سربجیت اور ناصر: پاک بھارت پریمی جوڑے کا دوبارہ ملن کیسے ہوا؟

پاک بھارت کشیدگی کے باوجود پاکستانی نوجوان سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون نور فاطمہ المعروف سربجیت کور کو پاکستان میں قیام کی اجازت دے دی گئی۔ ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی ذاتی کاوشوں کے نتیجے میں ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی پاکستانی شہری سے شادی کرنے والی بھارتی خاتون کو ویزے کی مدت ختم ہونے کے باوجود ڈی پورٹ نہیں کیا گیا۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انہیں اپنے شوہر کے ساتھ پاکستان میں رہنے کی اجازت دے دی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہےتاکہ شادی شدہ جوڑے کو علیحدگی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ عوامی حلقوں میں اس حکومتی اقدام کودونوں ممالک کے درمیان کشیدہ حالات کے باوجود ایک مثبت اور نرم پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ سربجیت کور کا تعلق انڈین ریاست پنجاب کے ضلع کپور تھلہ سے ہے، سربجیت طلاق یافتہ ہیں، ان کے دو بیٹے ہیں اور ان کے سابق شوہر طویل عرصے سے برطانیہ میں مقیم ہیں۔ دوسری جانب ناصر حسین پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہیں۔ پولیس اور انٹیلیجنس بیورو کی مشترکہ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ سربجیت کور اور ناصر حسین کی ملاقات 2016 میں ٹک ٹاک کے ذریعے ہوئی تھی۔ 4 نومبر 2025 کو ناصر حسین گوردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب گئے جہاں سے وہ سربجیت کور کے ہمراہ فاروق آباد ضلع شیخوپورہ اپنے آبائی علاقے چلے گئے جہاں دونوں نے شادی کر لی۔
خیال رہے کہ سربجیت کور چار نومبر کو سکھ یاتریوں کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں۔ ان کے پاس یاتری ویزہ تھا جس کی معیاد 13 نومبر تک تھی۔ تاہم وہ واپس نہ گئیں اور انھوں نے پاکستان میں قیام کے دوران ہی اسلام قبول کر کے شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی۔ عدالتی دستاویزات کے مطابق سربجیت کور نے پاکستان آمد کے بعد اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا اور حافظ رضوان بھٹی کے ہاتھوں کلمہ پڑھ کر اسلامی نام ’نور فاطمہ‘ رکھا۔ 5 نومبر کو انہیں قبولِ اسلام کی سند جاری کی گئی۔ شیخوپورہ کی یونین کونسل میں ان کا نکاح ناصر حسین سے رجسٹرڈ کیا گیا، جس کے مطابق ناصر حسین کی عمر 43 سال جبکہ سربجیت کور کی عمر ساڑھے 48 سال درج ہے۔ نکاح نامے میں حق مہر دس ہزار روپے مقرر کیا گیا اور یہ بھی درج ہے کہ ناصر حسین پہلے سے شادی شدہ ہیں۔ سربجیت کور نے عدالت میں دائر بیان میں مؤقف اختیار کیا کہ انہوں نے اپنی آزاد مرضی سے شادی کی، انہیں اغوا نہیں کیا گیا اور وہ صرف تین کپڑوں میں اپنے والدین کا گھر چھوڑ کر آئی تھیں۔ تاہم ویزے کی معیاد ختم ہونے کے باعث قانونی پیچیدگیاں پیدا ہوئیں۔ رواں برس چار جنوری کو انہیں ننکانہ صاحب کے علاقے سے حراست میں لے کر لاہور کے ویمن شیلٹر ہوم منتقل کیا گیا اور واہگہ بارڈر کے ذریعے ڈی پورٹ کرنے کی تیاری کی گئی۔ آخری وقت پر انہوں نے بھارت واپس جانے سے انکار کر دیا جس پر ان کو ڈی پورٹ کرنے کا عمل روک دیا گیا اور انھیں ویمن شیلٹر ہوم منتقل کر دیا گیا تاہم اب وفاقی وزارت داخلہ کی ہدایات پر سربجیت کور کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی اجازت مل گئی ہے اور وہ دارالامان سے اپنے شوہر کے گھر پہنچ گئی ہیں۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے نور فاطمہ المعروف سربجت کور کا کہنا تھا کہ میں اور ناصر سچا پیار کرتے ہیں۔ اگر آپ سچا پیار کرتے ہیں تو یقین ہوتا ہے کہ آپ ملیں گے۔ ہمیں پیار کرتے ہوئے آٹھ سال ہو گئے تھے۔ اگر میں بوڑھی بھی ہو جاتی تو بھی پاکستان ضرور آتی۔” انہوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان آنے کے اپنے فیصلے پر خوش ہیں اور اسلام قبول کرنے پر مطمئن ہیں۔۔ وہ اپنی باقی زندگی پاکستان میں خوشی سے گزارنا چاہتی ہیں۔ اسی دوران ان کے شوہر ناصر حسین کا کہنا تھا کہ وہ نور فاطمہ سے شادی پر بہت خوش ہیں اور پاکستانی اداروں کے رویے سے انہیں کوئی شکوہ نہیں اور امید کرتے ہین آئندہ انھیں ہراساں نہیں کیا جائے گا۔
دوسری جانب پاکستان سکھ گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ سردار مہیندر پال سنگھ کا سربجیت کور کے ویزے کی نوعیت پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہنا ہے کہ کسی بھی شخص کا یاتری ویزے کو شادی کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اگر سربجیت کور کو ویزے کی مدت ختم ہونے کے بعدبھی پاکستان میں قیام کی اجازت دی جاتی ہے تو یہ ایک نظیر بن سکتی ہے۔ تاہم حکومت پاکستان کو مؤقف ہے کہ سربجیت کور کو پاکستان میں قیام کی اجازت دینے کا فیصلہ خالصتا انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
اڈیالہ سے بنی گالہ منتقلی، عمران خان اور اسٹیبلشمنٹ کی جیت کیسے؟
مبصرین کے مطابق سربجیت کور کا کیس محض ایک شادی کا معاملہ نہیں بلکہ ویزہ قوانین، مذہبی تبدیلی، بین الاقوامی تعلقات اور انسانی حقوق کے درمیان ایک نازک توازن کی مثال ہے۔ حکومت کے حالیہ فیصلے کو بعض حلقے انسانی ہمدردی کی جیت قرار دے رہے ہیں، جبکہ کچھ ناقدین اسے قانونی نظیر بننے کا خدشہ بھی ظاہر کرتے نظر آتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق وقتی طور پر سربجیت کور، یعنی نور فاطمہ، شیخوپورہ میں اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئی ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر مہندی ہے، اور لبوں پر یہ دعویٰ کہ وہ اپنے فیصلے پر مطمئن ہیں۔ تاہم یہ معاملہ ابھی مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ حکومتی فیصلہ سربجیت کور کیلئےمستقل سکون میں بدلتا ہے یا آنے والے دنوں میں مزید قانونی اور سفارتی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
