اپنے مسیجزلیک کرنےپرشیخ وقاص اکرم عالیہ حمزہ پرگرم

خود کو انقلابی، بااصول اور نظریاتی جماعت کہنے کی دعویدار پی ٹی آئی اب اندرونی خلفشار، ذاتی رنجشوں اور بداعتمادی کی ایسے دلدل میں دھنستی جا رہی ہے کہ جہاں سے واپسی کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ احتجاجی ریلی میں نظر انداز کیے جانے پر ناراض پی ٹی آئی پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے شیخ وقاص اکرم کی آڈیو لیک کر کے پارٹی کی اندرونی کشمکش کو عوامی تماشا بنا دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی لاہور ریلی میں نظرانداز کئے جانے پر ناراض عالیہ حمزہ نے پارٹی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے میسجز لیک کر دئیے۔ اور تو اور شیخ وقاص اکرم نے اس طرز عمل پر غصے میں شکوہ کیا توعالیہ حمزہ نے شیخ وقاص کے شکوے کا میسج بھی سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا
عالیہ حمزہ کی جانب سے لیگ گئے شیخ وقاص اکرم کے وائس نوٹ میں سنا جاسکتا ہے کہ شیخ وقاص اکرم نے حالیہ حمزہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میرے میسج کو آپ نے سیاق و سباق کے بغیر ہی میڈیا کو فیڈ کر دیا، آپ اس قسم کی خاتون ہیں کہ آپ سے جو بات کی جائے وہ آپ میڈیا کو آگے فیڈ کر دیں۔شیخ وقاص اکرم کا غصے میں مزید کہنا تھا کہ کیا آپ نے میڈیا کو یہ بتایا کہ یہ بات میں نے کس بات کے جواب میں کہی اور کیا آپ نے انہیں بتایا کہ وہ میٹنگ ہورہی ہے، آپ نے ان کو بتایا کہ کور کمیٹی کے اجلاس میں کیا فیصلہ ہوا، شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ آپ میڈیا کی اتنی بھوکی ہیں، آپ کو میڈیا کی اتنی توجہ چاہیے، اتنا رونا دھونا مچایا ہوا ہے کہ آپ میڈیا کو میرے مسیج لیک کررہی ہیں لیکن آپ نے اصل بات نہیں بتائی۔شیخ قاص کا مزید کہنا تھا کہ آپ نے یہ بڑی بری حرکت کی ہے، کیا سوشل میڈیا پر پیغام لیک کرکے عمران خان کو جیل سے باہر نکالا جائے گا، مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا مسیجز لیک ہوتے رہیں لیکن عوام کو بتایا جائے کہ اصل میں کیا ہوا۔ شیخ وقاص عالیہ حمزہ کو بھیجے گئے پیغام میں غصے کی حالت میں مسلسل چیختے ہوئے سنائی دئیے۔
عالیہ حمزہ کو نامناسب پیغام بھیجنے پر سوشل میڈیا پر شیخ وقاص اکرم کڑی تنقید کی زد میں ہیں، ناقدین کا کہنا ہے کہ پیغام میں شیخ وقاص اکرم کا لہجہ انتہائی غیر مہذب ہے، خواتین کو ایسے پیغام بھیجنے کی کسی کو بھی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ حقیقت میں یہ پیغام نہیں شیخ وقاص کی جانب سے عالیہ حمزہ کو ڈائریکٹ دھمکی لگتی ہے کیونکہ میسج میں شیخ وقاص کی زبان نہ صرف غیر پارلیمانی تھی بلکہ خواتین کے خلاف رویہ بھی قابلِ مذمت تھا۔ ناقدین کے مطابق آج کل عالیہ حمزہ مشکلات کی زد میں ہیں ایک طرف انھیں اپنے ہی عہدے اور حیثیت کے لیے بار بار صفائیاں دینی پڑ رہی ہیں، تو دوسری طرف شیخ وقاص جیسے ساتھی بدتمیزی اور الزامات پر اتر آئے ہیں۔ مبصرین کے بقول موجودہ حالات میں قیادت کا جوش، نظم و ضبط کی بجائے ذاتی مفادات اور میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کی ہوس میں بکھرتا جا رہا ہے۔ جو جماعت اپنے کارکنان کو قربانی اور وفاداری کا سبق دیتی تھی، اب خود اندر سے اخلاقی انحطاط، بداعتمادی اور سازشوں کا نمونہ بنتی جا رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق لیک کئے گئے میسج میں شیخ وقاص کا یہ کہنا کہ "آپ اس قسم کی خاتون ہیں جو بات چیت کو میڈیا پر لیک کر دیں” اس بات کا غماز ہے کہ پی ٹی آئی کے اندر خواتین کی عزت کا وہ معیار ہرگز قائم نہیں جس کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔ دوسری جانب عالیہ حمزہ کی ناراضی اور پارٹی قیادت سے لاعلمی ظاہر کرتی ہے کہ ایک چیف آرگنائزر تک کو بنیادی فیصلہ سازی سے باہر رکھا جا رہا ہے۔ عالیہ حمزہ کی طرف سے یہ سوال کہ "عمران خان کی رہائی کی تحریک کہاں سے اور کیسے چلے گی؟” محض ایک شکایت نہیں، بلکہ ایک سنگین اشارہ ہے کہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت احتجاجی حکمت عملی میں خود انتشار کا شکار ہے۔ جو اس بدترین تنظیمی بدنظمی کی نشاندہی ہے جہاں فیصلے کسی اجتماعی فورم پر نہیں بلکہ چھوٹے گروپس اور علاقائی دھڑوں میں لیے جا رہے ہیں۔
پی ٹی آئی کے اندر جاری چپقلش پر تبصرہ کرتے ہوئے سینئر تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہےکہ "پی ٹی آئی قیادت احتجاج کے حوالے سے یکسو دکھائی نہیں دیتی، علی امین کچھ اور کہہ رہے ہیں، علیمہ خان کچھ اور جبکہ پنجاب جہاں سے احتجاجی تحریک کا آغاز کیا گیا ہے اس کی چیف آرگنائزہ عالیہ حمزہ کا شکوہ ہے کہ انھیں تو کسی بات کا کچھ علم ہی نہیں ۔” سلمان غنی کے بقول پی ٹی آئی کی جیل سے باہر قیادت احتجاج کے حوالے سے نہ صرف کنفیوژن کا شکار ہے بلکہ یہ تاثر بھی زور پکڑ رہا ہے کہ عمران خان کے بغیر یہ جماعت ایک واضح بیانیہ یا نظم پیدا کرنے سے قاصر ہے۔
سلمان غنی کا مزید کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے آڈیو کلپس، واٹس ایپ گروپوں کی لیک گفتگو اور اندرونی محاذ آرائیوں سے واضح ہوتا ہے کہ پارٹی کے اندر عالیہ حمزہ کے خلاف ایک منظم مہم چلائی جا رہی ہے، جس کے تانے بانے خیبرپختونخوا کی قیادت سے جُڑے نظر آتے ہیں۔ عالیہ حمزہ کو دانستہ پارٹی اجلاسوں سے دور رکھنا، پھر ان کے خلاف بیانیہ بنانا، ظاہر کرتا ہے کہ پارٹی کے اندر گروہ بندی اس حد تک بڑھ چکی ہے کہ اب شخصیات کو ہدف بنا کر سائیڈ لائن کرنے کی پالیسیاں اپنائی جا رہی ہیں۔ سلمان غنی کے مطابق یہ ساری صورت حال صرف فرد واحد کی بےعزتی یا ناراضی کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک بڑی سیاسی جماعت کے اخلاقی اور تنظیمی زوال کی عکاسی ہے۔ وہ جماعت جو سیاسی استقامت، شفافیت، اور اخلاقی برتری کا دعویٰ کرتی تھی، آج ذاتی مفادات، داخلی سازشوں اور اقتدار کی کھینچا تانی میں پھنسی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
