27 ویں آئینی ترمیم منظورکرانے کیلیے سینیٹ اجلاس جاری، حکومت کا نمبر پورے ہونے کا دعویٰ

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ 27 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے حوالے سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے، سینیٹ میں حکومت کے پاس مکمل ووٹ موجود ہیں، اور جیسے ہی تمام ووٹر پہنچیں گے، ووٹنگ شروع کر دی جائے گی۔
ایوان بالا (سینیٹ) کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی صدارت میں جاری ہے، جس میں مختلف رہنما اظہار خیال کر رہے ہیں۔ پریزائڈنگ آفیسر منظور کاکڑ نے 27 ویں ترمیم پر بحث کا آغاز کیا، اور سینیٹر آغا شاہ زیب درانی نے کہا کہ یہ مسئلہ ذاتی نہیں بلکہ ملک و قوم کا ہے۔
قبل ازیں سینیٹ اجلاس کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس میں گھنٹیاں بجائی گئیں، جس کے بعد ناشتے میں موجود اراکین نے ایوان کی جانب رخ کیا۔ سینیٹر دنیش کمار کے مطابق ناشتے میں انڈے، پراٹھے، حلوہ اور کروسان شامل تھے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اعلان کیا کہ وہ 27 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ نہیں دیں گے، اور کہا کہ حکومت نے ترمیم پڑھنے کی اجازت نہیں دی، جبکہ وہ تحفظات کے باوجود تجاویز پیش کرنا چاہتے تھے۔ سینیٹر علی ظفر نے بھی ترمیم کی مخالفت کی اور کہا کہ اپوزیشن بھرپور احتجاج کرے گی۔
دوسری جانب سینیٹر فیصل واوڈا نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم پاس ہو گئی ہے اور وزیراعظم کے اقدامات کی تعریف کی، ساتھ ہی اٹھائیسویں ترمیم کی تیاری کی ضرورت پر زور دیا۔
گزشتہ روز سینیٹ اور قومی اسمبلی کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی نے 27 ویں آئینی ترمیم کی تمام شقوں کی متفقہ منظوری دی تھی، جسے چیئرمین فاروق ایچ نائیک کی زیر صدارت کمیٹی روم نمبر 5 میں زیر غور لایا گیا۔
