانے کا وعدہ کیا تھا۔
کیس میں فنگر پرنٹس کے نتائج کے سبب دلچسپ موڑ آگیا ہے، اداکار پر چاقو حملے کے بعد ممبئی پولیس نے ان کی رہائش گاہ سے فنگر پرنٹس کے 19 نمونے حاصل کیے تھے، لیکن حیران کن طور پر کوئی ایک بھی نمونہ پولیس کی زیر حراست مبینہ بنگلادیشی شہری کے فنگر پرنٹس سے نہیں ملتا۔
