ترلےاورمنت کے بعدشیخ وقاص اکرم کی نااہلی روک دی گئی

بیک ڈور معافی تلافی اور منتوں ترلوں کے بعد سپیکرقومی اسمبلی سردار ایازصادق نے پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص اکرم کے خلاف کارروائی کو سلو ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ قومی سیاست کے گرم محاذ پر ایک نیا موڑ اُس وقت آیا جب سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے ترجمان شیخ وقاص اکرم کے خلاف 40 دن کی غیر حاضری پر جاری کارروائی کو اچانک روک دیا۔ مبصرین کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی کا یہ فیصلہ محض ایک پارلیمانی رعایت نہیں، بلکہ پس پردہ جاری حکومت و اپوزیشن رابطوں کا واضح اشارہ ہے جس سے آنے والے دنوں میں سیاسی بساط کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
خیال رہے کہ 5 اگست کو سپیکر سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کے سیکشن 44کے تحت پی ٹی آئی ترجمان شیخ وقاص اکرم کے 40 روز تک ایوان سے غیر حاضر رہنے کا معاملہ ایوان میں پیش کیا تھا۔ اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ شیخ وقاص اکرم بغیر رخصت کے 40 دن سے زائد سے غیر حاضر ہیں اور رکن قومی اسمبلی 40 دن تک بغیر رخصت کے غیر حاضر ہو تو سپیکر ایوان کے نوٹس میں لاتا ہے اور آرٹیکل 64 کے تحت ایسے رکن کی نشست کو خالی قرار دے سکتا ہے۔ سپیکر ایاز صادق نے اجلاس کے دوران رولنگ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بطور اسپیکر، آئین اور قواعد کے مطابق ایوان کو آگاہ کر رہے ہیں کہ رول 44 (1) کے تحت شیخ وقاص اکرم اسمبلی سیشن کے 40 دنوں سے بغیر کسی رخصت لیے مسلسل غیر حاضر ہیں، تحریک پیش ہونے اور منظور ہونے کی صورت میں ان کی نشست خالی قرار دی جا سکتی ہے۔سپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ قواعد کے مطابق وہ ہر صورت سات دن کے اندر اس تحریک کو ایوان میں رائے شماری کے لیے پیش کرنے کے پابند ہیں، جبکہ ایوان تحریک کو مؤخر، مسترد یا منظور کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ جس کے بعد لیگی رہنما نوشین افتخار نے اس حوالے سے تحریک پیش کی تھی جس پر 13اگست کو ووٹنگ ہونا تھی تاہم سپیکر سردار ایاز صادق نے اچانک شیخ وقاص اکرم کی غیر حاضری بارے پیش کی جانے والی تحریک پر ووٹنگ روک دی ہے۔
ذرائع کے مطابق، بدھ کو سپیکر کے دفتر میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ اور طارق فضل چوہدری کی موجودگی میں حکومت اور پی ٹی آئی کے نمائندوں کے درمیان غیر رسمی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات میں سپیکر نے شیخ وقاص اکرم کے خلاف ووٹنگ کو "جذبۂ خیرسگالی” کے تحت مؤخر کرنے کا اعلان کیا۔ حکومتی حلقے اس اقدام کو مذاکرات کے ممکنہ آغاز سے قبل ماحول کو نرم کرنے کی کوشش قرار دے رہے ہیں۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی رہنما سید نوید قمر نے بھی پی ٹی آئی قیادت سے ملاقات کر کے مشورہ دیا کہ جارحانہ حکمت عملی اپنانے کی بجائے سیاسی حل کی راہ اختیار کریں تاکہ حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے ساتھ وسیع تر تعاون کی راہ ہموار ہو سکے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کے اکثریتی رہنما بھی حکومت سے مذاکرات کے حامی ہیں، تاہم حتمی فیصلہ اب بھی جیل میں موجود بانی چیئرمین عمران خان کے ہاتھ میں ہے، جو تاحال حکومتی جماعتوں سے بات چیت سے انکاری ہیں۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ شیخ وقاص اکرم کے خلاف تادیبی کارروائی مؤخر کر کے نون لیگ اور پیپلز پارٹی نے پی ٹی آئی قیادت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر وہ باضابطہ مذاکرات کی میز پر آتی ہے تو ان کی سیاسی بحالی میں مدد دی جا سکتی ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی جانب سے اس پیشکش پر مثبت جواب کے امکانات انتہائی کم ہیں کیونکہ ماضی میں تحریک انصاف کی طرف سے ایسے مواقع ضائع کرنے کی مثالیں موجود ہیں، جب عمران خان نے حکومتی پیشکش پر صرف اسٹیبلشمنٹ سے بات کرنے پر اصرار کیا، مگر اب پارٹی کے اندر یہ سوچ مضبوط ہو رہی ہے کہ عمران خان کی محاذ آرائی کی پالیسی نے پارٹی کے مسائل حل کرنے کی بجائے بڑھائے ہیں۔
پارلیمانی امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کے مطابق، سپیکر ایاز صادق کا یہ فیصلہ محض ایک کیس کو مؤخر کرنے کا نہیں بلکہ ایک ٹیسٹ کیس ہے کہ آیا حکومت اور اپوزیشن اعتماد سازی کے اقدامات کے ذریعے بڑی سیاسی ڈیل کی طرف بڑھ سکتے ہیں یا نہیں۔ ان کے بقول، اگر عمران خان اپنے قریبی حلقوں کے مشوروں کے باوجود پارٹی کے مذاکراتی دھڑے کو کام کرنے دیتے ہیں تو آنے والے مہینے میں سیاسی ماحول میں بڑی تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے۔تاہم اگر یہ نرم رویہ محض وقتی سیاسی حکمتِ عملی ثابت ہوا اور مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچے، تو نہ صرف شیخ وقاص اکرم بلکہ مزید کئی پی ٹی آئی رہنماؤں کو تادیبی کارروائی اور نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، جس سے پی ٹی آئی کی پارلیمانی سیاست کا باب ہمیشہ کیلئے بند ہو جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو بامعنی بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ تاہم، خدشہ ہے کہ عمران خان ایک مرتبہ پھر اس عمل کو روک سکتے ہیں۔ اس رکاوٹ کو دور کرنے کیلئے پی ٹی آئی ارکان نے عمران خان سے گروپ کی صورت میں ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں اپنے موقف پر نظرثانی پر آمادہ کیا جا سکے۔ پی ٹی آئی کے ایک رکن پارلیمنٹ نے الزام عائد کیا کہ عمران خان تک براہِ راست یا بالواسطہ رسائی رکھنے والے بعض غیر منتخب افراد انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ اندیشہ ہے کہ یہ غیر منتخب افراد عمران خان کو قومی اسمبلی سے اجتماعی استعفوں کی پالیسی اپنانے پر مجبور کر سکتے ہیں۔مذاکرات کے حامی گروپ کو امید ہے کہ اس صورتحال میں شاہ محمود قریشی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جو 9؍ مئی سے متعلق تین مقدمات میں بری ہو چکے ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ چند ماہ میں دیگر مقدمات میں بھی انہیں ضمانت مل جائے گی۔جس کے بعد وہ پارٹی کو بات چیت کی طرف لے جا سکتے ہیں۔
