کیا شہباز شریف منی بجٹ پاس کروانے پر حکومت کے ساتھ ہیں؟

شہباز شریف منی بجٹ پاس کروانے پر حکومت کے ساتھ


سابق وزیراعظم نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کے برعکس مفاہمتی بیانیہ لے کر چلنے والے شہباز شریف قومی اسمبلی کے منی بجٹ اجلاس سے پراسرار طور پر غائب رہنے کی وجہ سے سوشل میڈیا پر تنقید کی زد میں ہیں اور یہ سوال کیا جارہا ہے کہ منی بجٹ کو پوری شدت کے ساتھ ناکام بنانے کا اعلان کرنے والے شہباز اچانک کیوں غائب ہو گئے؟ یہ الزام بھی لگایا جا رہا ہے کہ شاید شہبازشریف اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے اشارہ ہو جانے کے بعد چاہتے ہیں کہ منی بجٹ پاس ہو جائے۔
یاد رہے کہ کپتان حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف کے مطالبے پر پیش کیے گئے منی بجٹ کی اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں بھرپور مخالفت تو کی مگر قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف ایک بار پھر اجلاس سے غائب رہے جس کی کوئی ٹھوس وجہ نظر نہیں آتی بجائے اس کے کہ وہ اجلاس میں شریک ہو کر حکومت مخالف پوزیشن نہیں لینا چاہتے تھے۔ لیکن ایسا پہلی بار نہیں ہوا کہ قومی اسمبلی میں کسی اہم معاملے پر پوزیشن لینے کا وقت آئے اور شہباز شریف غائب نہ ہوئے ہوں۔ اگست 2018 میں تحریک انصاف کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اس حکومت نے منی بجٹ سمیت چار بجٹ اجلاس بلائے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف تین بار بجٹ پیش ہونے یا پھر منظور ہونے کے دن قومی اسمبلی سے غائب پائے گے۔ گو کہ قومی اسمبلی کے حالیہ منی بجٹ اجلاس میں شہباز شریف کے علاوہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین آصف زرداری اور بلاول بھٹو بھی غائب تھے مگر وہ پیپلز پارٹی کی سیاست کر رہے ہیں، نواز لیگ کی نہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ شہباز شریف اس سال جون میں سالانہ بجٹ اجلاس میں بھی موجود نہیں تھے۔
اس حوالے سے اردو نیوز سے بات کرتے ہوئے سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی بجٹ اجلاس سے عدم حاضری کی واضح وجہ یہ تھی کہ سب چاہتے ہیں کہ منی بجٹ پاس ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ شاید شہباز شریف چاہتے تھے کہ ان کی حاضری سے بجٹ میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو کیونکہ اس بجٹ کی منظوری ریاست کے مفاد میں ہے۔ اس سے پہلے بھی 29 جون 2021 کو سالانہ بجٹ کی منظوری کے وقت شہباز شریف کی قومی اسمبلی میں عدم موجودگی نے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے درمیان لفظی جنگ بھی چھیڑ دی تھی۔ بجٹ پر بحث کے دوران ارکان کی گنتی کی گئی تو اسمبکی میں حکومت کے 172 اور اپوزیشن کے 138 ارکان موجود تھے جب کہ قومی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے مطابق اپوزیشن کے کم سے کم 160 ارکان موجود ہونے چاہیے تھے۔
اپوزیشن کے 22 غائب ارکان میں سے اکثریت نواز لیگ کی تھی اور اس اہم ترین اجلاس میں شرکت نہ کرنے والوں میں شہباز شریف بھی شامل تھے۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی کہا تھا کہ ’وہ بجٹ کی منظوری کے وقت اپوزیشن ارکان کی تعداد پوری نہ ہونے کا معاملہ شہباز شریف کے سامنے اٹھائیں گے۔‘
یاد رہے کہ 17 جون کو قومی اسمبلی میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے دعویٰ کیا تھا کہ ’وہ بجٹ منظور نہیں ہونے دیں گے اور حکومت کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوں گے۔‘ تاہم 29 جون کو اجلاس میں شہباز شریف کی عدم موجودگی کو بہت واضح طور پر محسوس کیا گیا۔
ان کی عدم موجودگی پر تنقید کے بعد مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اورنگزیب نے وضاحتی ٹویٹ کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’شہباز شریف اپنے تایا زاد بھائی اور برادر نسبتی میاں طارق شفیع کی وفات کے باعث جنازے اور لاہور میں رسم قل کی وجہ سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکے۔ ان کی عدم موجودگی پر پریشان ہونے والے اب ان سے تعزیت کر سکتے ہیں۔‘
مریم اورنگزیب نے مزید کہا تھا کہ درحقیقت اپوزیشن کے تمام ارکان کے موجود ہونے کے باوجود بجٹ منظور ہونے سے نہیں روکا جا سکتا تھا۔ بیہ جٹ 172 ووٹوں سے منظور ہوا، اختر مینگل اور جماعت اسلامی کی عدم موجودگی کے بعد اپوزیشن کے کل ووٹ 161 بنتے تھے جس سے فنانس بل پر کوئی اثر نہیں پڑنا تھا۔ انکا۔کہنا تھا کہ ہمارے خلاف سیاسی بیان بازی لاحاصل مشق ہے۔ گزشتہ سال بجٹ اجلاس میں شہباز شریف شریک نہیں ہوئے تھے۔ اجلاس سے چند روز قبل کرونا کی صورت حال کے پیش نظر ورچوئل اجلاس کی تجویز سامنے آئی تو قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ’حکومت کو معلوم ہے کہ وہ بجٹ پاس نہیں کروا سکے گی اس لیے ورچوئل اجلاس بلا کر بجٹ پاس کروانا چاہتی ہے۔ اپوزیشن اس کی اجازت نہیں دے گی۔‘
تاہم بجٹ اجلاس سے چند دن قبل 25 فیصد حاضری کے ساتھ بجٹ سیشن بلانے پر حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اتفاق رائے ہوگیا۔ یہ بھی محض اتفاق تھا کہ بجٹ سے پہلے ہی شہباز شریف سمیت متعدد حکومتی اور اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کرونا کا شکار ہوگئے۔ یوں شہباز شریف پورے بجٹ اجلاس سے غیر حاضر رہے اور پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار اپوزیشن لیڈر نے بجٹ پر بحث کا آغاز نہیں کیا۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پہلا بجٹ 11 جون 2019 کو پیش کیا تھا جس میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف شریک تھے بلکہ وہ برطانیہ میں دو ماہ قیام کے بعد بجٹ سے چند دن قبل ہی واپس پاکستان پہنچے تھے۔ اس سے قبل شہباز شریف کو قومی احتساب بیورو کی جانب سے کئی مقدمات کا سامنا تھا، جن میں آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل اور رمضان شوگر مل کیس شامل تھے۔ انہیں 2018 میں نیب نے گرفتار کر کے اپنی حراست میں بھی رکھا تھا۔ بعد میں عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا تھا۔ کچھ ناقدین تو یہ بھی کہتے ہیں کہ شاید شہباز شریف ایک مرتبہ پھر نیب کے ہاتھوں گرفتاری کے خوف سے بجٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوئے تاکہ عمران خان ایک بار پھر جلال میں آ کر انہیں اندر نہ کروا دیں۔

Back to top button