اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کو شٹ اپ کال کیسے دی؟

اسٹیبلشمنٹ اور موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر پر لندن پلان کےتحت اپنی گرفتاری اور موجودہ حکومت کی سہولتکاری کا الزام عائد کرنے والے عمران خان کی طرف سے پس پردہ تعلقات کی بحالی کیلئے منتین اور ترے کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ سینئر صحافی انصار عباسی کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کچھ ریٹائرڈ جرنیلوں کے ذریعے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ دوبارہ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے تاہم انھیں اس میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگرچہ عمران خان کھلے عام فوجی اسٹیبلشمنٹ کو کسی نہ کسی وجہ سے نشانہ بناتے رہتے ہیں، پس پردہ پی ٹی آئی اس کے بالکل برعکس کر رہی ہے۔ یہ پی ٹی آئی کی کوئی حکمت عملی ہو سکتی ہے لیکن آزاد مبصرین کے لیے ایسی تدبیریں پارٹی اور اس کے لیڈر کو ناقابل اعتبار اور ناقابل اعتماد بنا دیتے ہیں۔

انصار عباسی کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی ذرائع نے بتایا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ نے پارٹی کی کوششوں پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پی ٹی آئی ورکنگ ریلیشن شپ کے لیے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اپنا کھویا ہوا رابطہ دوبارہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ ان کوششوں میں شامل پی ٹی آئی رہنماؤں میں سے ایک نے کہا کہ پارٹی نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کو یقین دلانے کی بھرپور کوشش کی ہے کہ وہ اقتدار میں آنے کے بعد کسی سے انتقام نہیں لے گی اور وضاحت کی ہے کہ عمران خان نے اپنے عوامی بیانات میں جن لوگوں کا نام لیا ان کو بھی نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔ لیکن ان تمام یقین دہانیوں اور کوششوں کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے ہیں۔

گزشتہ نومبر میں پاک فوج میں کمان کی تبدیلی کے ساتھ پی ٹی آئی نے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تمام رابطے منقطع کر لیے تھے۔ اس حقیقت کا اعتراف عمران خان اور ان کی پارٹی کے بعض رہنما ایک سے زائد مرتبہ کر چکے ہیں۔ خان صاحب اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ ان کی موجودہ آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات یا بات کرنے کی خواہش کے باوجود دوسری طرف مکمل خاموشی ہے۔

تاہم آرمی چیف نے اعلیٰ کاروباری شخصیات سے اپنی حالیہ بات چیت میں واضح کیا تھا کہ وہ سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دور میں عمران خان کی حکومت کے خاتمے کے بعد بھی پی ٹی آئی کے کچھ رہنما نہ صرف اس وقت کے آرمی چیف بلکہ آئی ایس آئی کے سینئر افسران سے بھی رابطے میں تھے۔ جبکہ نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے خود کو خالص پیشہ وارانہ امور پر فوکس رکھا ہے.

آئی ایس آئی کے وہ اعلیٰ افسران جو ماضی میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے بات چیت کرتے تھے یا ان کی کال وصول کرتے تھے وہ بھی اب کسی قسم کی بات چیت کے لیے دستیاب نہیں ہیں۔ ہفتوں قبل فواد چوہدری نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ پی ٹی آئی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کسی بھی سطح پر کوئی رابطہ نہیں ہے۔ تاہم فوادچوہدری اپنی پارٹی کی جانب سے بہتر ورکنگ کوآرڈینیشن کے لیے ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ پی ٹی آئی کے کھوئے ہوئے رابطوں کو بحال کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے رابطے کی عدم موجودگی میں دونوں فریقوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔

دوسری جانب چند روز قبل سابق اسپیکر قومی اسمبلی اور پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد قیصر نے کہا تھاکہ عمران خان ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے لڑائی نہیں چاہتے۔ دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ عمران خان کا ایجنڈا اسٹیبلشمنٹ کی نمائندگی کرنے والوں سمیت کسی سے ذاتی رنجش کے بغیر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی جانب لے جانا ہے۔ اسد قیصر نے یاد دلایا کہ عمران خان نے ایک عوامی بیان میں ان لوگوں کو بھی معاف کر دیا ہے جنہوں نے پی ٹی آئی کے گزشتہ سال لانگ مارچ کے دوران وزیرآباد میں مبینہ طور پر ان کے قتل کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اسد قیصر نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کردیا کہ عمران خان اقتدار میں آنے کے بعد کسی کے خلاف ذاتی دشمنی کر سکتے ہیں۔تاہم عمران خان اور تحریک انصاف کے تمام تر دعوؤں اور یقین دہانیوں کے باوجوہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ ان پر اعتبار کرنے کو بالکل تیار نہیں۔

خیال رہے کہ عمران خان کی جانب سے ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کے تمام ذریعوں کی ناکامی کے بعد اسٹبلشمنٹ سے رابطے کا واحد سہارا صدر مملکت عارف علوی ہی بچتے ہیں جنہیں بروئے کار لانے کی کوشش کی گئی اورذرائع کے مطابق انہوں نے اس معاملے میں سرگرمی دکھائی بھی ، تاہم متعلقہ اداروں کے حکام کی جانب سے انہیں واضح جواب دیا گیا کہ فوجی اسٹیببلشمنٹ عدالتی معاملات اور انتظامی امور میں مداخلت نہیں کر  سکتی اور نہ ہی ان کی کسی سیاسی جماعت سے ذاتی مخاصمت ہے اس لئے اداروں کو سیاسی تنازعات میں گھسیٹنے کے بجائے متعلقہ فورمز پر ہی بات کی جائے تو مناسب ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس جواب پرتحریک انصاف کی قیادت اور زمان پارک کے درودیوار پر مایوسی کے سائے گہرے ہو گئے جس کے بعد عمران خان نے حکومت سے بات چیت کے ذریعے معاملات حل کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔

حکومت سے صرف آئین و قانون پر مذاکرات کریں گے

Back to top button