بندیال کے چہیتے رجسٹرار کو نکالنا ضروری کیوں تھا؟

شاہ سے زیادہ شاہ سے وفاداری دکھانے کے چکر میں ایک سرکلر کے ذریعے سپریم کورٹ کے سینیئر جج جسٹس فائز عیسی کا فیصلہ مسترد کرنے والے چیف جسٹس کے چہیتے رجسٹرار عشرت علی کی چھٹی ہو گئی۔ جسٹس قاضی فائز عیسی کے تحفظات پر مبنی خط کے بعد وفاقی حکومت نے نہ صرف رجسٹرار سپریم کورٹ کو عہدے سے ہٹا دیا ہے بلکہ ان کو او ایس ڈی بنا دیا ہے۔

حکومت نے سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی کی عہدے سے برطرفی کا نوٹیفیکیشن جاری کرتے ہوئے انہیں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن رپورٹ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان ایڈمنیسٹریٹیو سروس کے گریڈ 22 کے افسر عشرت علی ڈیپیوٹیشن پر رجسٹرار سپریم کورٹ کے عہدے پر فائز تھے تاہم اب ان کی رجسٹرار کی حیثیت سے خدمات واپس لی جاتی ہیں۔ عشرت علی کو تاحکم ثانی او ایس ڈی بناتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو رپورٹ کرنے کو کہا گیا ہے۔

قبل ازیں زیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے ایک ہنگامی اجلاس نے قاضی فائز عیسیٰ کے سپریم کورٹ کے رجسٹرار کو لکھے گئے خط کے بعد رجسٹرار کی خدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا تھا۔وفاقی کابینہ نے عدالت عظمیٰ کے حکم کے خلاف رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے سرکولر جاری کرنے کے معاملے پر غور کیا جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔وفاقی کابینہ نے صدر ڈاکٹر عارف علوی سے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ 2023 پر فی الفور دستخط کریں تاکہ ملک کو آئینی وسیاسی بحران سے نجات مل سکے۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سپریم کورٹ نے میڈیکل کے طلبہ کو حافظ قرآن ہونے کی بنیاد پر اضافی نمبر دینے سے متعلق جسٹس قاضی عیسیٰ کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ کا فیصلہ جاری کیا تھا جس میں عدالت عظمیٰ نے رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری یعنی ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کی تجویز دے دی تھی۔عدالت عظمیٰ کا فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا ،جسٹس شاہد وحید نے دو ججز جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس جسٹس امین الدین کے فیصلے سے اختلاف کیا تھا، 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ سینیئر جج جسٹس فائز عیسیٰ نے تحریر کیا تھا۔

 یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے اگلے ہی روز31 مارچ کو سپریم کورٹ رجسٹرار کی جانب سے ایک سرکولر جاری کیا گیا تھا جس کے ذریعے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اس کا اطلاق پہلے سے جاری الیکشن التوا کیس میں نہیں ہوتا۔ سرکلر میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان کے فیصلے میں آرٹیکل 184 (3) سے متعلق آبزرویشن ازخود نوٹس کے زمرے میں نہیں آتی۔سرکلر میں کہا گیا تھا کہ سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین کا چیف جسٹس کے از خود نوٹس اور بینچ کی تشکیل کے اختیارات سے متعلق فیصلہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ صحافیوں سے متعلق 5 رکنی بینچ کے فیصلے کے منافی ہے۔سرکلر میں مزید کہا گیا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس امین الدین خان نے جو فیصلہ دیا وہ 3 رکنی بینچ کا فیصلہ ہے جبکہ سپریم کورٹ کا 5 رکنی بینچ پہلے ہی اس معاملے کو طے کر چکا ہے کہ ازخود نوٹس کا اختیار صرف سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہی استعمال کر سکتے ہیں۔

بعد ازاں جسٹس فائز عیسیٰ نے 3 اپریل پیر کے روز جاری کردہ فیصلے میں یہ لکھا ہے کہ میں 31 مارچ کا سرکولر دیکھ کر حیران رہ گیا۔ سرکولر 29 مارچ کو دیے گئے 3 رکنی بینچ کے فیصلے کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ عدالتی حکم نامہ کی تنسیخ کا سرکلر جاری کرنے پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو لکھے خط میں کہا تھا کہ بطور رجسٹرار سپریم کورٹ کورٹ آپ کے پاس عدالتی حکم کے خلاف سرکلر جاری کرنے کا اختیار نہیں تھا، چیف جسٹس سپریم کورٹ انتظامی نوعیت کے احکامات جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ بطور رجسٹرار سپریم کورٹ آئین و قانون کے خلاف جاری سرکلر فوری واپس لیا جائے، انہوں نے لکھا کہ آئین وقانون کی خلاف ورزی پر آپ فوری طور پر رجسٹرار سپریم کورٹ کا عہدہ چھوڑ دیں، آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ رجسٹرار آفس میں رہنے کے اہل نہیں ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے خط میں تحریر کیا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اپنے افسر کو فوری واپس بلائے اور مناسب سمجھے تو رجسٹرار سپریم کورٹ کے خلاف آئین کی خلاف ورزی پر قانون کے مطابق کارروائی کرے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے رجسٹرار سپریم کورٹ کو تحریرکردہ خط کی کاپی چیف جسٹس پاکستان، سیکریٹری کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو بھی ارسال کی تھی۔

 جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے رجسٹرار سپریم کورٹ عشرت علی سے فوری طور پر عہدے سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

خط میں جسٹس قاضی فائز عیسٰی نے رجسٹرار کو مخاطب کرتے ہوئے مزید لکھا تھا کہ آپ کو سینیئرافسر کے طور پر اپنی آئینی ذمہ داری کا ادراک ہونا چاہیے، یہ کیس سوموٹو نمبر 4/2022 آرٹیکل 184 تھری کے ازخود نوٹس کے تحت سنا گیا، سپریم کورٹ اور آپ کے مفاد میں بہتر  یہی ہے 31 مارچ کا سرکلر فوری واپس لیا جائے۔ سرکلر  واپس لے کر ان تمام لوگوں کو مطلع کیا جائے جن کو بھیجا گیا تھا۔خط میں انہوں نے لکھا کہ آئین کے تحت بیوروکریسی کو جوڈیشری سے الگ رہنا چاہیے، دیگر شہریوں کی طرح رجسٹرار بھی آئین کے آرٹیکل 5 کی شق 2 کے پابند ہیں۔انہوں نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ سینئر افسر کے طور پر آپ کو آئین اور آئین میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے اثرات کا معلوم ہونا چاہیے، سرکلر میں جس فیصلے کا ذکر کیا گیا وہ موجودہ فیصلے سے مطابقت نہیں رکھتا۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے  رجسٹرار سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ آپ کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ آپ  رجسٹرار آفس میں رہنے کے اہل نہیں، آرٹیکل 175/3 کے تحت رجسٹرار آفس میں رہنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسٰی کا خط سامنے آنےکے بعد وفاقی حکومت نے رجسٹرار عشرت علی کی چھٹی کرا دی ہے۔

ممنوعہ ادویات کا استعمال، باکسر عامر خان پر 2 سال کی پابندی عائد

Back to top button