گیس کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کیوں کیا جا رہا ہے؟

ملک بھر میں گیس کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا ہے، نگران حکومت کے دور میں گیس تیسری مرتبہ مہنگی کی گئی ہے، مجموعی طور پر گیس کی قیمتوں میں 67 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک جانب اس بڑے اضافے سے جہاں مہنگائی کے شکار عام شہری مزید متاثر ہوں گے وہیں یہ اضافہ آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے ناگزیر تھا، سرکاری اعلامیے کی تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رہائشی صارفین جو پروٹیکٹڈ کیٹیگری میں شمار ہوتے ہیں اور سب سے کم یعنی اعشاریہ 25 ہیکٹو کیوبک میٹر گیس استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے بھی قیمتوں میں 65 فی صد اضافہ کیا گیا ہے، اسی طرح کمرشل صارفین کے لیے بھی گیس کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سب سے زیادہ اضافہ فرٹیلائزرز فیڈ کیلئے استعمال ہونے والے گیس کنکشنز کے لیے ہوا ہے جس سے اب ایسی فیکٹریوں کو گیس 580 کے بجائے 1597 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو میسر ہوگی تاہم سرکاری اعلامیے کے مطابق سیمنٹ پلانٹس کے لیے گیس کی قیمتوں میں فی الحال اضافہ نہیں کیا گیا، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم فروری سے ہوگا۔ توانائی امور کے ماہر محمد عارف کا کہنا ہے کہ جس کے گھر ایک ہزار روپے گیس کا بل آتا تھا اب وہ 1200 روپے ادا کرے گا اور اسی طرح 4 ہزار روپے کے لگ بھگ جس کا بل آتا تھا اب وہ تقریباً پانچ ہزار روپے ادا کرے گا، اس کا اثر مجموعی مہنگائی پر بھی پڑے گا کیوںکہ گھریلو صارفین کے ساتھ کمرشل اور انڈسٹریل صارفین کے لیے بھی قیمتوں میں اضافہ ہو چکا ہے۔آئی ایم ایف کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں گیس سیکٹر کا سرکلر ڈیبٹ یعنی گردشی قرضہ گزشتہ مالی سال کے اختتام پر 2100 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا جو جی ڈی پی کا ڈھائی فی صد ہے اور اس میں گزشتہ سال کی نسبت 28 فی صد اضافہ دیکھا گیا تھا اور اس نقصان کی وجہ سے گیس کی قیمت کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔آئی ایم ایف نے نگراں حکومت کی جانب سے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں نومبر میں کیے گئے اضافے کو سراہا تھا اور اسے ملک کے توانائی سیکٹر کی بحالی کے لیے دلیرانہ فیصلہ قرار دیا تھا۔توانائی کے ماہر محمد عارف خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گیس چوری یا اس کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ ہے جس سے ملک میں کام کرنے والی دونوں سرکاری گیس کمپنیوں یعنی سوئی سدرن گیس کمپنی اور سوئی ناردرن گیس لمیٹڈ کو سالانہ اربوں کا نقصان ہوتا ہے، پاکستان میں قدرتی گیس پائپ لائن کے ذریعے گیس گھروں تک فراہم کی جاتی ہے اور یہ سہولت زیادہ تر شہری علاقوں میں ہے اور ملک کی کُل آبادی کا صرف 27 فی صد ہی پائپ لائنز کے ذریعے گیس حاصل کرتا ہے اور باقی لوگ ایل پی جی سیلنڈرز استعمال کرتے ہیں۔ جب کہ ملک میں قدرتی گیس کے ذخائر مسلسل کم ہوتے جا رہے ہیں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں گیس کی کھپت 1971 میں دو ارب 60 کروڑ کیوبک میٹر سے بڑھ کر 2021 میں 45 ارب کیوبک میٹر ہوچکی ہے۔مقامی گیس کی پیداوار میں کمی کے باوجود گزشتہ دو دہائیوں میں کھپت میں 94 فی صد اضافہ ہوا ہے۔گزشتہ کئی برس سے گیس کی تقسیم اور ٹیرف کی پالیسیوں کی وجہ سے اس کی مانگ کو مصنوعی طور پر بڑھایا گیا ہے جیسا کہ 2006 میں گیس کی طلب زیادہ اور رسد کم ہونے کے باوجود حکومت نے پیٹرول کے متبادل کے طور پر سی این جی کو ملک میں متعارف کرایا تھا اور اس کی قیمت بھی اس وقت نمایاں

پاکستان میں مبینہ انتخابی دھاندلی کی شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں

طور پر کم رکھی گئی تھی۔

Back to top button