الیکشن کمیشن مبینہ انتخابی دھاندلی کی تحقیقات کیسے کریگا؟

پاکستان میں انتخابی عمل کے دوران دھاندلی کی شکایات سامنے آنا کوئی نئی بات نہیں ہے، موجودہ الیکشن میں بھی جہاں سیاسی جماعتیں اپنی اپنی کامیابیوں پر جشن منا رہی ہیں وہیں ہارنے والے امیدوار اپنے مخالفین کے خلاف دھاندلی کی شکایات کرتے ہوئے بھی نظر آ رہے ہیں۔انتخابات میں ہار جانے والے سیاسی کارکنان اور انتخابی امیدوار یہ شکایت کرتے ہوئے نظر آئے کہ وہ فارم 45 کے مطابق جیت رہے تھے لیکن جب فارم 47 کے ذریعے ووٹوں کی حتمی گنتی سامنے آئی تو وہ الیکشن ہار چکے تھے، گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریکِ انصاف کے امیدواروں کی جانب سے مبینہ دھاندلی سے متعلق دائر کی گئی 18 درخواستیں مسترد کر دی تھیں اور انھیں الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کی تھی۔لاہور کے حلقے این اے 128 سے پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار وکیل سلمان اکرم راجہ بھی پیش ہوئے تھے اور ان کی جانب سے بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ انھیں ووٹوں کی گنتی کے دوران وہاں موجود رہنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی اور نہ ہی ان کے پولنگ ایجنٹ کو فارم 45 فراہم کیا گیا۔فارم 45 میں پولنگ سٹیشن کا نمبر، حلقے کا نام، رجسٹرڈ ووٹرز کی کُل تعداد، ڈالے گئے کُل ووٹوں کی تعداد اور کس امیدوار کے حق میں اس پولنگ سٹیشن میں کتنے ووٹ پڑے ہیں یہ معلومات درج ہوتی ہیں۔ فارم 45 کے ذریعے ہر امیدوار آزادانہ طور پر یہ تصدیق کرسکتا ہے کہ پولنگ سٹیشن میں ان کے حق میں کتنے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔فارم 47 میں یہ بھی لکھا ہوتا ہے کہ ڈالے گئے ووٹوں میں سے کتنے ووٹ تکنیکی طور پر مسترد ہوئے اور یہ مسترد شدہ ووٹ کن کن امیدواروں کے حق میں ڈالے گئے تھے۔انتخابات کی نگرانی کرنے والے غیر سرکاری ادارے فافن (فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک) کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 92 تمام ریٹرنگ افسران کو پابند کرتا ہے کہ وہ فارم 47 یعنی ووٹوں کی گنتی اور نتائج کا اعلان الیکشن لڑنے والے امیدوار، اس کے پولنگ ایجنٹ یا مبصر کی موجودگی میں کرے۔فافن کے مطابق پاکستان بھر میں 260 میں سے 135 قومی اسمبلی کے حلقوں میں انتخابی قوانین کے مطابق کام نہیں کیا گیا جس سے انتخابی شفافیت پر سوال اُٹھے۔ریٹرنگ افسران نے 135 حلقوں میں فیری اینڈ فری الیکشن نیٹ ورک کے مبصرین کو ووٹوں کی گنتی کے عمل کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔‘ فافن کی رپورٹ کے مطابق ’قومی اسمبلی کے 65 حلقوں میں ریٹرنگ افسران نے ایک یا ایک سے زائد امیدواروں یا اُن کے پولنگ ایجنٹس کو انتخابی گنتی کی تیاری کے موقع پر موجود رہنے کی اجازت نہیں دی۔رپورٹ کے مطابق ’ان 65 حلقوں میں سے 25 حلقوں میں پاکستان مسلم لیگ ن، 24 میں پاکستان تحریکِ انصاف کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار، پانچ میں پاکستان پیپلز پارٹی، چار میں آزادر امیدوار، تین میں پاکستان مسلم لیگ ق اور ایک، ایک میں استحکام پاکستان پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی اور پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے امیدوار کامیاب ہوئے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابی شکایات پر سماعت کے لیے بینچز تشکیل دے دیے گئے ہیں، کمیشن کے مطابق اب تک 67 انتخابی شکایات دائر ہو چکی ہیں جن کی سماعت کے لیے دو بینچ تشکیل دیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن پنجاب اور صوبہ خیبر پختونخوا میں 29 درخواستوں پر سماعت کرے گا جبکہ بلوچستان اور سندھ کے ارکان 38 درخواستوں کی سماعت کریں گے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ کوئی بھی امیدوار انتخابات میں مبینہ دھاندلی سے متعلق شکایت الیکشن کے دن سے 60 دن میں درج کروا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ الیکشن ٹریبونل کی ذمہ داری ہے کہ وہ شکایت پر فیصلہ 120 دن میں کرے لیکن اکثر و بیشتر ایسا نہیں ہوتا اور کیسز برسوں بھی چلتے رہتے ہیں۔پاکستان میں انتخابی امور پر نظر رکھنے والے سینیئر صحافی و تجزیہ کار عبدالجبار ناصر کہتے ہیں کہ انتخابی عمل میں کسی بھی قسم کی بے ضابطگی کو چیلنج کرنے کا پہلا قانونی پلیٹ فارم الیکشن کمیشن آف پاکستان ہے، ٹریبونل مکمل چھان بین کرتا ہے اور جاری کیے گئے نتائج کا آڈٹ کرتا ہے۔الیکشن ٹریبونل کے فیصلے اکثر اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج ہو جاتے ہیں اور پھر معاملات التوا کا شکار ہو جاتے ہیں۔
