عمران خان نے اخلاقی گراوٹ میں’’آغا مدہوش‘‘ کو بھی ہرا دیا؟

بشریٰ بی بی سے عدت میں نکاح بھی عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا‘ یہ غلطی اگر اس ملک میں کسی دوسرے سے سرزد ہوئی ہوتی تو اس کی لاش چوک پر لٹکی ہوتی اور کوئی اس کی تدفین تک کے لیے تیار نہ ہوتا‘. عمران خا ن اس قدر منفرد و ممتازشخصیت کے حامل ہیں کہ ان کا ماضی کے کسی بھی سیاستدان سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔کبھی یوں لگتا ہے کہ وہ جنسی بے اعتدالیوں کے باعث اس وقت کے فوجی حکمران جنرل یحییٰ خان عرف ’’آغا مدہوش‘‘کا پرتو ہیں . جب عمران خان پارٹیوں میں مدہوش پائے جاتے تھے، منشیات کے نشے میں دھت رہتے تھے اور دیگر مکروہات میں ڈوبے رہتے تھے، تب پچیس کروڑ عوام اور ان کے الام کیوں ان کے ذہن سے رفع ہو گئے تھے؟ ان خیالات کا اظہار سینئر سیاسی تجزیہ کاروں نے سابق وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے بانی چیرمین عمران خان کی سیاسی اور ذاتی زندگی پر تبصرہ کرتے هوئے کیا ہے. اپنی ایک تحریر میں سینئر کالم نگار جاوید چودھری نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں عمران خان نامی شخص قدرت سے کوئی اسپیشل مقدر لکھوا کر آیا ہے‘ پچاس سال سے لائم لائیٹ میں ہے۔ اس آدھی صدی میں اس نے کیا کیا نہیں کیا اور اس کا کس کس کے ساتھ سکینڈل نہیں بنا‘ زینت امان سے لے کر ہاجرہ خان تک ایک لمبی فہرست ہے‘ یہ خود اپنے منہ سے کہتا تھا ’’میں پلے بوائے تھا‘‘ اس کے منہ سے بھی کیا کیا غلط الفاظ نہیں نکلے‘ جاوید چودھری کہتے ہیں کہ عمران نے کیا کیا یوٹرن نہیں لیے‘ ٹیریان وائیٹ کی عمر اس وقت 31 سال ہے اور یہ عمران خان کے نام کا ٹیگ گلے میں لٹکا کر پوری دنیا میں پھر رہی ہے۔ اس کی پرورش بھی جمائما خان نے کی اور یہ عمران خان کے بیٹوں کے ساتھ پل کر جوان ہوئی‘ یہ سکینڈل بھی 1996سے خان کا پیچھا کر رہا ہے مگر آج تک اس کا بال تک بیکا نہیں ہوا‘ کرکٹ کے بعد شوکت خانم کینسر اسپتال‘ اسپتال کے بعد نمل یونیورسٹی‘ نمل یونیورسٹی کے بعد پاکستان تحریک انصاف اور پھر وزارت عظمیٰ اور آخر میں ساری ریاست ایک سائیڈ پر اور خان بلا پکڑ کر دوسری سائیڈ پر‘اس شخص کا ساڑھے تین سال کی انتہائی بری پرفارمنس بھی کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ لوگ آج بھی ان کے جھوٹ پر اپنے سارے سچ قربان کر دیتے ہیں‘ بشریٰ بی بی سے عدت میں نکاح بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکا‘ یہ غلطی اگر اس ملک میں کسی دوسرے سے سرزد ہوئی ہوتی تو اس کی لاش چوک پر لٹکی ہوتی اور کوئی اس کی تدفین تک کے لیے تیار نہ ہوتا‘ یہ عمران کا آہنی مقدر ہے جس پر کوئی تیر‘ کوئی گولی اثر نہیں کرتی‘ یہ بہر حال عمران خان کی خوش قسمتی نہیں بلکہ پوری قوم کی بدقسمتی ہے ‘ اللہ جب کسی قوم کی مت مارتا ہے تو پھر اسے سامنے پڑی حقیقتیں بھی نظر نہیں آتیں اور اللہ نے ہماری مت مار دی ہے چناں چہ آپ نتیجہ دیکھ لیں‘ . سینئر سیاسی تجزیہ کار عمار مسود نے لکھا ہے کہ خاور مانیکا نے خود پاکستان کے سب سے بڑے چینل کے سب سے اہم شو پر آکر اپنی سابقہ اہلیہ بشری بی بی کے بارے میں گفتگو کی اور ان پر بدچلنی کے الزامات لگائے۔ اب کوئی بتائے کہ اس پر میڈیا بات کرے یا نہ کرے۔ سابقہ خاتون اول کے سابقہ شوہر خود عدالت میں درخواست لے کر گئے کہ ان کی بیوی نے عدت میں عمران خان سے شادی کی اس لیے اس نکاح کو غیر شرعی قرار دیا جائے۔ اب کوئی بتائے کہ کورٹ کے رپورٹر اس پر رپورٹنگ کریں یا نہ کریں۔ عمران خان کی ذاتی زندگی بھارتی گھٹیا ڈراموں کی طرح ایک ڈرامہ بن چکی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہی صاحب کو بھاری بھرکم مسائل تلے دبے پچیس کروڑ عوام پر مسلط کردیا گیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ جب عمران خان ایک کے بعد ایک شادیاں کیے جارہے تھے، پارٹیوں میں مدہوش پائے جاتے تھے، منشیات کے نشے میں دھت رہتے تھے اور دیگر مکروہات میں ڈوبے رہتے تھے، تب پچیس کروڑ عوام اور ان کے الام کیوں ان کے ذہن سے رفع ہو گئے تھے؟ سینئر کالم نگار محمد بلال غوری نے اپنے کالم میں لکھا ہے کہ عمران خان کے سحر میں مبتلا دانشورانِ عصر جن کا رزق ان کی مقبولیت سے وابستہ ہے،وہ کبھی بھٹو سے ان کا موازنہ کرتے ہیں تو کبھی انہیں قائداعظم سے تشبیہ دیتے ہیں۔ ان کی پیروی کرنے والے دانشور نہ صرف ماضی کی قد آور شخصیات میں ان کی مشابہت کی سچی جھوٹی روایات ڈھونڈتے ہیں بلکہ حالات و واقعات کے تانے بانے ماضی سے جوڑنے کیلئے دروغ گوئی سے بھی گریز نہیں کرتے۔ بلال غوری کا کہناہے کہ یوں تو عمران خا ن اس قدر منفرد و ممتازشخصیت کے حامل ہیں کہ ان کا ماضی کے کسی بھی سیاستدان سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا ۔کبھی یوں لگتا ہے کہ وہ جنسی بے اعتدالیوں کے باعث اس وقت کے فوجی حکمران ’’آغا مدہوش‘‘کا پرتو ہیں عمران خان کئی طرح کے مبالغوں اور مغالطوں کا شکار ہیں۔ہاں البتہ انہوں نے سانحہ مشرقی پاکستان کے مرکزی کردار جنرل یحییٰ خان کو ضرور مات دیدی ہے اور دونوں شخصیات میں وردی کے سوا کوئی فرق نہیں۔ یاد رہے کہ 25 مارچ 1969ء کو ایوب خان نے قوم سے خطاب میں اقتدار سے الگ ہونے کا اعلان کر دیا جس کے بعد یحیٰی خان باقاعدہ مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کر دیا. یحییٰ خان کو انتہا کے شرابی کے طور پر جانا جاتا تھا شراب میں انکی ترجیح وہسکی تھی۔یحیٰی خان کا دورِ حکومت پاکستان کا سیاہ ترین دور تھا جب پاکستان ٹوٹ رہا تھا تو پاکستان کا ایوانِ صدر عملی طور پر کنجر خانہ بنا ہوا تھا۔اُس دور کی اندر کی کہانی سابق آئی جی پنجاب سردار محمد چوہدری نے بیان کی کہ
"یحیٰی خان شراب اور عورتوں کا رسیا تھا اس کی قریبی دوست اور گھریلو ساتھی اقلیم اختر تھیں ان کے قریبی تعلقات کی بنا پر وہ جنرل یحیی کو “آغا جانی“ کے نام سے پکارتی تھیں اور ان تعلقات کی بنیاد پر وہ نہایت مقبول اور انتہائی اختیارات کی حامل شمار ہوتی تھیں۔ اسی طاقت اور اختیار کی وجہ سے انھیں جنرل رانی کہا جاتا تھا. اس دور کے بارے میں بنائی گئی ایک رپورٹ میں 500 سے زائد خواتین کے نام شامل ہیں جنہوں نے اس ملک کے سب سے ملعون حاکم کے ساتھ تنہائی میں وقت گزارا اور بدلے میں سرکاری خزانے سے بیش بہا پیسہ اور دیگر مراعات حاصل کیں۔ جنرل نسیم ، حمید ، لطیف ، خداداد ، شاہد ، یعقوب ، ریاض پیرزادہ ، میاں اور کئی دوسروں کی بیویاں باقاعدگی سے یحیٰ کے حرم کی زینت بنتی رہیں۔ یہاں تک کہ جب ڈھاکہ میں حالات ابتر تھے۔ یحیٰ خان لاہور کا دورہ کرنے آتے اور گورنر ہاوس میں قیام کرتے تھے۔ جہاں ان کے قیام کے دوران دن میں کم از کم تین بار ملکہ ترنم نور جہاں مختلف قسم کے لباس، بناو سنگھار اور ہیر سٹائل کے ساتھ ان سے ملاقات کرنے تشریف لے جاتی تھیں۔ اور رات کو نور جہاں کی
PTI انٹرا پارٹی الیکشن کے خلاف 14درخواستوں پر کاروائی شروع ؟
حاضری یقینی ہوتی تھی۔
