سندھ حکومت کا انتہائی خستہ حال عمارتوں کو گرانے کا فیصلہ

سندھ حکومت نے کراچی میں انتہائی خستہ حال عمارتوں کو فوری طور پر گرانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

یہ فیصلہ لیاری کے علاقے بغدادی میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے افسوسناک واقعے کے بعد کیا گیا، جہاں ایک پانچ منزلہ عمارت زمین بوس ہو گئی تھی۔ واقعے میں 27 افراد جاں بحق ہوئے، جن کا تعلق 6 خاندانوں سے تھا۔

پریس کانفرنس میں سینئر وزیر شرجیل انعام میمن، وزیر بلدیات سعید غنی اور وزیر داخلہ ضیا لنجار نے اجلاس کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔ وزیر بلدیات نے بتایا کہ حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو 10 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سعید غنی کا کہنا تھا کہ میں نے واقعے کے فوراً بعد ڈائریکٹر لیول کے افسران کو معطل کر دیا ہے، اور فی الحال SBCA کے وہ افسران معطل کیے گئے ہیں جو اس وقت علاقے میں تعینات تھے۔ 2022 میں جب یہ عمارت مخدوش قرار دی گئی تھی، اس وقت تعینات افسران کی نشاندہی بھی کی جا رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ کراچی میں اس وقت 51 عمارتیں انتہائی خطرناک قرار دی گئی ہیں۔ کمشنر کراچی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 24 گھنٹوں میں ان عمارتوں کے یونٹس اور رہائشیوں کی تفصیلات فراہم کریں تاکہ فوری انہدام کا عمل شروع کیا جا سکے۔

کراچی : منہدم ہونے والی عمارت کا ریسکیو آپریشن تیسرے روز میں داخل، جاں بحق افراد کی تعداد 27ہوگئی

 

مزید کہا گیا کہ شہر میں کل 588 عمارتیں ایسی ہیں جنہیں خطرناک قرار دیا گیا ہے۔ ان کا ازسرنو جائزہ لیا جائے گا تاکہ معلوم ہو سکے کہ کون سی عمارتیں گرانے کے قابل ہیں اور کن کی مرمت ممکن ہے۔

سعید غنی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فلیٹ یا پلاٹ خریدنے سے پہلے یہ ضرور چیک کریں کہ منصوبے کو متعلقہ اداروں سے باقاعدہ منظوری حاصل ہے یا نہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران شرجیل میمن نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ بھر میں 740 ایسی عمارتیں موجود ہیں جو خطرناک قرار دی گئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی جی سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (SBCA) کو معطل کر دیا گیا ہے، اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ سابق ڈی جی کا اس سانحے میں کیا کردار تھا۔

 

Back to top button